5207: قافلہ کےساتھ محرم کےبغیر حج کا سفرکرنا چاہتی ہے


میں اپنے گھرمیں اکیلی لڑکی اورشادی شدہ ہ اورامریکہ میں رہائش پذیر ہوں ، ہمارے سارے رشتہ دار مشرق وسطی میں بستے ہیں ، اورمیرا محرم خاوند کےعلاوہ کوئی نہيں ، اوروہ بھی امریکہ سے باہرنہيں جاسکتا جس کے اسباب میں اس خط میں ذکرنہيں کرسکتی ۔
میرے پاس حج کرنے کی استطاعت ہے اورمیں حج کرنا چاہتی ہوں توکیا میرے لیےقافلہ کے ساتھ حج کا سفر کرنا جائز ہے ؟
اگرجائز نہيں توپھر دین اسلام کا یہ رکن میں کس طرح ادا کرسکتی ہوں کیونکہ میرا کوئي محرم نہيں ہے ؟

الحمدللہ

عورت پرحج اس وقت واجب ہوتا ہے جس اس کے پاس حج کرنے کی استطاعت پائي جائے ، اورمحرم کا ہونا بھی عورت کی استطاعت حج میں شامل ہے ، جب اسے کوئي محرم نہيں ملتا جس کی معیت میں وہ فریضہ حج ادا کرے توشرعا اس میں حج کرنے کی استطاعت نہيں ہے ۔

اس لیے کہ شریعت اسلامیہ نے اسے محرم کے بغیر سفر کرنے سے منع کیا ہے ، تواس بنا پراس کے لیے حج کی ادائيگي اس وقت فرض ہوگي جب اسے کوئي محرم ملے ، لھذا آپ صبروتحمل سے کام لیں حتی کہ اللہ تعالی آپ کےلیے کسی محرم میں آسانی پیدا فرمائے توآپ اس کے ساتھ مل کرحج کریں ، آپ معذور ہیں اورآپ پرکوئي گناہ نہيں ہے ۔

لیکن قافلے اورگروپ کے ساتھ بغیر محرم کے سفر کرنا جائزنہيں کیونکہ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا :

( عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے ، اورمحرم کی غیر موجودگي ميں اس کے پاس کوئي شخص نہ جائے ، توایک شخص کہنے لگا اے اللہ تعالی کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں توفلان لشکر میں جارہا ہوں اورمیری بیوی حج کرنا چاہتی ہے ، تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : اس کےساتھ جاؤ ) ۔صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1729 ) ۔

اوراس وقت بھی حجاج کرام قافلے کے ساتھ گروپ کی طرح ہی جاتے تھے ، لیکن اس کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت بغیر محرم کے سفر کرنے کی اجازت نہيں دی ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments