Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
60221

عورت كا ٹيلى فون پر ماركيٹنگ كرنا

يہاں مغرب ميں كچھ ايسى غير ملكى كپنياں ہيں جو يورپى كمپنيوں كى مالك ہيں اور يہاں مغرب ميں يہ كمپنياں يورپى كمپنيوں كے گاہكوں كى ٹيلى فون كے ذريعہ خدمت اس طرح كرتى ہيں كہ مغرب ميں موجود كمپنيوں سے يا تو يورپى گاہك ٹيلى فون پر رابطہ كرتے ہيں تا كہ اپنى ضروريات پورى كراسكيں، يا پھر يہ كمپنياں يہاں مغرب كے شہريوں سے رابطہ كر كے يورپى لوگوں كى ضروريات پورى كرتى اور اپنى تيار كردہ اشياء فروخت كرتى ہيں، اور ملازم انہيں فون پر ہى قائل كرنے كى كوشش كرتا ہے، اور يہ كمپنياں مختلف قسم كى اشياء كى ماركيٹنگ كرتى ہيں مثلا موبائل ٹيلى فون، انٹرنيٹ، انشورنس، اور كمپيوٹر ... . الخ
يہ كمپنياں بہت ہى تيزى سى پھيل رہى اور نوجوان لڑكے حتى كہ لڑكياں بھى اس كے دروازے كھٹكا ر ہے ہيں كيونكہ يہ كمپنياں اچھى تنخواہ ديتى ہيں، اور پھر حكومت بھى اس ميں معاونت كر رہى ہے ( اس نے ايك مخصوص پروگرام جارى كيا ہے جو دو ماہ جارى رہے گا ) يہ علم ميں رہے كہ ان كمپنيوں ميں عورتوں كى بے پردگى كا فتنہ عام ہے، ان كمپنيوں ميں ملازمت كرنا حلال ہے يا حرام ؟

الحمد للہ:

نہ تو مرد كے ليے اور نہ ہى عورت كيے ليے مخلوط جگہوں پر كام كرنا جائز ہے، اختلاط كے نتيجہ ميں بہت سارى خرابياں پيدا ہوتى ہيں، اور يہ شيطان كے ليے مسلمان شخص كو فحاشى و عريانى ميں ڈالنے كى سب سے بڑى راہ ہے، اسى ليے شريعت مطہرہ نے مسلمان كے ليے وہ سب راستے بند كر ديے ہيں جو حرام كے مرتكب ہونے كا باعث بنتے ہيں.

اختلاط كى حرمت اور اس كے دلائل ہم سوال نمبر ( 1200 ) كے جواب ميں بيان كر چكے ہيں، اور وہاں ہم نے ملازمت كرنے والى عورتوں كے مشاہدات و واقعات بھى بيان كيے ہيں كہ كس طرح ان كے ساتھ زبردستى ہوتى ہے، اور انہيں كس طرح تنگ كيا جاتا ہے، جو اس بات كو يقينى بناتا اور اس كى تاكيد كرتا ہے كہ شريعت مطہرہ نے جو اختلاط كو حرام كيا ہے جو كہ عورت كى عفت و عصمت اور حياء كا محافظ و ضامن ہے، اور يہى چيز مرد كى حفاظت كرتى ہے كہ وہ اپنى نگاہوں كو كسى غير محرم عورت پر نہ ڈالے، اور اس كى جان كى بھى حفاظت كرتا ہے كہ وہ كہيں ذليل ترين اور ہلاكت والے كاموں ميں نہ گر پڑے.

اور عورت كے ليے اپنے جيسى عورتوں ميں كام كاج اور ملازمت كرنے ميں كوئى مانع نہيں، يا پھر وہ اكيلى ہو اور گاہكوں كے پاس جائے يا ان سے ٹيلى فون پر رابطہ كر كے كمپنى كى تيار كردہ اشياء ان پر پيش كرے ليكن اس ميں بھى شرط يہ ہے كہ وہ فون پر بات چيت كرتے وقت كلام ميں نرمى اور اسلامى آداب كا خيال ركھے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے نبى كى بيويو تم عام عورتوں كى طرح نہيں ہو، اگر تم پرہيز گارى اختيار كرو تو نرم بات نہ كرو، كيونكہ جس كے دل ميں روگ ہے وہ طمع كرنے لگےگا، اور تم قاعدے كے مطابق اچھى بات كرو ﴾الاحزاب ( 32 ).

آپ سوال نمبر ( 27304 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں، كيونكہ اس ميں ملازمت كے وقت عورتوں كا دوسروں كو مخاطب ہونے كا حكم بيان كيا گيا ہے.

اور سوال نمبر ( 20140 ) كے جواب كا مطالعہ كرنا نہ بھوليں كيونكہ اس ميں مردوں كے آفس ميں عورت كا آفس سيكرٹرى كى ملازمت كرنے كا حكم بيا كيا گيا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments