5202: مسلمان خاوند كى صفات


ميرى عمر اٹھارہ برس ہے اور تقريبا پانچ بار ميرا رشتہ آيا ہے ليكن ميں انكار كرتى رہى كيونكہ ابھى ميں چھوٹى تھى اور اب ميں شادى كرنے كا سوچ رہى ہوں ميرا سوال يہ ہے كہ:
وہ كونسى ايسى چيز ہے جو ميرے ليے تلاش كرنى ضرورى اور واجب ہے تا كہ ميں كسى اچھے مسلمان كو حاصل كر سكوں اور وہ كونسى اشياء ہيں جنہيں ديكھنا اہم ہے ؟

الحمد للہ:

ہم سوال كرنے والى بہن كے مشكور ہيں كہ وہ ايسى صفات تلاش كر رہى ہے جو اسے ايك نيك و صالح خاوند اختيار كرنے ميں ممد و معاون ثابت ہوں ان شاء اللہ، ذيل ميں ہم وہ اہم اور ضرورى صفات ذكر كرتے ہيں جو آپ كے اختيار كردہ خاوند ميں ہونا ضرورى ہيں يا جسے آپ اپنے ليے خاوند اور اپنى اولاد كے ليے باپ بنانا چاہتى ہيں اگر اللہ نے آپ كو اولاد كى نعمت سے نوازا ہمارى دعا ہے آپ كو ان دونوں نعمتوں سے نوازے.

ـ دين:

يہ ايسى صفت ہے جو اس شخص ميں پائى جانى چاہيے جس سے آپ شادى كرنا چاہتى ہوں، اس ليے وہ خاوند مسلمان ہو اور اپنى زندگى كے سارے امور ميں اسلامى تعليمات كا التزام كرتا ہو، اور عورت كے ولى كو بھى چاہيے كہ وہ ظاہر كو مت ديكھے بلكہ اس امر كو ضرور تلاش كرے اور دين ديكھے اور سب سے اعلى اور بڑى چيز اس كے متعلق دريافت كرنے والى يہ ہے كہ آيا وہ نماز ادا كرتا ہے يا نہيں.

كيونكہ جو شخص اللہ كے حقوق ضائع كرنے والا ہو وہ مخلوق كے حقوق كو زيادہ ضائع كرنے والا ہوتا ہے، اور مومن شخص اپنى بيوى پر ظلم نہيں كرتا، كيونكہ جب وہ بيوى كو پسند كرتا اور اس سے محبت كرتا ہے تو اس كى عزت كرتا ہے اور اس اگر اس سے محبت نہ بھى كرے تو اس كى توہين نہيں كرتا اور نہ اس پر ظلم كرتا ہے.

اور اس كا وجود غير مسلموں ميں بہت ہى كم پايا جاتا ہے اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور البتہ مومن غلام مشرك سے زيادہ بہتر اور اچھا ہے چاہے ( مشرك ) تمہيں پسند ہو ﴾.

اور فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ يقينا تم ميں سے اللہ كے ہاں سب سے زيادہ عزت و اكرام والا متقى و پرہيزگار ہے ﴾.

اور ايك مقام پر اللہ رب العزت كا فرمان ہے:

﴿ اور پاكباز عورتيں پاكباز مردوں كے ليے ہيں، اور پاكباز مر پاكباز عورتوں كے ليے ہيں ﴾.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب تمہارے پاس ايسا شخص آئے جس كے دين اور اخلاق كو پسند كرتے ہو تو اس كى شادى كر دو، اگر ايسا نہيں كرو گے تو زمين ميں عظيم فتنہ و فساد بپا ہو گا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 866 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ترمذى حديث نمبر ( 1084 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ـ دين كے ساتھ اچھے خاندان والا بھى ہونا چاہيے، اور اس كا نسب نامہ معروف ہو، چنانچہ اگر عورت كے ہاں دو مردوں كے رشتے آئيں اور دونوں ہى دين ميں برابر ہوں تو ان ميں سے اچھے خاندان والا جو اللہ كے احكام پر عمل كرنے ميں مشہور ہو اس كو مقدم كيا جائے، جبكہ دوسرے كو دين كى وجہ سے افضل نہيں كيا جائيگا كيونكہ خاوند كے اقربا كا نيك و صالح ہونا اس كى اولاد پر اثرانداز ہو گا، اور پھر اصل اور نسل كا اچھا ہونا بہت سارى خرابيوں سے دور لے جاتا ہے، اور آباء و اجداد كى نيك و صالح ہونا پوتوں كے ليے بھى فائدہ مند ہوتا ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور رہى ديوار تو وہ دو يتيم بچوں كى تھى جو شہر ميں تھے اور اس كے نيچے ان كا خزانہ تھا، اور ان دونوں كا والد نيك و صالح تھا، چنانچہ تيرے رب نے چاہا كہ وہ دونوں بالغ ہو جائيں اور اپنا خزانہ نكال ليں، يہ تيرے رب كى جانب سے رحمت ہے ﴾.

ديكھيں كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے كس طرح ان بچوں كے باپ كى موت كے اس كا مال محفوظ ركھا جو كہ والد كے نيك و صالح اور متقى ہونے كى وجہ سے اس كى عزت و اكرام تھا، تو اسى طرح نيك و صالح خاندان سے اور عزت و تكريم والے والدين سے خاوند اختيار كرنے ميں بھى اللہ تعالى اس كے معاملات كو آسان كريگا اور والدين كى عزت و اكرام كى وجہ سے اس كى حفاظت فرمائيگا.

ـ اس كا مالدار ہونا بھى بہتر ہے جس كى وجہ سے وہ اپنے آپ اور اپنے گھر والوں كى عفت كو محفوظ ركھ سكتا ہے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فاطمہ بنت قيس رضى اللہ تعالى عنہا كو تين اشخاص كے متعلق مشورہ ديتے ہوئے فرمايا تھا:

رہا معاويہ تو وہ تنگ دست ہے اس كے پاس مال نہيں "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1480 ).

اس ميں يہ شرط نہيں كہ وہ تاجر اور غنى ہى ہو، بلكہ يہى كافى ہے كہ اس كے پاس آمدنى كا ذريعہ ہو، يا پھر اتنا مال ہو كہ وہ اپنى اور اپنے گھر والوں كى عفت كو محفوظ ركھے اور لوگوں سے مستغنى ہو، اور اگر ايك مالدار رشتہ ہو اور دوسرا دين والا تو پھر دين والے كو مال پر مقدم كيا جائيگا.

ـ اور يہ مستحب ہے كہ وہ شخص نرم دل اور عورت كے ليے رحمدل ہو، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فاطمہ بنت قيس رضى اللہ تعالى عنہا كو مندرجہ بالا حديث ميں فرمايا تھا:

" رہا ابو جھم تو وہ اپنى لاٹھى اپنے كندھے سے نيچے نہيں ركھتا "

يہ اس طرف اشارہ ہے كہ وہ عورتوں كو كثرت سے زدكوب كرتا ہے.

ـ اور بہتر ہے كہ ہونے والا خاوند بدن كا صحيح اور عيب سے پاك ہو مثلا بيماريوں وغيرہ اور عاجزى و بانجھ پن وغيرہ سے.

ـ اور مستحب ہے كہ وہ كتاب و سنت كا عالم ہو، اگر ايسا ہو تو يہ بہتر ہے وگرنہ اس جيسا شخص ملنا مشكل ہے.

ـ عورت كے ليے رشتہ آنے والے شخص كو ديكھنا مستحب ہے جس طرح مرد كو لڑكى ديكھنى مستحب ہے، اور اسے ظاہرى طور پر محرم كى موجودگى ميں ديكھا جائے، اور اس ميں حد سے تجاوز نہيں كرنا چاہيے كہ وہ اسے عليحدگى ميں اكيلى ديكھے يا اس كے ساتھ اكيلى گھومنے پھرنے نكلے، يا پھر بغير كسى ضرورت كے كئى ايك بار ملاقات كرے.

ـ عورت كے ولى كے ليے مشروع ہے كہ وہ اپنى ذمہ دارى ميں موجود لڑكى كے ليے كوئى اچھا رشتہ تلاش كرے اور اس كے ساتھ رہنے والوں اور اس كو جاننے والوں سے دريافت كرے جس كے دين اور امانت كا اسے اعتبار ہو، تا كہ وہ اس رشتہ كے متعلق اسے صحيح رائے ديں سكيں

ـ اس سب كچھ سے قبل اللہ تعالى سے دعا كرنى چاہيے كہ اللہ تعالى اس كے معاملہ ميں آسانى پيدا كرے اور اسے كوئى اچھا اختيار كرنے كى توفيق دے اور اسے رشد و ہدايت نصيب فرمائے، پھر اس كے بعد وہ كسى ايك شخص كے متعلق فيصلہ كرے، اور اس كے ليے استخارہ كرنا مشروع ہے.

ـ نماز استخارہ كا طريقہ معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 2217 ) كے جواب كا مطالعہ كريں، اور پھر پورى كوشش صرف كرنے كے بعد اللہ پر توكل كريں، يقينا وہ بہت ہى اچھا مددگار ہے.

ماخوذ از: جامع احكام النساء تاليف مصطفى العدوى اس ميں كچھ زيادہ بھى كيا گيا ہے.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كے معاملہ ميں آسانى پيدا فرمائے اور آپ كو رشد عطا كرے، اور آپ كو نيك و صالح خاوند اور اولاد نصيب فرمائے، يقينا وہ اس پر قادر ہے اور اس كا ولى ہے اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments