Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
5227

صليب اور دوسرے كفريہ شعار و علامت تبديل كرنا

كيا جس لباس يا اشياء پر چھ كونوں والا ستارہ يا صليب بنى ہو انہيں استعمال كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

امام بخارى رحمہ اللہ نے صحيح بخارى ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے حديث بيان كي ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جس چيز ميں بھى صليب كے نشانات ديكھتے تو صليب كى تصوير ختم كر ديتے"

اور ايك روايت ميں " قضبہ " كے الفاظ ہيں.

النقض: كپڑے كو اپنى حالت ميں رہنے دينا اور اس ميں تصاوير خت كرنے كو كہتے ہيں.

القضب: كپڑا كاٹنے كو كہتے ہيں.

تو يہ حديث اس پر دلالت كرتى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جب بھى كسى چيز ميں صليب كا نشان ديتے تو اس صليب كو مٹا ديتے، اور اگر وہ مٹ نہ سكتى تو پھر اس چيز كو كاٹ ديتے، كيونكہ اللہ كو چھوڑ كر صليب كى عبادت كى جاتى ہے، اس ليے صليب كا موجود ہونا برائى اور منكر ہے، اس ليے اسے تبديل كرنا ضرورى ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كى فتح البارى ميں كلام كا معنى يہى ہے.

اور ايك صحيح حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ كا فرمان اس طرح ہے:

" جو كوئى بھى تم ميں سے كسى برائى كو ديكھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے روكے، اگر اس كى استطاعت نہ ركھتا ہو تو اسے اپنى زبان سے روكے، اور اگر اس كى بھى استطاعت نہ ركھتا ہو تو پھر اسے اپنے دل ميں برا جانے اور يہ ايمان كا كمزور ترين حصہ ہے "

اسے امام مسلم نے صحيح مسلم ميں روايت كيا ہے.

اور ايك حديث ميں ابو الھياج الاسدى بيان كرتے ہيں كہ على رضى اللہ تعالى عنہ مجھے كہنے لگے: كيا ميں تمہيں اس كام كے ليے روانہ نہ كروں جس كے ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے روانہ كيا تھا:

كہ تمہيں جو بھى تصوير ملے اسے مٹا دو، اور جو قبر اونچى ملے اسے برابر كر دو "

اسے بھى مسلم نے روايت كيا ہے.

تو يہ دونوں حديثيں برائى اور كفريہ شعار و علامات كو تبديل كرنے اور روكنے اور اسے مٹانے اور زائل كرنے كے وجوب پر دلالت كرتى ہيں ( اور ان ميں چھ كونوں والا ستارہ بھى شامل ہے ) تو يہ بھى اس ميں شامل ہوتا ہے، اس ليے اسے ختم اور زائل كرنا واجب ہے.

ديكھيں: مسائل و رسائل محمد المحمود النجدى صفحہ ( 17 ).
Create Comments