Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
6125

غصہ كى حالت ميں تين طلاقيں دے ديں

ميرى سہيلى كے خاوند نے شديد غصہ كى حالت ميں اپنى بيوى كو كہا: " ميں نے تجھے تين بار طلاق دى " كيونكہ اسے بيوى كے بارہ ميں شك پيدا ہو چكا تھا، جب وہ جانے لگا تو اسے طلاق دے دى، اور اسى وقت صرف بيوى كو كہنے لگا: اگر تم مجھ سے محبت كرتى ہو تو ميرے ليے واپس آ جاؤ.
ميرى سہيلى بھى شديد غصہ ميں تھى اور وہ نہيں جانتى كہ وہ كيا كر رہى تھى، برائے مہربانى پورى وضاحت كے ساتھ بتائيں كہ كيا يہ طلاق ہو گئى ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

جب غصہ اس حالت ميں پہنچ چكا ہو كہ اسے علم نہ ہى رہے وہ كيا كر رہا ہے اور كيا كہہ رہا ہے اور اس كے ہوش و حواس قائم نہ ہوں، كہ وہ پاگلوں ميں شامل ہونے لگے تو ايسے شخص كى طلاق واقع نہيں ہوتى.

ليكن اگر غصہ كى حالت ميں وہ جانتا ہو كيا كہہ رہا ہے اور كيا كر رہا ہے تو اگر اس نے جب تين بار طلاق دے دى تو بيوى اس كے ليے حلال نہيں ہو گى حتى كہ وہ كسى دوسرے سے نكاح رغبت كرے، نكاح حلال نہيں.

اور ايك ہى كلمہ ميں تين طلاق كہنے سے ايك طلاق واقع ہو گى.

ليكن جب وقوع طلاق ميں شك پيدا ہو جائے كہ آيا طلاق كے الفاظ بولے ہيں يا نہيں تو يہ طلاق واقع نہيں ہوگى كيونكہ اصل ميں وہ اس كى عصمت و نكاح ميں ہے، اس ليے طلاق تو يقين سے ہوتى ہے شك سے نہيں.

طلاق كے بعد خاوند اور بيوى ميں صرف محبت يہ رجوع نہيں ہے، بلكہ صحيح طريقہ سے رجوع كرنا ہوگا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments