Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
52803

دبر ( پاخانہ والى جگہ ) ميں وطئ كرنے كا كفارہ

بيوى سے دبر ميں وطئ كرنے كا كفارہ كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

بيوى سے دبر ميں وطئ و جماع حرام ہے، بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو خبر دى ہے كہ ايسا كرنے والا ملعون ہے.

اس قبيح فعل كى كتاب و سنت سے حرمت كے دلائل اور اس كے نتيجہ ميں پيدا ہونے والى خرابيوں كا بيان سوال نمبر ( 1103 ) اور ( 6792 ) كے جوابات ميں گزر چكا ہے آپ ان كا مطالعہ كر ليں.

شريعت اسلاميہ نے اس حرام فعل كا كوئى كفارہ مقرر نہيں كيا، اس ليے اس كا كفارہ تو صرف توبہ و ندامت اور اللہ كى طرف رجوع و انابت ہے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

بيوى سے دبر ميں وطئ كرنے كا حكم كيا ہے، اور كيا ايسا كرنے والے پر كوئى كفارہ بھى ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ نے جواب ديا:

" عورت كى دبر ميں وطئ كرنا كبيرہ گناہ شمار ہوتا ہے اور قبيح ترين معاصى ميں سے ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص اپنى بيوى كى دبر ميں وطئ كرے وہ ملعون ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2162 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ سبحانہ و تعالى ايسے شخص كى جانب نہيں ديكھے گا جو كسى مرد سے بدفعلى كرے يا اپنى بيوى كى دبر ميں وطئ كرے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1166 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

ايسا قبيح فعل كرنے والے كو چاہيے كہ جتنى جلدى ہو سكے وہ اس شنيع و قبيح فعل سے توبہ كر لے، اور توبہ يہ ہے كہ وہ فورى طور پر اس گناہ كو چھوڑ دے، اور اس گناہ كو اللہ كى تعظيم كرتے اور اس كى سزا سے ڈرتے ہوئے چھوڑے، اور جو كچھ ہوا اس پر نادم ہو، اور سچا و پختہ عزم كرے كہ آئندہ ايسا نہيں كريگا، اور اس كے ساتھ ساتھ اعمال صالحہ كى جدوجھد كرے، جو شخص بھى توبہ كرتا ہے اللہ سبحانہ و تعالى اس كى توبہ قبول كر كے اس كے گناہ معاف كر ديتا ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ يقينا ميں ايسے شخص كو معاف كر ديتا ہوں جو توبہ كرتا اور ايمان لا كر اعمال صالح كرتا اور پھر راہ ہدايت اختيار كرتا ہے }طہ ( 72 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{ اور وہ لوگ جو اللہ كے ساتھ كسى دوسرے كو الہ و معبود نہيں بناتے، اور نہ ہى اس جان كو ناحق قتل كرتے ہيں جسے اللہ نے قتل كرنا حرام كيا ہے، اور نہ ہى زنا كا ارتكاب كرتے ہيں، اور جو كوئى بھى ايسا كريگا وہ گناہگار ہے }

{ اسے روز قيامت دوہرا عذاب ديا جائيگا اور وہ اس عذاب ميں ہميشہ رہے گا }

{مگر وہ جو توبہ كر لے اور ايمان لائے اور نيك و صالح اعمال كرے تو يہى ہيں وہ لوگ جن كى برائيوں كو اللہ تعالى نيكيوں ميں تبديل كر ديگا، اور اللہ تعالى بخشنے والا رحم كرنے والا ہے }الفرقان ( 68 - 70 ).

علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق دبر ميں وطئ كرنے والے پر كوئى كفارہ نہيں ہے اور نہ ہى ايسا كرنے سے اس پر بيوى حرام ہوتى ہے، بلكہ بيوى اس كى عصمت و نكاح ميں ہى رہےگى، اور بيوى كے جائز نہيں كہ وہ ايسے شنيع و قبيح فعل ميں خاوند كى اطاعت كرے، بلكہ بيوى كو چاہيے كہ اگر خاوند ايسا قبيح فعل كرنا چاہے تو اسے ايسا نہ كرنے دے، اور اگر خاوند اس فعل سے توبہ نہيں كرتا تو بيوى فسخ نكاح كا مطالبہ كر سكتى ہے.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ اس سے عافيت نصيب فرمائے " انتہى مختصرا

ديكھيں فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 256 ).

بھوتى رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" اور اگر وہ يہ فعل ( بيوى سے دبر ميں وطئ ) كرتا ہے تو اسے تعزير ( يعنى حاكم اسے ايسى سزا دے جو اسے اور اس جيسے افراد كو اس فعل سے روك دے ) لگائى جائيگى، كيونكہ اس نے ايسى معصيت كا ارتكاب كيا ہے جس كى كوئى حد اور كفارہ نہيں " انتہى

ديكھيں: كشاف القناع ( 5 / 190 ).

يہاں انہوں نے صراحت كى ہے كہ يہ ايسى معصيت ہے جس ميں كوئى كفارہ نہيں.

دوم:

اكثر لوگ اس وقت غلطى كے مرتكب ہوتے ہيں جب وہ يہ خيال كرتے ہيں كہ كسى معين گناہ پر كفارہ واجب نہيں تو اس كا معنى ہے كہ يہ گناہ چھوٹا اور ہلكا سا ہے، لوگوں كا يہ خيال درست نہيں ہے، بلكہ اگر كہا جائے كہ:

دبر ميں وطئى كرنے كا اللہ نے كفارہ مقرر نہيں كيا كيونكہ يہ تو اس گناہ سے بھى بڑا ہے جو كفارہ ادا كرنے سے ختم ہو جاتا ہے، تو يہ بعيد نہيں ہے، جيسا كہ امام مالك رحمہ اللہ نے جھوٹى قسم كے بارہ ميں فرمايا ہے:

" الغموس: جان بوجھ كر جھوٹى قسم اٹھانے كو غموس كہا جاتا ہے.... اور يہ اس سے بھى بڑھ كر ہے كہ اسے كفارہ ختم كرے " انتھى

ديكھيں: التاج و الاكليل ( 4 / 406 ) اور المدونۃ ( 1 / 577 ) ميں بھى يہى درج ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments