49017: ابرو كے بال رنگنا


كيا ابرو كى تشقير ـ يعنى رنگنا ـ جائز ہے ؟

الحمد للہ:

معاصر علماء كا كرام ابرو رنگ كر باريك كرنے ميں اختلاف ہے كچھ علماء تو اسے ممنوع قرار ديتے ہيں، جيسا كہ مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ذيل سوال كے جواب ميں درج ہے:

سوال:

ان آخرى ايام ميں عورتوں كے درميان ابرو رنگنے كا رواج عام ہو چكا ہے، كہ عورتيں اوپر اور نيچے سے عورتيں ابرو ايسے رنگتى ہيں جو بالكل نمص يعنى بال ا كھيڑنے كے مطابق كہ دونوں ابرو باريك كيے جاتے ہيں، اور مخفى نہيں كہ يہ عادت يورپ كى تقليد اور نقل كرتے ہوئے پيدا ہوئى ہے، اور پھر يہ مادہ تو ميڈيكلى طور پر بھى خطرناك ہے، اور اس كا نقصان اور ضرر لازمى ہے، اس طرح كے فعل كا حكم كيا ہے ؟

مستقل فتوى كميٹى نے اس موضوع پر بحث و تمحيث كے بعد درج ذيل جواب ديا:

مذكورہ بالا طريقہ سے اوپر اور نيچے سے ابرو رنگنے جائز نہيں كيونكہ اس ميں اللہ تعالى كى پيدا كردہ صورت ميں تبديلى اور شرعا حرام نمص كے ساتھ مشابہت ہوتى ہے، كيونكہ يہ بھى اس " نمص " كے معنى ميں ہے، اور اس كے ساتھ اور بھى حرمت زيادہ اس ليے ہو گى كہ يہ چيز كفار كے ساتھ مشابہت اور ان كى نقالى كرتے ہوئے كيا گيا ہے، يا پھر اس كے استعمال ميں جسم اور بالوں كو ضرر و نقصان ہے.

اس ليے كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم اپنے ہاتھوں كو ہلاكت ميں مت ڈالو ﴾.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" نہ كسى كو نقصان دو، اور نہ ہى خود نقصان اٹھاؤ "

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے . اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء فتوى نمبر ( 21778 ) بتاريخ ( 29 / 12 / 1421 ھـ)

اور شيخ عبد اللہ بن جبرين حفظہ اللہ كہتے ہيں:

" ميرى رائے يہ ہے كہ ابرؤں كے بالوں كو رنگنا اور ان كا رنگ تبديل كرنا جائز نہيں، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابروؤں كے بال اكھيڑنے والى اور ايسا كروانے والى اور اللہ تعالى كى پيدا كردہ صورت ميں تبديلى كرنے واليوں پر اللہ تعالى نے لعنت فرمائى ہے.

اور ان ابرؤوں كے مابين اختلاف كى اللہ تعالى كى حكمت ہے كہ كسى كے بال زيادہ ہيں، تو كسى كے كم، اور كسى كے لمبے اور كسى كے چھوٹے جس سے لوگوں كے مابين امتياز ہوتا ہے، اور ہر شخص اپنى خصوصيت كے ساتھ پہچانا جاتا ہے، اس ليے ابرو كے بال رنگنا جائز نہيں، كيونكہ اللہ كى پيدا كردہ صورت ميں تبديلى ہے.

ديكھيں: فتاوى المراۃ جمع و ترتيب خالد الجريسى ( 134 ).

اور كچھ اہل علم اسے مباح قرار ديتے ہيں، جن ميں شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ شامل ہيں، اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 8605 ) اور ( 11168 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اس ليے علماء كرام كے ا ختلاف كى بنا پر يہ مسئلہ اور معاملہ شبہ كے مقام پر ہوا.

اس ليے بہتر و اولى اور احتياط اسى ميں ہے كہ ايسا نہيں كرنا چاہيے.

اور جو اہل اجتھاد ميں سے ہو يعنى مجتھد كے درجہ ميں ہو ت واسے اپنى رائے پر عمل كر لينا چاہيے، اور جو شخص اہل ترجيح ميں سے ہو تو اس مسئلہ ميں اس كے نزديك جو راجح ہو اس پر عمل كرے، اور ايك عام شخص كسى ثقہ اور پختہ عالم دين كے فتوى پر عمل كر لے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments