Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
5225

خاوند نے طلاق كا ليٹر لكھا كہ وہ مہينہ كے آخر ميں بيوى كو ارسال كرے گا

بيوى نے طلاق پر اصرار كيا تو خاوند كہنے لگا: ايك ماہ تك سوچ لو، ليكن بيوى باز نہ آئى اور گھر سے چلى گئى، جب مہينہ ختم ہونے پر آيا تو خاوند نے طلاق كا ليٹر لكھا كہ مہينہ ختم ہونے كے بعد بيوى كو ارسال كر ديگا، ليكن مہينہ ختم ہونے سے ايك دن قبل بيوى نے رابطہ كيا اور كہنے لگى ميں واپس آنا چاہتى ہوں، تو كيا يہ طلاق ہو جائيگى يا نہيں ؟

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين حفظہ اللہ كے سامنے پيش كيا تو شيخ نے يہ جواب ديا:

يہ اس كى نيت كے مطابق ہوگا، اگر تو اس كى نيت طلاق واقع كرنے كى تھى تو طلاق واقع ہو گئى، ليكن ظاہر يہى ہوتا ہے كہ وہ طلاق واقع نہيں كرنا چاہتا تھا، حتى كہ مہينہ گزر جائے تو پھر طلاق دےگا، اس بنا پر طلاق واقع نہيں ہو گى " انتہى .

الشيخ محمد بن صالح العثيمين
Create Comments