Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
49040

ايك شخص نے رمضان كےعلاوہ واجب روزہ كي حالت ميں بيوي سے جماع كرليا

ايسے شخص كےبارہ ميں كيا حكم ہے جس نے رمضان كےعلاوہ واجب روزہ كي حالت ميں بيوي سے جماع كرلياہو؟

الحمد للہ :

فضيلۃ الشيخ سليمان بن ناصر العلوان حفظہ اللہ تعالي سےمندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ايسے شخص كا حكم كيا ہوگا جس نے رمضان كےعلاوہ كسي واجب روزہ كي حالت ميں بيوي سے جماع كرليا ؟

شيخ كا جواب تھا:

علماء كرام اس پر متفق ہيں كہ رمضان المبارك ميں دن كےوقت جماع كرنے سے كفارہ واجب ہے چاہے انزال ہويا نہ ہو، اور اس سے صرف مكرہ ( يعني جس پر جبر كيا گيا ہو) اور جاھل اور بھول جانے والا ہي مستثني ہوگا علماء كرام كا صحيح قول يہي ہے.

اور جب مني كا خروج تو ہو ليكن دخول نہ ہوا ہو تو اكثر اہل علم كے ہاں قضاء واجب ہوگي، اورجب دخول ہو جائےليكن نزول نہ ہو تو كفارہ اور قضاء دونوں ہي واجب ہونگے، لھذا كفارہ دخول كےساتھ مربوط ہے نہ كہ انزال كےساتھ.

اور پھر رمضان المبارك ميں دن كےوقت روزے كي حالت ميں جماع كرنے سے كفارہ واجب ہوتا ہے اس كےعلاوہ نہيں، لھذا اگر كسي نے واجب روزہ يعني نذر يا واجب روزہ كي قضاء وغيرہ ميں جماع كرليا اس پر كفارہ واجب نہيں ہوگا، جمہور علماء كرام كا يہي قول ہے اور دلائل كا ظاہر بھي يہي ہے.

اور كئي ايك اہل علم كا يہ بھي كہنا ہےكہ:

اگر كسي شخص نے رمضان المبارك كےآخري دن ہم بستري كرلي اور بعد يہ ظاہر ہوا كہ يہ دن تو يكم شوال كا تھا تواس پر كفارہ لازم نہيں ہوگا كيونكہ يہ واضح ہوچكا كہ اس كا روزہ فرضي نہيں تھا، واللہ اعلم .

مزيدتفصيل كےليے سوال نمبر ( 40242 ) كا جواب بھي ديكھيں .

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments