Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
5373

كسى دوسرے ملك ميں طلاق ہوئى اور سركارى ادارہ طلاق كا اسٹام تسليم نہيں كرتا

ايك مسلمان شخص نے جرمنى كى ايك مسجد ميں ايك مسلمان عورت سے شادى كى اور بعد ميں اسے طلاق ہو گئى اور طلاق كا اسٹام بھى مل گيا، ليكن جب يہ عورت كسى عرب ملك ميں مسلمان شخص سے شادى كرنے لگى تو اس عرب ملك كا سركارى ادارہ اس طلاق كو تسليم نہيں كرتا كيونكہ طلاق كے پيپر پر گواہوں كے نام نہيں ہيں.
جرمنى كى جس مسجد ميں نكاح ہوا وہ بھى موجود نہيں، اور اس كا پہلا خاوند بھى وہاں سے چلا گيا ہے اور عورت كو اس كا ايڈريس بھى معلوم نہيں، اب يہ عورت شادى كرنے كے ليے كيا كرے ؟

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين حفظہ اللہ كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

جى ہاں يہ اسلامى مركز كے ذريعہ كى بجائے بھى شادى كر سكتى ہے، ليكن يہ ضرروى ہے كہ يہ شادى اس كا ولى كرے ( اور اس ميں نكاح كى باقى شروط پائى جائيں اس كى ليے آپ سوال نمبر ( 2127 ) كے جواب كا مطالعہ كريں )، اور دوسرى شرط يہ ہے كہ اس عورت كى عدت ختم ہو چكى ہو.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments