Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
5710

کیا عورت یہ خواہش کرسکتی ہے کہ وہ مرد ہو۔

مرد کو جنت میں ایک سے زیادہ حوروں کا بدلہ کیوں دیا جائے گا حالانکہ عورت کے ساتھ یہ معاملہ نہیں؟ حقیقت میں تو یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے خاوند میں دوسروں کے ساتھ شریک ہو (حوروں وار بیویوں)
تو کیا اس موضوع کے متعلق کوئی اور چیز بھی ہے جسکا مجھے علم نہیں۔ میں یہ جانتا ہوں کہ جنت میں شادی اور خاوندں سے بھی زیادہ کچھ ہوگا لیکن مجھے پھر اس سوال کا جواب چاہئے۔ یہ موضوع میرے ذہن میں بہت لمبی مدت سے گھوم رہا ہے۔

الحمدللہ

صحابیات میں سے بعض نے یہ خواہش کی کہ وہ مرد ہوں تاکہ اللہ تعالی کے راستہ میں جہاد کریں تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی۔

"اور اس کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللہ تعالی نے تم میں سے بعض کو بعض پر بزرگی دی ہے مردوں کا اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور اللہ تعالی سے اس کا فضل مانگو یقینا اللہ تعالی ہر چیز کا جاننے والا ہے" النساء/32

تو اللہ تعالی نے عورتوں کو ایسے تمنا کرنے سے منع کردیا جو کہ مرد کے ساتھ خاص ہیں تو اللہ تعالی نے مردوں کے لئے دنیا میں عمل کا حصہ اور آخرت میں جزا وبدلہ کا حصہ مقرر کردیا اور اسی طرح عورتوں کےلئے بھی مقرر کیا۔

میں اللہ تعالی جو کہ ہبہ کرنے والا ہے سے دعاگو ہوں کہ وہ آپ کو اس تمنا کے بدلے اپنا فضل دے۔

اور بھلائی میں سے جو چیز اللہ نے اپنے بندوں کے لئے تقسیم کی ہے اسے اس کا بخوبی علم ہے کہ انہیں کیا اچھا رہے گا۔

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments