Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
5540

سودى كارڈوں كے ذريعہ تعليمى فيس كى ادائيگى كرنا

ميں اپنى پڑھائى كے سلسلے ميں بہت پريشان ہوں، ماشاء اللہ ميرے نتائج تو بہت اچھے ہيں، ليكن ميرے ليے مشكل يہ ہے كہ ميرے پاس اپنى تعليم مكمل كرنے كے ليے مال نہيں، ميں امريكى نہيں جس كى بنا پر مجھے بہت سى مراعات حاصل نہيں ہيں، مجھے دو سميسٹر كى تعليم حاصل كرنے كى اجازت اس شرط پر دى ہے كہ ميں ان گرميوں كام كے بعد تعليمى اخراجات كى اقساط كى ادائيگى كروں.
يونيورسٹى كے شعبہ ماليات كے آفس نے مجھے تعليمى اخراجات ( 8000$ ) جمع كرانے كى مہلت دى ہے اور اگر ميں ادائيگى نہ كر سكا تو ميرى تعليم يہيں موقوف ہو جائے گى، ميں كوشش كر رہا ہوں كہ گرميوں ميں مجھے كوئى ملازمت مل جائے، ليكن ابھى تك مجھے كوئى كام نہيں ملا ميرا سوال يہ ہے كہ:
اگر ميں تين ماہ كے اندر اتنى رقم حاصل نہيں كرسكتا تو كيا ميں تعليمى اخراجات كى ادائيگى كے ليے كريڈٹ كارڈ استعمال كرسكتا ہوں؟
مجھے علم ہے كہ ميں بنك كو مقررہ مدت كے اندر ادائيگى نہيں كرسكوں گا، اور مجھے سود ادا كرنے پر مجبور ہونا پڑے گا، جيسا كہ ميں نے ايك لڑكى سے منگنى بھى كى ہے اور اس كے گھر والے ہمارى شادى پر بھى موافق ہيں، اور اگر ميرى تعليم يہيں رك جاتى ہے تو اس كے گھر والے مجھے شادى بھى نہيں كرنے دينگے.
ميں ان سب معاملات سے بہت زيادہ پريشان اور غمزدہ ہوں، ميرى گزارش ہے كہ آپ مجھے بتائيں كہ ان حالات ميں مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

مسلمان كے ليے سود دينا جائز نہيں چاہے حالات كيسے بھى ہوں جائيں، كيونكہ سود خور اور سود كھلانے والا بہت ہى خطرہ ميں ہيں جيسا كہ صحيح حديث شريف ميں وارد ہے:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود كھانے اور كھلانے، اور اس كے لكھنے والے، اور اس كے دونوں گواہوں لعنت فرمائى، اور فرمايا يہ سب برابر ہيں "

تو كيا آپ كو اچھا لگتا ہے كہ آپ ان لوگوں ميں شامل ہوں جن كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اللہ تعالى كى رحمت سے دھتكارے جانے كى دعا كى ہے. بلاشبہ يہ خسارہ تو بہت ہى بوجھل ہے، اور كوئي مقارنہ اور موازنہ نہيں.

اور ايك نقطہ اور بھى ہے كہ: آپ جان ليں كہ جس كسى نے بھى كوئي چيز اللہ تعالى كے ليے ترك كردى اللہ تعالى اسے اس كا نعم البدل اور اس سے بہتر عطا فرماتا ہے، اور جوكوئى بھى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرے قريب ہے كہ اللہ تعالى اسے اپنے فضل و كرم سے غنى كردے، اور اس كى مصيبتوں كو دور كردے اور اس كے معاملات كوآسان كردے.

اللہ تعالى اپنے بندے كے ليے تو اس سے بھى بہتر اختيار كرتا ہے جو بندہ خود اپنے ليےاختيار كرتا ہے، لہذا آپ اللہ تعالى پر توكل كريں اور اسى پر بھروسہ كريں، اور اپنے نفس كو اس كى ناراضگى كے سامنے نہ پيش كريں.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اور ہو سكتا ہے كہ تم كسى چيز كو ناپسند كرو اور وہ تمہارے ليے بہتر ہو، اور ہو سكتا ہے كہ تم كسى چيز سے محبت كرو اور وہ تمہارے ليے برى ہو، اللہ تعالى جانتا ہے اور تم نہيں جانتے}.

اللہ تعالى تمہيں ہر اس چيز كى توفيق عطا فرمائے جس سے وہ محبت كرتا ہے اور راضى ہوتا ہے، اور آپ كے معاملہ كو آسان بنائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments