Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
49943

كثرت مشت زني ميں مبتلا شخص رمضان ميں كيا كرے؟

روزانہ مشت زني ميں مبتلا شخص رمضان المبارك ميں كيا كرے ؟

الحمد للہ :

اہل علم كے اقوال ميں سے صحيح قول يہي ہے كہ مشت زني حرام ہے، اس كي تفصيل جاننے كے ليے سوال نمبر ( 329 ) كےجواب كا مطالعہ كريں

اور رمضان المبارك كےدن كےبارہ ميں احكام معلوم كرنے كے ليے سوال نمبر ( 38074 ) كا جواب ديكھيں .

اور نوجوان شخص كواپنے اللہ سے ڈرنا چاہيے جواس كا رب ہے، اور اسے ہر اس كام سے دور رہنا چاہيے جو شہوت انگيزي كا باعث بنے چاہے وہ ديكھنے سے متعلق ہو يا سننے سے، اور اسے چاہيے كہ وہ رمضان المبارك كےمہينے سے استفادہ كرتےہوئے اپني اصلاح كرے اور اسے مھذب بنائے، رمضان كا مہينہ تقوي اور قرآن كا مہينہ ہے ، اس ليے مسلمان شخص كےشايان شان نہيں كہ وہ اس مہينہ ميں اجروثواب حاصل كرنے اور اپنے رب سے خوف كرتے ہوئے حرام كام اورشھوات كو ترك كر كے اس مہينہ سے مستفيد نہ ہو .

اللہ سبحانہ وتعالي نے حديث قدسي ميں فرمايا ہے:

( وہ اپنا كھانا پينا اور اپني شھوت صرف ميري وجہ سے ترك كرتا ہے ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 1894 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1151 )

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں :

انسان كو چاہيے كہ وہ مشت زني جيسا كام كرنے سے رك جائے اور صبر كرے اس ليے كہ ايسا كرنا حرام ہے اس كي دليل فرمان باري تعالي ہے:

( اور وہ لوگ جو اپني شرمگاہوں كي حفاظت كرتے، مگر اپني بيويوں اور ملكيت كي لونڈيوں كےيقينا يہ ملامتيوں ميں سے نہيں ، لھذا جو كوئي بھي اس كےعلاوہ چاہيں گے وہي حد سے تجاوز كرنے والےہيں )

اور اس ليے بھي كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

( اےنوجوانوں كي جماعت تم ميں سے جوكوئي بھي طاقت ركھتا ہے وہ شادي كرے، كيونكہ يہ نظروں كو نيچا كرنےوالي اور شرمگاہ كي حفاظت كرنے والي ہے، اور جوكوئي استطاعت نہ ركھے وہ روزے ركھے )

اور اگر مشت زني جائز ہوتي تو نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اس كي طرف راہنمائي كرتے كيونكہ مكلف كےليے يہ زيادہ آسان ہے، اور اس ليے بھي كہ انسان اس ميں نفع پاتا ہے بخلاف روزے كے كيونكہ روزہ ركھنے ميں مشقت ہے، لھذا جب رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے روزہ ركھنے كي راہنمائي فرمائي تويہ بات كي دليل ہے كہ مشت زني جائز نہيں .

ديكھيں: مجموع فتاوي الشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ ( 19 / 189 )

اور آپ كوچاہيےكہ شادي كرنے كي كوشش كريں اور اس ميں جھد صرف كريں تاكہ آپ اس بري اور گندي عادت سےنجات حاصل كرسكيں، اور اس كے ليے اللہ تعالي سے دعاء كرتے ہوئے اللہ تعالي كي اطاعت وفرمانبرداري كےساتھ مدد وتعاون حاصل كريں تاكہ اللہ تعالي آپ كواس عادت كےگناہ سےنجات عطا فرمائے .

اللہ تعالي سےہماري دعاء ہےكہ وہ آپ كےدل اور اعضاء كوپاك صاف كرے اور آپ كو وہ كام كرنے كي توفيق عطا فرمائے جواسے پسند ہيں اور جن پر وہ راضي ہوتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments