5212: كتے كو چھونے اور اس كے لعاب سے وضوء نہيں ٹوٹتا


كيا كتے كو چھونے اور اس كے لعاب سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟

الحمد للہ:

كتے كو چھونے يا اس كے لعاب سے وضوء نہيں ٹوٹتا اس ليے كہ جب شرعى دليل كے تقاضہ سے طہارت و پاكيزگى ثابت ہو تو وہ كسى شرعى دليل كے بغير ختم نہيں ہوتى، اور كتے كو چھونے اور اس كے لعاب سے وضوء ٹوٹنے كى كوئى دليل نہيں ملتى، اور نہ ہى علماء كرام نے اسے نواقض وضوء يعنى وضوء توڑنے والى اشياء ميں ذكر كيا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ " المغنى " ميں نواقض وضوء جن ميں كتےكو چھونے اور اس كے لعاب كا ذكر نہيں ہے اسے بيان كرتے كے بعد كہتے ہيں:

" يہ سب اشياء طہارت و پاكيزگى اور وضوء كو ختم كر ديتى ہيں عام علماء كرام كے قول كے مطابق ان كے بغير كسى اور چيز سے وضوء نہيں ٹوٹتا.... " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 264 ).

ليكن اس ميں كوئى شك نہيں كہ كتے كا لعاب نجس اور شديد قسم كى گندگى انتہائى نجاست ہے، جو سات بار دھونے كے بغير زائل نہيں ہوتى جن ميں ايك بار مٹى سے دھونا بھى شامل ہے، اس ميں اور وضوء ٹوٹنے ميں فرق يہى ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments