Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
52814

بہنوئى كا سالى كے گھر ميں رات بسر كرنا

ميرى بہن اور بہنوئى ہمارے ہاں رات بسر كرتے ہيں، اور ميں ابھى تك غير شادى شدہ ہوں، اس سے بڑھ كر يہ ہے كہ فليٹ دو كمروں اور ايك لاؤنج پر مشتمل ہے، كيا ان كا ہمارے ہاں رات بسر كرنا شرعا حرام ہے، كيونكہ ابھى تك ميرى شادى نہيں ہوئى، اور بہنوئى كى موجودگى گھر ميں اسے سارى جگہ استعمال كرنے كا باعث بنتى ہے، اور كيا گھر سے باہر اس كے ساتھ كچھ ضروريات پورى كرنا حرام ہيں ؟

الحمد للہ:

آپ كا بہنوئى آپ كے ليے غير محرم اور اجنبى ہے، اس ليے آپ دونوں كا خلوت كرنا جائز نہيں، اور نہ ہى محرم كے بغير آپ دونوں اكٹھے بيٹھ سكتے ہيں، اور نہ ہى گھر سے باہر جا سكتے ہيں، اور نہ آپ اس كے سامنے چہرہ ننگا كر سكتى ہيں، بہنوئى كا حال بالكل كسى دوسرے اجنبى شخص كى طرح ہى ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" بہنوئى عورت كے محرم ميں شامل نہيں ہوتا، بلكہ وہ سالى كے ليے اجنبى اور غير محرم ہى شمار ہو گا، نہ تو سالى بہنوئى كے سامنے اپنا چہرہ ننگا كر سكتى ہے، اور نہ ہى اس سے مصافحہ كر سكتى ہے، اور نہ خلوت، اور نہ ہى اكيلى اس كے ساتھ سفر كر سكتى ہے، اس كى حالت بالكل كسى دوسرے اجنبى شخص جيسى ہى ہے.

ليكن اگر سالى اپنے كسى محرم مرد كے ساتھ مل كر بہنوئى كے ساتھ ضرورت كى بنا پر باپرد ہو كر بيٹھے تو اس ميں كوئى حرج نہيں " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 17 / 420 ).

اور اسى طرح فتاوى اللجنۃ ميں درج سوال بھى مذكور ہے:

ميں اور ميرى بھتيجى ( بھائى كى بيٹى ) ہم دو بھائيوں سے شادى شدہ ہيں، اور ميں اس كے چچا كى بيٹى ہوں، قديم وقت سے ہى ہم ايك ہى گھر ميں رہائش پذير ہيں، اور ميں اپنے خاوند كے بھائى كے ساتھ پورا پردہ كر كے نہيں بيٹھتى، بلكہ ميرا چہرہ ننگا ہوتا ہے، ليكن بے پرد نہيں ہوتى تو اس عمل كا حكم كيا ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" عورت كو چاہيے كہ وہ اپنى چچا زاد كے خاوند سے، اور اپنے بہنوئى سے، اور اپنى بھيتجى كے خاوند سے پردہ كرے، اور ان كے سامنے چہرہ ننگا نہ كرے، كيونكہ يہ سب اس كے ليے اجنبى اور غير محرم ہيں، اس ليے اس كے ليے ان كے سامنے اپنا چہرہ ننگا كرنا جائز نہيں، جس طرح دوسرے اجنبى مردوں كے سامنے چہرہ ننگا كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ چہرہ تو سب سے بڑے ستر ميں شامل ہوتا ہے جس كا مردوں سے چھپانا واجب ہے؛ كيونكہ يہ چہرہ ہى فتنہ اور ديكھنے كا باعث ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 17 / 160 ).

اور جب مكمل حفاظت اور اللہ تعالى كے حرام كام كے ارتكاب سے اجتناب اور امن ہو تو پھر ا سكا ان كے پاس صرف فى ذاتہ رات بسر كرنا حرام نہيں.

ليكن .... جيسا كہ آپ نے بيان كيا ہے كہ گھر تنگ ہے، اس ليے آپ كى بہن اور بہنوئى كو كوئى اور رہائش تلاش كر كے وہاں منتقل ہو جانا چاہيے ـ اگر وہ مستقل آپ كے پاس رہائش پذير ہيں ـ يا پھر اگر وہ صرف تمہيں ملنے آتے ہيں ـ اور اس صورت ميں آپ كے پاس رہتے ہيں ـ تو اس مدت ميں انہيں كمى كرنى چاہيے، اور اس سارے اوقات ميں آپ بہنوئى سے پردہ كرنے ميں كوتاہى سے كام مت ليں، چاہے آپ كے ليے ايسا كرنے ميں مشقت بھى ہو، كيونكہ يہ تو اللہ تعالى كا حكم ہے، اور وہ اپنے بندوں كى حالت كا زيادہ علم ركھتا ہے.

مزيد معلومات كے ليے آپ سوال نمبر ( 40618 ) اور ( 13728 ) اور ( 13261 ) اور ( 13261 ) اور ( 6408 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments