50430: طہر سے قبل گدلاپانی حیض شمار ہوگا


عورت اگر حیض کے چھ یوم بعد گدلے رنگ کا پانی دیکھے توکیا اسے حیض شمار کیا جائے گاکہ نہیں ؟

الحمد للہ
اگرتویہ گدلاپانی عورت طہروپاکی سے قبل دیکھے تواسے حیض شمار کیا جائے گا ، لیکن اگر یہ طہر اورپاکی کے بعد آئے توحیض نہيں اورنہ ہی یہ نماز روزہ کے منافی ہے ۔

شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب " الدماء الطبیعیۃ للنساء میں کہتے ہیں :

تیسری نوع : گدلے یا مٹیالے رنگ کا پانی وہ اس طرح کہ جیسے زخموں کا زرد خون ہوتا ہے یا پھر سیاہی اورزردی کے مابین رنگ ہواوراثناء حیض یا پھر حیض سے متصل اورطہر سے قبل آئے تواسے حیض ہی شمار کیا جائے گا اوراس کے احکام بھی حیض والے ہی ہونگے ۔

لیکن اگر طہر اورپاکی کے بعد آئے توحیض نہيں اس لیے کہ ام عطیہ رضي اللہ تعالی عنہا کا قول ہے :

( ہم گدلے اورمٹیالے رنگ کے پانی کو طہر کے بعد کچھ بھی شمار نہیں کرتی تھيں ) سنن ابوداود اسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا گيا ہے ۔

دیکھیں رسالۃ " الدماء الطبیعیۃ للنساء ( 19 )

اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی فتاوی ارکان اسلام میں کچھ اس طرح کہا ہے :

عام قاعدہ ہے کہ: عورت جب حیض میں یقینی طور پر پاک ہوجائے ، طہر اورپاکی سے میری مراد یہ ہے کہ عورت کوصاف شفاف پانی آنا شروع ہوجائے عورتوں کا اس کا بخوبی علم ہے ، اس کےبعد مٹیالے اورگدلے رنگ کا مادہ آنا یا پھر نقطہ لگنایا رطوبت کا اخراج یہ سب کچھ حيض شمار نہيں ہوگا ۔

یہ نہ تونماز کے لیے مانع ہے اورنہ ہی روزے کے لیے ، اورنہ ہی خاوند کے لیے اپنی بیوی سے جماع میں مانع ہے اس لیے کہ یہ حیض نہيں ۔۔۔ ۔۔

لیکن عورت پرضروری ہے کہ وہ اس میں جلدی نہ کرے بلکہ اسے اچھی طرح طہر و پاکی دیکھ لینا چاہیے ، کیونکہ بعض عورتیں ایسا کرتی ہیں کہ جب خون کم آنا شروع ہوجاتا ہے تو وہ طہر سے قبل ہی فورا غسل کرلیتی ہیں ، اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیویاں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے پاس روئی بھیجا کرتی تھیں جس میں زردی ہوتی توعائشہ رضي اللہ تعالی عنہا انہيں فرماتیں :

جلدبازي نہ کرو حتی کہ صاف شاف سفید پانی دیکھ لو ۔ اھـ مختصرا ۔

دیکھیں : فتاوی ارکان الاسلام ( 258 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments