52801: اليكٹرانك گيمز كى دوكان كھولنا


بچوں كے ليے اليكٹرانك گيمز كى دوكان كھولنے كا حكم كيا ہے، يعنى بچہ دو ريال كے بدلے ايك گھنٹہ كمپيوٹر پر گيم كھيلے، ہميں علم ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نرد اور شطرنج كھيلنے سے منع فرمايا ہے، تو كيا يہ گيمز بھى اس كے مشابہ ہيں، اور يہ گيمز بعينہ كيوں ممنوع ہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

اليكٹرانك گيمز كھيلنے كى دوكان كھولنے كا حكم ان گيمز كے حكم پر ہى مبنى ہے، سوال نمبر ( 2898 ) كے جواب ميں اس كا حكم بيان كيا جا چكا ہے، اور اس جواب ميں يہ واضح كيا گيا ہے كہ اگر يہ گيمز اور كھيل كئى ايك ممنوعہ كاموں سے خالى ہوں تو يہ حلال اور مشروع ہونگے، تو اس طرح اگر وہ ممنوعہ اشياء پر مشتمل نہيں تو يہ گيمز بچوں كو كرايہ پر دينا اور كھيلنے كے ليے ان سے رقم وصول كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن شرط يہ ہے كہ يہ گيمز اور كھيل حرام اشياء پر مشتمل نہ ہوں، مثلا بےپرد عورتوں كى تصاوير، اور جادو كے كھيل، اور موسيقى وغيرہ.

اس ليے دوكان كے مالك پر واجب ہوتا ہے كہ وہ ايسى گيمز اور كھيل اختيار كرے جو حرام اشياء سے خالى ہوں.

دوم:

سوال نمبر ( 22305 ) اور ( 14095 ) كے جواب ميں شطرنج اور نرد ( لڈو وغيرہ ) كھيلنے كى حرمت كا بيان ہو چكا ہے، اور ان دونوں كھيلوں كى حرمت كى حكمت كے متعلق شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ان اشياء سے كھيلنا منع ہے؛ كيونكہ يہ ان آلات لہو و لعب ميں شامل ہوتے ہيں جو اللہ تعالى كے ذكر اور نماز سے روكتے ہيں، اہل علم كے ہاں يہى معروف ہے؛ كيونكہ يہ خير و بھلائى سے مشغول كر كے اس سے روك ديتے ہيں، اور اس ميں ايك دوسرے پر غلبہ پانے كى كوشش ہوتى ہے، جو كھلاڑيوں كے درميان عظيم شر كى جانب لے جانے كا باعث بن سكتى ہے، اور انہيں اللہ تعالى كے واجب كردہ اعمال سے مشغول كر كے روك ديتى ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى ابن باز ( 8 / 98 ).

اور ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب نرد كھيلنے والا اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كا نافرمان شمار ہوتا ہے، حالانكہ نرد كى خرابى اور فساد ہلكى ہے، تو پھر شطرنج كھيلنے والے سے نافرمان كا نام كيسے سلب كيا جا سكتا ہے، حالانكہ شطرنج كى خرابى اور فساد اس سے بھى بڑى ہے، اور وہ اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى جانب سے واجب كردہ اعمال ميں ركاوٹ ڈالتى اور روكتى ہے، اور كھلاڑى صرف كھيل كے بارہ ميں ہى سوچتا ہے، اور اس كا دل اور سارے اعضاء اسى ميں مشغول ہوتے ہيں، اور وہ اسى ميں اپنى قيمتى عمر ضائع كر ديتا ہے، اور قليل كھيلنا زيادہ كھيلنے كى دعوت ديتا ہے، جس طرح قليل سى شراب نوشى زيادہ اور كثرت سے شراب نوشى كى دعوت ديتى ہے، اور اس ميں معاوضہ كے ساتھ كھيلنے كى رغبت بغير عوض كے كھيلنے سے زيادہ ہوتى ہے ؟

اور اگر اس كھيل ميں كوئى اصلا كوئى اور خرابى نہ بھى ہو تو يہى كافى ہے كہ يہ قمار بازى اور جوے كےذريعہ مال كھانے تك لے جانے كا ذريعہ ہے؛ تو بھى شريعت ميں اس كى حرمت متعين تھى، اور يہ كيسے نہ ہو حالانكہ صرف اس سے كھيلنے ميں ہى اتنى خرابياں پيدا ہوتى ہيں جو حرمت كا تقاضہ كرتى ہيں ؟

شريعت كے بارہ ميں يہ گمان كيسے كيا جا سكتا ہے كہ وہ دل كو لہو و لعب ميں ڈالنے اور اللہ كے ذكر سے روكنى والى اشياء مباح كرتى ہے، اور اس كے دل كو اس كى دنياوى اور دينى مصلحتوں سے مشغول كر كے دور كر دے، اور كھلاڑيوں كے درميان بغض و عداوت اور دشمنى و حسد اور كينہ پيدا كرے، اور قليل كثرت كى دعوت دے، عقل و فكر كے ساتھ وہى كچھ كرے جس طرح ايك نشئى شخص كرتا ہے بلكہ اس سے بھى بڑھ كر.

اس ليے اس كا مرتكب شخص اسى طرح ہے جس طرح كوئى شراب نوشى كرنے والا اپنى شراب پر لپكتا ہے، يا اس سے بھى شديد؛ كيونكہ جس طرح ايك شراب نوشى كرنے والا شخص شرماتا اور حياء كرتا ہے يہ اس طرح نہيں شرماتا، اور نہ ہى اسے كھيلنے سے ڈرتا ہے، اور يہ دونوں بالكل اسى طرح ہيں جس طرح كوئى اپنے بتوں پر لپكتا ہے اور ان كے ساتھ مشغول رہتا ہے " انتہى.

ديكھيں: الفروسيۃ ( 312 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments