Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
5218

اختيارى ٹيكس سے بچنے كے ليے تنخواہ كا غلط گوشوارہ پيش كرنا

يونيورسٹى كے ايك پروفيسر كے ليے ادارہ نے ايك شرط ركھى كہ اسے تنخواہ كے بغير رخصت اس صورت ميں مل سكتى ہے كہ وہ اپنى دوسرى آمدنى كا پچيس فيصد ( 25 % ) سودى بنك ميں ركھيں اور وہ اس سے كچھ حصہ ٹيكس وصول كيا كرينگے، تو كيا اس كے ليے اپنى تنخواہ كى صحيح معلومات نہ دينا صحيح ہيں تا كہ بنك ميں زيادہ رقم نہ ركھى جائے اور اس سے ٹيكس كاٹا جائے ؟

الحمد للہ:

يہ سول فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كے سامنے پيش كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

ظاہر يہى ہوتا ہے كہ ايسا كرنا جائز نہيں، كيونكہ اس كا ان كے ساتھ معاہدہ ہے، اور جب اس نے ان كے ساتھ معاہدہ كيا ہوا ہے تو پھر ان كے نظام كے خلاف حيلہ كرنا جائز نہيں.

سوال:

چاہے اس ميں ظلم اور ٹيكس بھى ہو ؟

جواب:

ليكن وہ شخص خود ہى شروع سے اس پر راضى ہوا ہے. اھـ

واللہ تعالى اعلم

الشيخ محمد بن صالح العثيمين
Create Comments