Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
52845

سياحتى سفر كا حكم

كيا اگر ميں اپنے بيوى بچوں كو تفريح كى غرض سے ليكر كسى اسلامى ملك جاؤں تو مجھے اجروثواب حاصل ہو گا ؟

الحمد للہ:

ان اسلامى ممالك كى طرف سفر كرنا جائز ہے جہاں اسلامى شريعت كا نفاذ ہے، اور يہ سفر برائى اور فحاشى سے خالى ہو، جن ممالك كے باشندے مسلمان تو ہيں، ليكن وہاں شريعت اسلاميہ نافذ نہيں تو ان ممالك ميں سير و سياحت كى غرض سے جانا صحيح نہيں، اور كفار كے ممالك جانا تو بالاولى حرام ہو گا، اور ان ممالك كى طرف سفر كرنا جائز نہيں، صرف مجبور شخص مثلا علاج كى غرض سے مريض، يا كسى صحيح غرض مثلا تجارت يا دعوت دين كى غرض سے جانے والا جا سكتا ہے.

شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

غير اسلامى ممالك مثلا عيسائى يا لادين ممالك كا سفر كرنے كا حكم كيا ہے ؟

اور كيا سير و سياحت اور علاج اور تعليم كى غرض سے سفر ميں كوئى فرق پايا جاتا ہے ؟

شيخ كا جواب تھا:

" كفريہ ممالك كى جانب سفر كرنا جائز نہيں، كيونكہ اس ميں عقيدہ اور اخلاق كو خطرہ لاحق ہوتا ہے، اور پھر كفار كے ساتھ ميل جول اور اختلاط اور ان كے مابين رہنا پڑتا ہے، ليكن اگر كوئى ضرورت پيش آجائے اور سفر كى غرض صحيح ہو مثلا كسى ايسے مرض كا علاج كراونے كى غرض سے جس كا علاج مسلمان ممالك ميں نہيں ہے، يا تجارت، يا كوئى ايسى تعليم جو مسلمان ممالك ميں ممكن نہيں، تو يہ مقصد اور غرض صحيح ہيں ان كى بنا پر سفر كيا جا سكتا ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ وہاں جانے والا شخص اپنے اسلامى شعار كى پابندى اور حفاظت كرے، اور ان كے ملك ميں رہتے ہوئے دين اسلام كى پابندى كرے، اور يہ سفر صرف ضرورت كے مطابق ہو، اور ضرورت ختم ہونے كے بعد وہ مسلمان ملك ميں واپس لوٹ آئے.

ليكن سير و سياحت كى غرض سےكفار ممالك كا سفر كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ مسلمان شخص كو اس كى كوئى ضرورت نہيں، اور نہ ہى اس ميں اسے كوئى مصلحت اور فائدہ حاصل ہوتا ہے، جس سے دين اور عقيدہ كو پيش آنے والے خطرات سے بچايا جا سكتا ہو.

اور شيخ حفظہ اللہ سے يہ بھى دريافت كيا گيا:

جن اسلامى ممالك ميں كثرت سے برائى اور كبيرہ گناہ مثلا زنا اور شراب نوشى وغيرہ كا ارتكاب كيا جاتا ہے، ان ممالك كا سفر كرنے كا حكم كيا ہے ؟

شيخ كا جواب تھا:

" اسلامى ممالك سے مراد وہ ملك ہيں جہاں حكومت نے اسلامى شريعت كا نفاذ كر ركھا ہے، نہ كہ وہ ملك مراد ہيں جہاں مسلمان تو بستے ہيں ليكن وہاں كى حكومت اسلامى شريعت نافذ نہيں كرتى بلكہ اس نے دوسرے قوانين نافذ كر ركھے ہيں تو يہ اسلامى ملك نہيں.

اور اگر پہلے معنى كے اسلامى ملك ( يعنى جہاں شريعت كا نفاذ تو ہے ) ميں بھى برائى اور منكرات كا ارتكاب ہوتا ہے تو فساد و برائى سے متاثر ہونے كے پيش نظر وہاں كا سفر كرنا جائز نہيں، ليكن جو اسلامى ممالك دوسرے معنى كے ہيں ـ يعنى غير اسلامى ملك ـ تو ہم اس كا حكم پہلے جواب ميں بيان كر چكے ہيں "

اور شيخ حفظہ اللہ سے يہ بھى دريافت كيا گيا:

گرميوں كى چھٹيوں ميں اپنے بچوں كو انگلش سيكھنے يا سير و سياحت كى غرض سے باہر روانہ كرنے والے والدين كے متعلق آپ كيا نصيحت كرتے ہيں، اور باہر كا سفر كرنے والوں كو آپ كى كيا نصيحت ہے ؟

شيخ كا جواب تھا:

" ان والدين كو ميرى نصيحت يہ ہے كہ وہ اپنى اولاد كے متعلق اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتے ہوئے اللہ سے ڈريں، كيونكہ يہ ان كى گردنوں ميں امانت ہے، اور روز قيامت ان سے اس كے متعلق جواب دينا ہو گا، تو ان كے ليے جائز نہيں كہ وہ اپنے بچوں كو كفار ممالك كا سفر كرا كر تباہ كريں، اس خدشہ كے پيش نظر كہ وہ منحرف ہو كر اپنے دين سے ہى ہاتھ نہ دھو بيٹھيں، اور ـ اگر وہ اس كى ضرورت محسوس كرتے ہيں ـ انگلش كى تعليم تو كفار ممالك كا سفر كيے بغير اپنے ملك ميں ہى رہ كر حاصل كى جا سكتى ہے، اور اس سے بھى زيادہ خطرناك چيز تو انہيں سير و سياحت كى غرض سے كفار ممالك كا سفر كرانا ہے، جيسا كہ پہلے جواب ميں بيان كيا جا چكا ہے كہ سير و سياحت كى غرض سے كفار ممالك كا سفر كرنا حرام ہے.

اور جن كے ليے باہر كا سفر كرنا شرعا جائز ہے، انہيں ميرى يہ نصيحت ہے كہ وہ اللہ كا تقوى اختيار كرتے ہوئے اپنے دين كى حفاظت كريں اور وہاں جا كر دين كا اظہار كريں، اور اس سے عزت حاصل كريں، اور دين كى دعوت ديں، اور دين لوگوں تك پہنچائيں.

اور وہ ايك اچھا قدوہ اور نمونہ بن كر مسلمانوں كے ليے صحيح مثال بنيں، اور ضرورت سے زيادہ كفريہ ممالك ميں نہ رہيں، جيسے ہى ضرورت ختم ہو واپس آ جائيں, واللہ تعالى اعلم "

ديكھيں: المنتقى ( 2 / 253 - 255 ).

اور محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

باہر كے ممالك يعنى اسلامى ممالك كا فيملى كے ساتھ سفر كرنے كا حكم كيا ہے، يہ علم ميں رہے كہ اس كے ليے پاسپورٹ كى ضرورت ہوتى ہے اور اس ميں عورتوں كى تصاوير كو مرد ديكھتے ہيں، اور بعض اوقات مرد عورت كو اپنا چہرہ ننگا كرنے كا بھى كہتا ہے، تا كہ اس كى شخصيت اور پاسپورٹ كا ثبوت حاصل ہو، تو كيا بغير كسى ضرورت كے ايسا كرنا جائز ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

اول:

ہم تو بغير كسى اشد ضرورت اور حاجت يا راجح مصلحت كے باہر كے ممالك كا سفر كرنا جائز نہيں سمجھتے؛ اس ليے كہ باہر كے ممالك كا سفر كرنے كے ليے بہت زيادہ خرچ دركار ہوتا ہے، جس كى كوئى ضرورت نہيں، تو اس طرح يہ مال كے ضياع كا باعث بنتا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مال ضائع كرنے سے منع فرمايا ہے.

دوم:

يہ سفر انہيں ہو سكتا ہے بعض ان امور سے مشغول كر كے ركھ دے جن ميں وہ اپنے ملك كے اندر رہ كر مشغول ہو سكتے تھے، مثلا صلہ رحمى اور طلب علم، اگر وہ تعليم حاصل كر رہے تھے، وغيرہ اور اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ كسى نفع مند چيز كو چھوڑ كر كسى اور بغير نفع كے كام ميں مشغول ہونا انسان كى عمر كا خسارہ شمار ہوتا ہے.

سوم:

جن ممالك كا يہ لوگ سفر كرتے ہيں ہو سكتا ہے وہ ممالك اخلاقى اور فكرى طور پر كسى دوسرے كے ماتحت ہوں اور ان كا قبضہ ہو، تو اس سے انسان كے اخلاق اور افكار كو ضرر و نقصان پہنچتا ہے، اور باہر كا سفر كرنے ميں سب سے شديد ترين خطرناك امر يہى ہے.

اس ليے ميں سائل اور دوسروں كو يہى كہتا ہوں كہ: الحمد للہ ہمارے پاس ہمارے ملك ميں بہت سارى جگہيں ايسى ہيں جو باہر جا كر سير و سياحت كرنے سے كفائت كرتى ہيں، اور پھر اس ميں خرچ بھى كم ہوتا ہے اور اپنے ملك كے شہريوں كو بھى فائد پہنچتا ہے "

ديكھيں: لقاء الباب المفتوح سوال نمبر ( 810 ).

آپ مزيد معلومات كے حصول كے ليے سوال نمبر ( 13342 ) كےجواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments