Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
62839

وسوسہ اوراس کا علاج

جب مجھے وسوسہ پیدا ہواورمیں بیوی کی بات کا وسوسے کے سبب جواب نہ دوں یا پھر اپنے اس اعتقاد کی بنا پر کہ بیوی ہی اس وسوسے کا سبب ہے توکیا میرا جواب نہ دینا طلاق شمارہوگا ؟
اورجب میں اس سے عصیبیت اورانفعال سے یا متاثرہوکر بات کروں توکیا اسے طلاق شمار کیا جاۓ گا ؟

الحمدللہ

آپ کا بیوی کوجواب نہ دینا طلاق شمار نہیں ہوگا ، اوراسی طرح عصبیت اورانفعال میں کی گئي بات بھی طلاق شمار نہيں ہوگی ۔

جتنا بھی آپ طلاق کے متعلق سوچ لیں یا پھراپنے آپ سے اندر ہی اندر کہتے رہیں یا عزم کرلیں طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوگی جب تک آپ الفاظ کی شکل میں زبان سے ادا نہیں کرتے ۔

اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( بلاشبہ اللہ تعالی نے میری امت سے اس کے وسوسے ، اوران کے دل کی بات جب تک کہ وہ اس پر عمل نہ کرلیں یا زبان سے بات نہ کرلیں معاف کردی ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 6664 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 127 ) ۔

اہل علم کے ہاں عمل بھی اسی پر ہے کہ جب انسان اپنے دل میں ہی طلاق کی بات کرے اوراسے زبان پر نہ لاۓ تو وہ کچھ بھی نہيں ۔

بلکہ بعض اہل علم کے ہاں تووسوسےمیں مبتلاشخص کی طلاق واقع ہی نہیں ہوتی چاہے وہ زبان سے بھی طلاق کے الفاظ بول دے ، لیکن اس سے اس کا طلاق دینے کا ارادہ نہ ہو ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

( وسوسے میں مبتلا شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی اگرچہ وہ زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کردے اوراس سے طلاق مقصد نہ ہو ، اس لیے کہ یہ الفاظ وسوسے والے شخص بغیر ارادہ اورقصد کے ادا ہوۓ ہیں ، بلکہ وہ اس پر مبہم ہے جوکہ قلت منع اورقوت دافع کی وجہ سے ادا ہوۓ‌ ہيں ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

" ابہام میں طلاق نہيں "

لھذا اس سے اس وقت تک طلاق واقع نہیں ہوگی جب تک کہ وہ اطمنان اورحقیقی ارادہ سے طلاق نہ دے ، تویہ چيز جس پروہ بغیر قصد اوراختیار کے بغیر مجبورکیا گيا ہے یقینا اس سے طلاق واقع نہيں ہوتی ) انتہی ۔ دیکھیں فتاوی اسلامیۃ ( 3 / 277 ) ۔

ہم آپ کووصیت کرتے ہیں کہ آپ وسوسے کی طرف متوجہ ہی نہ ہوں اوراس سے اعراض کرتے ہوۓ جس چيز کی دعوت وسوسہ دے اس کی مخالفت کریں ، اس لیے کہ وسوسہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے تا کہ وہ مومنوں کوپریشانی میں مبتلا اورغمگین کرے ۔

وسوسے کا سب سے بہتر اور اچھا علاج اللہ تعالی کا کثرت سے ذکر اورشیطان مردود سے پناہ اورمعاصی و گناہوں سے دور رہنا ہےجس کی وجہ سے شیطان اولاد آدم پر مسلط ہوتا ہے ۔

اللہ جل شانہ کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

{ یقینا ( شیطان ) کے لیے ان لوگوں پرکوئی طاقت اورزور نہيں چلتا جو ایمان لائيں اوراپنے رب پر توکل کریں } النحل ( 99 ) ۔

بہتر ہے کہ ہم یہاں پر ابن حجر ھیتمی رحمہ اللہ تعالی نے جووسوسے کا علاج بیان کیا ہے وہ نقل کرتے جائيں :

ابن حجر رحمہ اللہ تعالی ( اللہ ان سے نفع دے ) سے جب وسوسے کی بیماری کا علاج دریافت کیا گیا تو ان کا جواب تھا :

اس کی بہت ہی فائدہ منداورنفع بخش دوا موجود ہے ، وہ یہ کہ اس سے مکمل طور پراعراض ہی کافی ہے ۔

اگر نفس میں کسی قسم کا تردد ہو توجب اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا جاۓ گا اوراس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوا جاۓ تو وہ تردد اوروسوسہ کبھی بھی نہیں ٹھر سکتا بلکہ کچھ مدت کے بعد ہی وہ غائب ہوجائیگا ، جیسا کہ اس کا تجربہ بھی بہت سے اچھے لوگوں نے کیا ہے ۔

لیکن اگر اس کی طرف متوجہ ہوکراوردھیان دے کر اس کے تقاضے پر عمل کیا جاۓ گا تو وہ اورزيادہ ہوتا چلا جاۓ گا حتی کہ اسے مجنونوں اورپاگلوں تک پہنچا دے گا بلکہ اس سے بھی قبیح شکل میں لے جاۓگا ، جیسا کہ ہم نے بہت سے لوگوں کا مشاہدہ کیا ہے جواس بیماری میں مبتلا ہوۓ اوراس کی اوراس کے شیطان کی طرف متوجہ ہوۓ

جس کے بارہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کرتے ہوۓ کچھ اس طرح فرمایا :

( پانی کے وسوسہ ولھان سے بچو ) یعنی جوکچھ اس میں مبالغہ اورلھو ہے اس کی وجہ سے بچو جیسا کہ اس کے متعلق شرح مشکاۃ الانوار میں بیان کیا گیا ہے ، اورصحیح بخاری اورصحیح مسلم میں اس کی تائيد بھی آئي ہے جومیں نے ذکر کی ہے کہ جوبھی وسوسہ میں مبتلا ہواسے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنی چاہیۓ اوروہ اس وسوسہ سے رک جاۓ ۔

توآپ اس علاج پر ذرا غور وفکر اورتامل کریں جسے ایسے شخص نے تجویز کیا ہے جواپنی امت کے لیے خود بولتا ہی نہيں ۔

آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ جواس سے محروم ہوا وہ ہر قسم کی بھلائی اورخير سے محروم ہوگيا ، اس لیے کہ وسوسہ بالاتفاق شیطان کی طرف سے ہے وہ ایسا لنعتی ہے جس کی مراد کی کوئي انتہاء ہی نہیں بلکہ وہ تومومن کوضلالت و گمراہی اورپریشانی ، زندگی کی بربادی ، اورنفس کواندیھرے میں ڈال دیتا ہے اوروہاں تک لےجاتا ہے کہ اسے اسلام سے ہی خارج کردے اوراسے اس کا شعور اور علم تک نہیں ہوتا ۔

فرمان باری تعالی ہے :

{ یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے توتم اسے دشمن ہی بنا کررکھو } فاطر (6)

ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ : ( جووسوسہ میں مبتلا ہواسے یہ کہنا چاہيۓ : میں اللہ تعالی اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا )

اس میں کوئي شک نہیں کہ جوبھی اپنے ذھن میں انبیاء کے طریقے اورسنت رکھے اورخاص کر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اورشریعت جسے وہ آسان و سہل اورواضع اوربالکل صاف شفاف جس میں کسی قسم کا کوئي حرج نہیں وہ آسانی پاۓ گا ۔

فرمان باری تعالی ہے :

{ اوراس نے تم پر دین میں کوئی حرج نہیں بنایا } الحج ( 78 ) ۔

جوبھی اس پر غوروفکر اورتامل کرتا اورحقیقی ایمان لاۓ اس سے وسوسہ کی بیماری اورشیطان کی طرف دھیان دینے کی بیماری جاتی رہتی ہے ، ابن سنی کی کتاب میں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ :

جوبھی اس وسوسے میں مبتلا ہو اسے تین باریہ کہنا چاہیۓ : ہم اللہ تعالی ، اوراس کے رسولوں پر ایمان لاۓ ، اس سے اس کا وسوسہ جاتا رہے گا ۔

عز بن عبدالسلام وغیرہ نے بھی اسی طرح ذکرکیا ہے جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے ، ان کا کہنا ہے :

وسوسہ کا علاج یہ ہے کہ : یہ اعتقاد رکھے کہ یہ ایک شیطانی سوچ ہے ، اورابلیس ہی ہے جس نے یہ سب کچھ اس کے ذہن میں ڈالا اوراس سے لڑ رہا ہے ، تواس سے اسے مجاھد کا ثواب حاصل ہوگا ، اس لیے کہ وہ اللہ تعالی کے دشمن سے لڑ رہا ہے ۔

اورجب وہ اسے محسوس کرے گا تواس سے بھاگ جاۓ گا ، اوریہ اسی سے ہےجس سے نوع انسانی شروع سے مبتلا رہی اوراللہ تعالی نے اسے اس پر بطور آزمائش مسلط کردیا تا کہ اللہ تعالی حق کوثابت اورباطل کوختم کرے اوراگرچہ کافر اس کو برا ہی جانتیں رہیں ۔

اورصحیح مسلم میں عثمان بن ابی العاص رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ شیطان میرے اورمیری نماز اورقرات کے درمیان حائل ہوگیا ، میں نے اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا توآپ نے فرمایا :

یہ شیطان جسے خنزب کہا جاتا ہے ، تواس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کر اوراپنی بائيں جانب تین بار تھوک ، میں نے ایسے ہی کیا تواللہ تعالی نے مجھ سے اسے دور کردیا ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2203 ) ۔

تواس سے آپ کو علم ہوگا کہ میں نے جوکچھ بیان کیا ہے وہ صحیح ہے کہ وسوسہ صرف اس پر مسلط ہوتا ہے جس پر جہالت طاری ہواوروہ تمیز کرنے سے عاری ہوجاۓ ، لیکن جوحقیقی علم رکھے اورباعقل ہو تووہ اتباع سے نہیں نکلتا اورنہ ہی اس میں بدعات پائي جاتی ہیں ۔

اورسب سے قبیح اوربرے بدعتی وہ ہیں جنہیں وسوسوں نے گھیررکھا ہے اسی لیے امام مالک رحمہ اللہ تعالی نے اپنے شیخ ربیعہ جوکہ ان کے زمانے کے امام تھے کہا ہے :

ربیع لوگوں میں سے دوکاموں استبراء اوروضوء میں سب سے زيادہ تیز اورآگے تھے ، حتی کہ اگر ان کے علاوہ کوئي اور ہوتا تومیں کہتا کہ اس نے نہیں کیا ، شائد وہ اپنے اس قول ( اس نے نہیں کیا ) سے مراد وضوء نہيں کیا ہو۔

اورابن ھرمز استبراء ( برات طلب کرنے ) اوروضوء میں بہت زيادہ سست تھے ، اوروہ کہتے تھے کہ میں آزمائش میں ہوں میری اقتداء نہ کرو ۔

اورامام نووی رحمہ اللہ تعالی نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ :

جوشخص وضوء یا پھر نماز میں وسوسہ میں مبتلا ہوجاۓ تو اس کے لیے لااٍله اٍلاالله کہنا مستحب ہے ، اس لیے کہ شیطان جب یہ سنے گا توذلیل ہوکر پیچھے ہوجاۓ گا ، اور لااٍله اٍلاالله ذکر کی چوٹی اوربلندی ہے ، اوروسوسے کوختم کرنے کے لیے سب سے بہتر اوراچھا علاج کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کرنا ہے ۔۔۔۔ ) ابن حجرھیتمی رحمہ اللہ کی کلام ختم ہوئي

دیکھیں : الفتاوی الفقھیۃ ا لکبری ( 1 / 149 )

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہيں کہ وہ آپ کے وسوسوں کودورفرماۓ ، اورہمیں اورآپ کومزید ایمان اوراصلاح اورتقوی عطا فرماۓ آمین یا رب العالیمن ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments