Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
59879

كفار سے دوستى لگانے كا معنى كيا ہے ؟ اور كفار سے ميل جول كا حكم

قرآن مجيد ميں ہے كہ ہمارے ليے كفار كو دوست بنانا جائز نہيں، ليكن اس كا معنى كيا ہے، ميرا مقصد ہے كہ كس حد تك ؟
كيا ہمارے ليے كفار كے ساتھ لين دين كرنا جائز ہے؟
ميں زير تعليم ہوں، كيا ہمارے ليے ان كے ساتھ ٹيبل ٹينس كھيلنا جائز ہے ؟
كيا ہم ان كے ساتھ ٹيبل ٹينس وغيرہ كے امور بات چيت كر سكتے ہيں؟
كيا ہمارے ليے ان كے ساتھ اٹھنا بيٹھنا جائز ہے، باوجود اس كے كہ وہ اپنے اعتقادات پر ڈٹے ہوئے ہيں؟
ميں يہ سب كچھ اس ليے دريافت كر رہا ہوں كہ ميں ايك ايسے شخص كو جانتا ہوں جو كفار كے ساتھ اس طريقہ پر ميل جول ركھتا ہے، اور وہ ان كے ساتھ ان معاملات ميں مصاحبت اختيار كرتا ہے جو اس كى عقيدہ پر اثرانداز نہيں ہوتے، ميں اس كے باوجود اسے يہ كہتا رہتا ہوں:
" اس كے بدلے آپ مسلمانوں كے ساتھ كيوں نہيں رہتے؟ "
تو اس كا جواب يہ ہوتا ہے:
بہت سے مسلمان اپنے اجتماعات ميں اكثر شراب نوشى كرتے اور نشہ آور اشياء استعمال كرتے ہيں، اور اس كے ساتھ ساتھ ان كى گرل فرينڈز بھى ہيں، اور اسے ڈر ہے كہ ان مسلمانوں كى معاصى اور گناہ اسے بھى نہ گھير ليں، ليكن اسے يہ يقين ہے كہ كفار كا كفر اسے كچھ نقصان نہيں دے سكتا، كيونكہ يہ كفر اس كے ليے ايسى چيز نہيں جو اسے دھوكہ دے سكے، تو كيا اس كا ان كفار كے ساتھ ميل جول، اور كھيل كود، اور كھيل كے متعلقہ امور ميں بات چيت كرنا " مومنوں كو چھوڑ كر كفار سے دوستى " كرے زمرہ ميں آتا ہے ؟

الحمد للہ :

اول:

اللہ سبحانہ وتعالى نے مومنوں كے ليے كفار كے ساتھ دوستى لگانا حرام كيا ہے، اور ايسا كرنے پر بہت سخت قسم كى وعيد سنائى ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اے ايمان والو! تم يہود و نصارى كو دوست مت بناؤ، يہ تو آپس ميں ہى ايك دوسرے كے دوست ہيں، تم ميں سے جو بھى ان ميں سے كسى سے بھى دوستى كرے گا وہ بے شك انہى ميں سے ہو ہے، ظالموں كو اللہ تعالى ہرگز ہدايت نصيب نہيں كرتا} المائدۃ ( 51 ).

شيخ شنقيطى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اس آيت كريمہ ميں يہ بيان ہوا ہے كہ مسلمانوں ميں سے جو شخص بھى يہود و نصارى كے ساتھ دوستى لگائے گا تو وہ ان كے ساتھ دوستى لگانے كے باعث انہيں ميں سے شمار ہو گا.

اور ايك دوسرى جگہ بيان ہوا ہے كہ ان سے دوستى لگانا اللہ تعالى كى ناراضگى و غصہ اور اس كے عذاب ميں ہميشگى كا باعث ہے، اور ان كفار سے دوستى لگانے والا شخص اگر مومن ہوتا تو كبھى بھى ان كے ساتھ دوستى نہ لگاتا.

وہ فرمان بارى تعالى يہ ہے:

{ان ميں سے بہت سے لوگوں كو آپ ديكھيں گے كہ وہ كافروں سے دوستياں كرتے ہيں، جو كچھ انہوں نے اپنے ليے آگے بھيج ركھا ہے وہ بہت برا ہے، كہ اللہ تعالى ان سے ناراض ہو اور وہ ہميشہ عذاب ميں رہيں گے، اگر وہ اللہ تعالى اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم اور جو اس پرنازل كيا گيا ہے اس پر ايمان ركھتے ہوتے تو يہ كفار سے دوستياں نہ كرتے، ليكن ان ميں سے اكثر لوگ فاسق ہں} المائدۃ ( 80 - 81 ).

اور ايك اور جگہ ميں بيان فرمايا گيا ہے كہ يہ اس وقت ہے جب دوستى كا سبب خوف اور تقيہ و بچاؤ نہ ہو، ليكن اگر دوستى كا سبب يہ ہو تو پھر دوستى لگانے والا معذور شمار ہو گا.

فرمان بارى تعالى ہے:

{مومنوں كو چاہيے كہ وہ ايمان والوں كو چھوڑ كر كافروں سے دوستياں نہ لگاتے پھريں، اور جو كوئى بھى ايسا كرے گا وہ اللہ تعالى كى كسى حمايت ميں نہيں، مگر يہ كہ ان كے شر سے كسى طرح بچاؤ مقصود ہو}آل عمران ( 28 ).

لھذا اس آيت كريمہ ميں يہ بيان ہوا ہے كہ جتنى بھى آيات ميں كفار سے مطلقا دوستى كرنے كا حكم آيا ہے وہ اختيارى حالت ميں ہے، ليكن خوف اور ڈر اور بچاؤ كى حالت ميں اتنى دوستى كرنے كى اجازت ہے جس سے ان كے شر اور برائى سے محفوظ رہا جا سكے، ليكن اس ميں بھى شرط يہ ہے كہ اس حالت ميں بھى دوستى كرنے والا شخص باطنى طور پر دوستى نہ لگائے بلكہ صرف اوپر اوپر سے ہى ركھے، اور اضطرارى حالت ميں كوئى كام كرنے والا شخص اختيارى حالت ميں كام كرنے والے شخص كى مانند نہيں ہے.

ان آيات كے ظاہر سے يہى سمجھ آتى ہے كہ جس شخص نے بھى عمدا اور جان بوجھ كر ان كے ساتھ رغبت كرتے اور انہيں چاہتے ہوئے دوستى كى وہ بھى ان كى طرح كافر ہے" انتہى

ديكھيں: اضواء البيان للشنقيطى ( 2 / 98 - 99 ).

اور كفار كے ساتھ حرام كردہ دوستى كى صورتوں ميں سے ايك صورت يہ بھى ہے كہ:

كفار كو دوست اور ساتھى بنايا جائے، اور ان كے ساتھ كھانے پينے اور كھيل ميں ميل جول ركھا جائے.

سوال نمبر ( 10342 ) كے جواب ميں ہم نے شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كا قول نقل كيا تھا كہ:

" جب ضرورت يا كوئى شرعى مصلحت ہو تو كافر كے ساتھ كھانے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن تم انہيں ساتھى بنا كر ان كے ساتھ بغير كسى شرعى سبب يا كسى شرعى مصلحت كے بغير نہ كھاؤ، اور نہ ہى ان كے ساتھ انس ركھو، اور ان كے ساتھ ہنسو، اور كھيلو كودو، ليكن جب اس كى ضرورت پيش آئے مثلا: مہمان كے ساتھ كھانا، يا انہيں اللہ تعالى كى دعوت پيش كرنے يا حق كى دعوت دينے يا كسى اور شرعى سبب كے پيش نظر كھانا پڑے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

اور اہل كتاب كا كھانا ہمارے ليے جائز ہونے كا مطلب يہ نہيں كہ ہم انہيں دوست اور ساتھى اور ہم نشين، ہم نوالہ و ہم پيالہ بنا ليں، اور نہ ہى اس كا تقاضا يہ ہے كہ ہم بغير كسى شرعى حاجت اور سبب اور شرعى مصلحت كے ان كفار كے ساتھ كھانا پينا شروع كرديں ". انتہى

اور شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے جب كفار كے اسلام لانے كا لالچ اور طمع كرتے ہوئے ان كے ساتھ ميل جول اور اختلاط اور ان كے ساتھ نرم برتاؤ اور معاملات كرنے كا حكم دريافت كيا گيا تو شيخ رحمہ اللہ تعالى نے جواب ديا:

فرمان بارى تعالى ہے:

{( مسلمانو! ) تمہارے ليے ابراہيم عليہ السلام ميں اور ان كے ساتھيوں ميں بہترين نمونہ ہے، جبكہ ان سب نے اپنى قوم سے برملا كہہ ديا كہ ہم تم سے اورجن جن كى تم اللہ تعالى كے سوا عبادت كرتے ہو ان سب سے بالكل بيزار ہيں، ہم تمہارے ( عقائد كے ) منكر ہيں جب تك تم اللہ تعالى وحدانيت پر ايمان نہ لاؤ ہم ميں اور تم ميں ہميشہ كے ليے بغض و عداوت ظاہر ہو گئى} الممتحنۃ ( 4 ).

اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد ربانى ہے:

{آپ اللہ تعالى اور قيامت كے دن پر ايمان ركھنے والوں كو اور اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى مخالفت كرنے والوں سے محبت ركھتے ہوئے ہر گز نہيں پائيں گے، چاہے وہ ان كے باپ ہوں يا ان كے بيٹے، يا ان كے بھائى ہوں يا ان كے كنبہ قبيلہ كے عزيز ہى كيوں نہ ہوں، يہى لوگ ہيں جن كے دلوں ميں اللہ تعالى نے ايمان لكھ ديا ہے، اور جن كا تائيد اپنى روح كے ساتھ كى ہے} المجادلۃ ( 22 ).

اور اس بنا پر كسى بھى مسلمان شخص كے ليے حلال نہيں كہ اس كے دل ميں اللہ تعالى كے دشمنوں جو واقعتا اس كے اپنے بھى دشمن ہيں كى محبت و مودت پيدا ہو.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اے ايمان والو! ميرے اور ( خود ) اپنے دشمنوں كو اپنا دوست مت بناؤ تم تو ان كى طرف دوستى كے پيغام بھيجتے ہو، اور وہ اس حق كے ساتھ جو تمہارے پاس آچكا ہے كفر كرتے ہيں} الممتحنۃ ( 1 ).

اور رہا مسئلہ يہ كہ اگر مسلمان شخص كو ان كے مسلمان ہونے اور ايمان لانے كا لالچ اور طمع ہو تو ان كے ساتھ نرم برتاؤ اور نرمى اختيار كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ يہ اسلام قبول كرنے پر تاليف ہونے كے اعتبار سے ہے، ليكن جب ان كے اسلام قبول كرنے سے نااميد ہو جائے تو پھر ان كے ساتھ وہى معاملہ اور برتاؤ ركھا جائے گا جس كے وہ مستحق ہيں.

اس كى تفصيل آپ كو اہل علم كى كتب ميں ملے گے اور خاص كر ابن قيم رحمہ اللہ كى كتاب " احكام اہل الذمۃ " ميں ديكھ سكتے ہيں. انتھى

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 3 / سوال نمبر ( 389 ).

دوم:

اور سوال كرنے والے كا يہ كہنا كہ:

وہ گنہگار مسلمانوں سے ميل جول اس خدشہ كے پيش نظر نہيں ركھتا كہ كہيں ان كى معاصى و گناہ اسے بھى اپنى لپيٹ نہ لے ليں، ليكن كفار كا كفر اسے دھوكہ نہيں دے سكتا.

اس كے جواب ميں يہ كہا جا سكتا ہے كہ:

اگر تو وہ ان گنہگاروں كو نصيحت نہيں كر سكتا اور انہيں برائى سے منع نہيں كرسكتا، اور اسے اپنے آپ كو ڈر ہے كہ كہيں وہ بھى ان گناہوں ميں نہ پڑ جائے تو اس كا ان معاصى اور گناہوں ميں لتھڑے ہوئے مسلمانوں سے ميل جول نہ ركھنا ايك اچھا كام ہے.

اور رہا مسئلہ كفار سے ميل جول اور اختلاط كرنے كا تو اس كى ممانعت كى علت صرف كفر ميں پڑنے كا خوف ہى نہيں، بلكہ اس حكم سے بھى كئى ايك ايسى علتيں ہيں جو زيادہ ظاہر ہيں: وہ يہ ہيں:

ان كا اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اور مومنوں سے بغض و عداوت اور دشمنى ركھنا.

اس علت كى طرف اشارہ كرتے ہوئے اللہ سبحانہ وتعالى نے فرمايا:

{اے ايمان والو! ميرے اور ( خود ) اپنے دشمنوں كو اپنا دوست مت بناؤ تم تو ان كى طرف دوستى كے پيغام بھيجتے ہو، اور وہ اس حق كے ساتھ جو تمہارے پاس آچكا ہے كفر كرتے ہيں، وہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اور تمہيں بھى صرف اس وجہ سے جلاوطن كرتے اور گھروں سے نكالتے ہيں كہ تم اپنے رب پر ايمان ركھتے ہو} الممتحنۃ ( 1 ).

تو پھر ايك مسلمان شخص كو يہ كيسے زيب ديتا ہے اور اس كے شايان شان كيسے ہے كہ وہ اللہ تعالى اور اپنے دشمن كے ساتھ دوستياں لگاتا پھرے؟!

پھر ان كے طريقوں اور مذہب كو اچھا سمجھنے والا شخص كيسے بے خطر و بے خوف رہ سكتا ہے؟

حالانكہ بہت سے مسلمان تو ان كے ساتھ ميل جول ركھنے اور دوستياں لگانے كے باعث ہى كفر و الحاد ميں پڑ كر اور ان كے ملكوں ميں بود و باش اختيار كركےدين اسلام سے مرتد ہو چكے ہيں، ان ميں سے بعض نےيہوديت اختيار كرلى ، اور كچھ نصرانى بن گئے، اور كچھ نے فلسفى اور ملحد قسم كا مذہب اختيار كر ليا.

اللہ تعالى سے ہمارے دعا ہے كہ وہ ہميں اپنے دين اسلام پر ثابت قدم ركھے.

آپ سوال نمبر ( 2179 ) كا جواب ضرور ديكھيں، كيونكہ اس ميں كفار سے دوستى كى حرمت " جيسے عظيم اصول اور قاعدے كى تفصيل اور وضاحت موجود ہے، اور اس ميں كفار سے حرام كردہ دوستى كى مختلف قسم كى صورتيں بھي بيان ہوئى ہيں.

اور آپ كو سوال نمبر ( 43270 ) كے جواب ميں اس بات كا حكم ملے گا كہ مسلمانوں كے اخلاق سے كفار كا اخلاق افضل ہے، اور اس قول كى حرمت كے متعلق ابن باز رحمہ اللہ تعالى كا قول بھى ملے گا.

اور كفار كے ساتھ دوستى لگانے اور اسے اپنا ساتھى بنانے كا حكم جاننے كے ليے آپ سوال نمبر ( 26118 ) اور ( 23325 ) كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments