Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
50067

كيا بغير عذر روزے ترك كرنے والے پر قضاء ہے؟

ميري عمر اٹھائيس برس ہے ميں نے اپني زندگي ميں رمضان المبارك كے مكمل روزے نہيں ركھے، اور اب ميں نےنيت كي ہے كہ ان شاء اللہ اس برس رمضان المبارك كےمكمل روزے ركھوں گا ، توپچھلے برسوں كےروزوں كي قضاء كيسے كروں ؟

الحمد للہ :

رمضان المبارك كےروزے اسلام كا ايك ركن ہيں اور كسي ايك شخص كےليے بھي جوروزے ركھنےكا مكلف ہو بغير كسي عذر كے ترك كرنےحلال نہيں، اور جس نے بھي بغير كسي شرعي عذر مثلا بيماري يا سفر يا حيض كے روزے نہ ركھے اور وہ روزے ركھنے كي استطاعت بھي ركھتا ہو تو اس پر ان روزوں كي قضاء واجب ہے كيونكہ اللہ تعالي كا فرمان ہے:

{اور جوكوئي مريض ہو ياسفر پر وہ دوسرےايام ميں گنتي مكمل كرے} البقرۃ ( 185 )

اوراس ميں جان بوجھ كرعمدا بغير كسي عذر كے روزے ترك كرنے والا شخص معذور شخص كي طرح نہيں ہوسكتا ہے.

لھذا جس نے بھي كوئي عبادت يعني نماز يا روزہ بغير كسي عذر كے وقت پرادا نہ كيا تواس كي وہ عبادت صحيح نہيں اگر اس نے شرعي طور پر مقرر كردہ وقت نكل جانے كے بعد ادا كي تو اس سے وہ قبول نہيں ہوگي .

شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ تعالي سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے كئي برس سے رمضان المبارك كےروزے نہيں ركھے ليكن باقي فرائض پر عمل پيرا ہے اور اسے روزے سے منع كرنے والي كوئي چيز نہيں ( يعني كوئي سبب نہيں ) كيا اگر وہ توبہ كرليتا ہے تواس پر ان روزوں كي قضاء ہوگي؟

شيخ رحمہ اللہ تعالي كاجواب تھا:

صحيح يہي ہے كہ: اگر وہ توبہ كرلے تواس كے ذمہ قضاء لازم نہيں، اس ليے كہ ہر وہ عبادت جس كا كوئي وقت مقرر ہے جب بغير كسي عذر كےاسے اس كےوقت سے تاخير كر كے ادا كيا جائےتو اللہ تعالي اسےقبول نہيں كرتا، تواس بنا پر اس كي قضاء كرنے كا كوئي فائدہ نہيں، ليكن اسے چاہيے كہ وہ اللہ تعالي سے اپنےكيے كي توبہ كرے اوركثرت سے اعمال صالحہ كرے، اور جوكوئي توبہ كرتا ہے اللہ تعالي اس كي توبہ قبول فرماتا ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوي الشيخ ابن عثيمين ( 19 / 41 )

بلاعذر روزہ نہ ركھنےوالے كا يہ حكم ہے، يعني اس نے نہ تو روزہ ركھنے كي نيت كي اور اصلا روزہ شروع ہي نہ كيا .

ليكن جس شخص نے روزہ ركھ ليا اور پھر دن ميں كسي وقت روزہ كھول ديا تواس كےذمہ قضاء واجب ہے .

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي سے مندرجہ ذيل سوال پوچھاگيا:

بغير كسي عذر كے رمضان المبارك ميں دن كےوقت روزہ كھول دينے كا كيا حكم ہے؟

توشيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

رمضان المبارك ميں دن كےوقت بغير كسي عذر كےروزہ توڑنا كبيرہ گناہ ہے اور ايسا كرنے سےانسان فاسق ہوجاتا ہے، اس پر توبہ كرني واجب ہے، اور اس دن كي قضاء بھي كرےگا، يعني اگراس نے روزہ ركھا اور دن كے كسي حصہ ميں بغير كسي عذر كےروزہ توڑ ديا تووہ گنہگار ہے، اوراس دن كےبدلے قضاء ميں ايك روزہ ركھےگا، كيونكہ جب اس نےروزہ ركھ ليا اور اس ميں داخل ہو گيا اور روزے كا التزام كرليا كيونكہ وہ فرض تھا تونذر كي طرح اس كي قضاء لازم آئےگي.

ليكن اگر اس نے بغير كسي عذر كے جان بوجھ كراصلاروزہ ركھا ہي نہيں توراجح يہي ہےكہ:

اس پر قضاء لازم نہيں؛ كيونكہ اس سے اسےكوئي فائدہ نہيں ہوگا، كيونكہ يہ روزہ اس كا قبول ہي نہيں، كيونكہ قاعدہ يہ ہےكہ: ہر وہ عبادت جس كا كوئي وقت مقرر اور متعين ہے جب وہ عبادت اس معين وقت سے بغير كسي عذر مؤخر كردي جائے تواس كي يہ عبادت قبول نہيں ہوتي اس كي دليل مندرجہ ذيل فرمان نبوي صلي اللہ عليہ وسلم ہے:

( جس نے بھي كوئي ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ مردود ہے )

اور اس ليے بھي كہ يہ اللہ تعالي كي حدود سے تجاوز ہے اور اللہ تعالي كي حدود سےتجاوز كرنا ظلم ہے اور ظالم سے قبول نہيں ہوتي.

اللہ تعالي كا فرمان ہے:

{اور جوكوئي بھي اللہ تعالي كي حدود سےتجاوز كرے وہ ہي ظالم ہيں}

اور اس ليےبھي كہ اگر يہ عبادت وقت مقررہ سےقبل ادا كرلي جائے - يعني وقت شروع ہونے سےقبل ہي ادا كرلي - تواس سے يہ عبادت قبول نہيں كي جائےگي، تواسي طرح اگر اس نے وقت گزر جانےكےبعد ادا كي تو اس سے قبول نہيں ہوگي ليكن اگر كوئي عذر ہوتو پھر قبول ہو گي .

ديكھيں: مجموع فتاوي الشيخ ابن عثيمين ( 19 / سوال نمبر25 )

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments