60131: عورت كے ليے چھوٹى قميص كے نيچے پتلون پہننے كا حكم


كيا ميرے ليے كھلى اور چوڑى پينٹ ( پتلون ) اور اس كے اوپر ٹخنوں تك لمبى قيمص پہننى جائز ہے، جس ميں كوئى شگاف وغيرہ نہ ہو اور نہ ہى باريك اور تنگ ہو ؟

الحمد للہ:

غير محرم مردوں كے سامنے جو لباس عورت پہن كر آسكتى ہے اس ميں آٹھ شروط كا ہونا ضرورى ہے، شروط درج ذيل ہيں:

1 - وہ لباس سارے جسم كے ليے ساتر يعنى سارے جسم كو چھپانے والا ہو، جس ميں ہاتھ اور چہرہ بھى شامل ہيں، اس كے دلائل سوال نمبر ( 11774 ) كے جواب ميں بيان ہو چكے ہيں.

2 - وہ لباس كھلا اور واسع ہو، جو نہ تو جسم كے اعضاء كا حجم واضح كرتا ہو، اور نہ ہى جسم كے جوڑ اور انگ.

3 - باريك نہ ہو كہ جلد كى رنگت واضح كرتا پھرے.

4 - وہ لباس فى نفسہ خود زينت نہ ہو، مثلا اس پر كڑھائى كى گئى ہو، اور كشيدہ كارى كى گئى ہو.

5 - اس لباس كو خوشبو نہ لگائى گئى ہو.

6 - وہ لباس مردوں كے لباس كى مشابہ نہ ہو.

7 - وہ لباس كافر عورتوں كے لباس سے مشابہ نہ ہو.

8 - وہ لباس شہرت والا نہ ہو.

ديكھيں: آداب الزفاف تاليف علامہ البانى رحمہ اللہ ( 177 ) اور حجاب المراۃ المسلمۃ تاليف علامہ البانى رحمہ اللہ ( 19 - 111 ) اور عودۃ الحجاب ( 3 / 145 - 163 ).

اس بنا پر عورت كے ليے مردوں كے سامنے پينٹ ( پتلون ) يا پائجامہ پہن كر آنا جائز نہيں، اس كى دو وجہيں ہيں:

پہلى: كيونكہ اس سے عورت كى ٹانگوں كا حجم ظاہر ہوتا ہے.

دوسرى: اسے پہننے ميں مردوں سے مشابہت ہوتى ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ميرى رائے تو يہ ہے كہ مسلمانوں كواس لباس كے پيچھے نہيں بھاگنا چاہيے جو ادھر ادھر سے مسلمانوں ميں آ رہے ہيں؛ اور ان لباسوں ميں بہت سے تو اسلامى لباس كے شايان شان نہيں، اسلامى لباس مكمل ساتر ہے، اور يہ لباس چھوٹے ہوتے ہيں، يا پھر تنگ يا ہلكے اور بہت زيادہ باريك، اس ميں پتلون اور پينٹ وغيرہ بھى شامل ہے، كيونكہ يہ عورت كى ٹانگوں كا مكمل حجم ظاہر كرتى ہے، اور اسى طرح ا سكا پيٹ اور پہلو اور چھاتى وغيرہ بھى واضح ہوتى ہے.

اور يہ پينٹ شرٹ پہننے والى عورت اس حديث كے تحت ان دو قسموں ميں شامل ہوتى ہے جس كا ذكر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے درج ذيل حديث ميں كيا ہے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جہنميوں كى دو قسميں ہيں جنہيں ميں نے نہيں ديكھا، ايك وہ قوم جن كے ہاتھوں ميں گائے كى دموں جيسے كوڑے ہونگے وہ اس سے لوگوں كو مارينگے، اور وہ لباس پہننے والى ننگى عورتيں جو خود مائل ہونے والى اور دوسروں كو مائل كرنے والى، ان كے سر بختى اونٹوں كى مائل كوہانوں كى طرح ہونگے، وہ نہ تو جنت ميں داخل ہونگى اور نہ ہى جنت كى خوشبو ہى پائينگى، حالانكہ جنت كى خوشبو اتنى اتنى مسافت سے پائى جاتى ہے " انتہى.

اس حديث كو امام مسلم رحمہ اللہ نے حديث نمبر ( 2128 ) ميں روايت كيا ہے.

اور شيخ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

" ميں تو پينٹ اور پتلون كو عورت كے ليے حرام سمجھتا ہوں، كيونكہ يہ مردوں كى مشابہت ہے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مردوں كے ساتھ مشابہت كرنے والى عورتوں پر لعنت كى ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ عورت سے شرم و حياء ختم كر ديتى ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ جہنميوں كے لباس كا دروازہ كھولتى ہے.

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جہنميوں كى دو قسميں ہيں جنہيں ميں نے نہيں ديكھا "

اور ان ميں سے ايك قسم كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا:

" وہ عورتيں جنہوں نے لباس تو پہنا ہوگا ليكن ہونگى ننگى، اور وہ خود مائل ہونے والى ہونگى، اور دوسروں كو مائل كرنے والى، ان كے سر بختى اونٹوں كى مائل كوہانوں جيسے ہونگے، وہ جنت ميں داخل نہيں ہونگى، اور نہ ہى جنت كى خوشبو ہى حاصل كرينگے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 12 ) سوال نمبر ( 192 - 194 ).

اور مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" عورت كے ليے پتلون اور پينٹ پہننى جائز نہيں؛ كيونكہ اس ميں مردوں كے ساتھ عورتوں كى مشابہت ہوتى ہے "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 17 / 102 ).

اور آپ مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 10436 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

رہا مسئلہ عبايا يعنى برقع اور اوڑھنى وغيرہ كے نيچے پتلون پہننا تو اس ميں كوئى حرج نہيں، بلكہ اس سے ستر ميں اضافہ ہوتا ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ جب اوڑھنى اور اوپر والا كپڑا ساتر ہو، اور اس ميں كوئى شگاف وغيرہ نہ ہو جس سے نيچے والا لباس نظر آتا ہو.

شيخ عبد الرزاق عفيفى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب عورت پتلون اور پينٹ پہن كر اوپر مكمل لباس پہنے جو اس كو چھپا كر ركھے تو اس ميں مردوں سے مشابہت نہيں ہوتى جب تك پينٹ اور پتلون نيچے پہن ركھى اور اوپر لمبى قميص وغيرہ ہو " انتہى.

ماخوذ از: فتاوى الشيخ عبد الرزاق عفيفى صفحہ نمبر ( 573 ).

اصل يہ ہے كہ اوپر اوڑھى جانے والى اوڑھنى يا چادر اور عبايا وغيرہ مكمل ساتر ہو، اور وہ عورت كے پاؤں كے اوپر والے حصہ كو بھى ڈھانپ رہى ہو، اس كى دليل ترمذى، نسائى، ابو داود اورابن ماجہ كى درج ذيل حديث ہے:

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى تكبر كے ساتھ كپڑا كھينچا اللہ تعالى روز قيامت اس كى جانب ديكھے گا بھى نہيں "

تو ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا كہنے لگيں:

تو پھر عورتيں اپنى لٹكتى ہوئى چادروں كا كيا كريں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" وہ ايك بالشت تك اسے ٹخنوں سے نيچے لٹكا كر ركھيں "

وہ كہنے لگيں:

" پھر تو ان كے پاؤں ننگے ہو جايا كرينگے "

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تو پھر وہ ايك ہاتھ نيچے لٹكا ليا كريں، اور اس سے زيادہ نہيں "

جامع ترمذى حديث نمبر ( 1731 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 5336 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 4117 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3580 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ترمذى ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.

باجى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا كا عورت كا اپنے پيچھے ايك بالشت كپڑا لٹكانے كے متعلق يہ كہنا كہ:

" پھر تو عورت كے پاؤں ننگے ہوا كرينگے "

اس سے ا نكى مراد يہ تھى كہ اتنا كپڑا اسے ڈھانپنے كے ليے ناكافى ہے؛ كيونكہ جب وہ تيز چلے گى تو پيچھے كپڑا كم ہونے كى بنا پر اس كے پاؤں ننگے ہو جايا كرينگے، اور جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس كا علم ہوا تو آپ نے فرمايا:

" تو پھر وہ ايك ہاتھ نيچے لٹكا ليا كرے، اس سے زيادہ نہيں " انتہى.

ماخوذ از: المنتقى.

اور شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

عورت كے ليے كپڑے لمبے ركھنا مستحب ہے يا كہ واجب ؟

اور كيا اگر كپڑے چھوٹے ہوں تو پاؤں ميں جراب پہن لينا كافى ہے كيونكہ اس سے پنڈلى بھى نظر نہيں آتى ؟

اور عورت ايك ہاتھ يا گز كپڑا لمبا كس طرح ركھے، آيا ٹخنوں سے ايك ہاتھ نيچے يا كہ گھٹنے سے نيچے ؟

شيخ كا جواب تھا:

" مسلمان عورت سے مطلوب يہى ہے كہ وہ مردوں سے اپنا سارا جسم چھپا كر ركھے، اسى ليے اس كے ليے ايك ہاتھ كپڑا نيچے لٹكانے كى رخصت دى گئى ہے كہ اس كے پاؤں بھى ننگے نہ ہوں، حالانكہ مردوں كو ٹخنوں سے نيچے كپڑا لٹكانے سے منع كيا گيا اور ان كے ليے ايسا كرنا حرام ہے، جو اس بات كى دليل ہے كہ عورت سے مطلوب يہى ہے كہ وہ اپنا سارا جسم چھپا كر ركھے.

اور جب وہ جرابيں بھى پہنتى ہے تو يہ اس كے ستر ميں احتياط اور اضافہ كا باعث ہے، اور يہ بہت اچھا كام ہے، اور يہ جرابيں پہننا لباس كو لمبا اور لٹكانے كے ساتھ ہى ہو گا، جيسا كہ حديث ميں وارد ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے " انتہى.

ديكھيں: المنتقى من فتاوى الشيخ الفوزان ( 5 / 334 ).

حاصل يہ ہوا كہ:

عورت كے ليے لازم ہے كہ ا سكا عبايا اور اوڑھنى اور چادر ٹخنوں كو ڈھانپنے سے بھى زيادہ ہو، ليكن ٹخنوں سے بھى ايك بالشت اوپر عورت كے ليے جائز نہيں، چاہے اس كى پنڈلياں اور قدم پينٹ يا جرابوں يا سلوار كے ساتھ ڈھانپے بھى ہوں؛ كيونكہ اس ميں مردوں سے مشابہت ہوتى ہے، جنہيں اپنا لباس ٹخنوں سے اونچا ركھنے كا حكم ہے، اور پھر ايسا كرنے ميں عورت كى ٹانگ كا حجم بھى واضح ہو جاتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments