6530: کیا کسی شخص کو جادو کے ساتھ اسکی بیوی سے روکنا ممکن ہے


کیا یہ صحیح ہے کہ ایک شخص دوسرے کے لئے ایسا عمل کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں فیل ہوجائے؟ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

الحمد للہ
جمہور اہل سنت والجماعۃ کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ جادو میں حقیقت ہے اور جسے جادو کیا جاۓ اسکے بدن میں اثر انداز- اگر اللہ چاہے اور مقدر میں ہو- ہوتا ہے حتی کہ قتل بھی کردیتا ہے۔

امام قرافی کہتے ہیں کہ: جادو کی حقیقت ہے اور اس سے جسے جادو کیا جائے وہ مر بھی سکتا ہے۔ یا اسکی عادات اور طتبعت میں تغیر بھی آسکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ یہ قول امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا ہے ۔ ۔ ۔ 1ھ

الفروق (4/149)

معتزلہ اور قدریہ نے اس قول کی مخالفت کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن انکی یہ مخالفت معتبر نہيں ہے کیونکہ قرآفی وغیرہ نے اس پر صحابہ کا اجماع ذکر کیا ہے کہ اس کی حقیقت ہے تو اسکے انکار کرنے والوں کی ظہور سے قبل کا اجماع ہے۔

اہل سنت کے دلائل :

1- ارشاد باری تعالی ہے۔

{ لیکن شیطانوں نے کفر کیا تھا وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور بابل میں ہاروت اور ماروت دو فرشتوں پر جو اتارا گیا تھا وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ھم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر پھر لوگ ان سے وہ سکھتے جس سے خاوند اور بیوی کے درمیان تفرقہ ڈال دے اور دراصل وہ اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچاسکے } البقرہ /102

تو یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جادو کی حقیقت ہے۔ اور جادوگر خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی اور تفرقہ ڈالتا ہے اور لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالی کی اجازت کونی سے ہے۔

2- فرمان باری تعالی ہے :

{ اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی) } الفلق4

اور گرہ میں پھونکنے والیاں: یہ وہ جادوگرنیاں ہیں جو اپنے جادو میں گرہیں لگا کر ان میں پھونکتی ہیں۔ تو اگر جادو کی کوئی حقیقت نہ ہوتی تو اللہ تعالی نے اس سے پناہ مانگنے کا حکم نہ دیا ہوتا۔

3- اور انہی دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ لبید بن اعصم یہودی کی جانب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو کیا جانا۔ اور یہ صحیح حدیث میں ہے جسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

4- اور اس سے دلیل لی ہے کہ اسکا وقوع حقیقی طور پر اور واضح اور سب کے سامنے ہے جسکا کسی کےلئے رد کرنا ممکن نہیں ہے۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ وہ جادو جس کا اثر بیماری وبوجھ اور عقل ومحبت اور بغض پر پڑتا ہے وہ موجود اور لوگ اسے جانتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ تو اس کے ذا‏ئقہ سے بھی واقف ہیں کیونکہ وہ اس میں مبتلا ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ا ھـ

دیکھیں: تفسیرابن القیم (571)

نیزابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ : گرہ کی بیماری لوگوں کے درمیان مشہور ہے (یعنی روکنا) آدمی کو اس کی بیوی سے روکنا۔ جب کوئی شادی کرتا ہے تو اپنی بیوی سے ہم بستری نہيں کرسکتا جب وہ گرہ کھول دی جاتی ہے تو وہ ہم بستری کرسکتا ہے۔

حالانکہ وہ پہلے نہیں کرسکتا تھا حتی کہ یہ متواتر کی شکل اختیار کرچکا ہے جسکا انکار کرنا ممکن نہیں۔ اور جادو کی تو اتر کے ساتھ اتنی خبریں بیان کی گئ ہیں کہ انکا جھوٹ پر مبنی ہونا ممکن نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ 1ھ

دیکھیں: المغنی (8/151)

جادو سے بچاؤ کے بہت سے طریقے ہیں:

سب سے اہم اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنا اور اسکے احکامات کی پابندی اور اس پر توکل اور بھروسہ کرنا اور اللہ تعالی کی پناہ میں آنا اور صبح کے وقت سات کھجوریں کھانا۔

یہ سب چیزیں صحیح احادیث میں وارد ہیں۔

جادو کے ختم اور زائل کرنے کے بھی طریقے ہیں۔ ان میں سے بعض ذکر کئے جاتے ہیں۔

1 - دم کرنا : دم وہ سب سے عظیم ہے جو قرآن مجید اور اسکے بعد صحیح احادیث سے کیا جائے

2 - جادو کو نکال کر ضائع کردینا۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مرض کے علاج کا طریقہ کار اور اس میں دو طرح کی روایتیں کی گئیں ہیں۔

پہلی روایت: اور یہ انتہائی درجہ والی ہے۔

اس جادو کو نکال کر ضائع کرنا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایت میں وارد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے اسکے متعلق پرچھا تو اللہ تعالی نے اس کا پتہ بتایا تو اسے ایک کنویں سے نکالا گیا جو کہ کنگھی اور کنگھی کئے گئے بالوں اور نر کجھور کے خوشے کے چھلکے پر کیا گیا تھا تو جب اسے نکالا گیا تو وہ جادو آپ سے ختم ہوگیا گویا کہ آپ بندھے ہوئے تھے تو کھل گئے۔

تو یہ جادو کئے گئے شخص کے لئے انتہائی درجے کا علاج ہے اور ایسے ہی ہے جیسے کہ جسم سے گندے مادے کو جڑ سے نکال پھینکا جائے۔

ج- سنگی لگوانا اور نکالنا اور جراہی سے کام لینا۔

ابن قیم اپنی پچھلی کلام کو مکمل کرتے ہوئے کہتے ہیں:

اور دوسری قسم استفراغ ہے یعنی جادو کو اس جگہ سے نکالنا جہاں اسکی اذیت پہنچی ہے۔ اس لئے کہ جادو طبیعت پر اثر انداز ہوتا ہے اور جسم کے خون اور بلغم اور سوداء اور صفراء میں جوش پیدا کرتا ہے اور اسکے مزاج میں گڑ بڑ پیدا کرتا ہے تو اگر کسی عضو میں اسکا اثر ظاہر ہو اگر ممکن ہوسکے تو اس عضو سے گندے مادے کو نکال دینا بہت نفع مند ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ا ھـ

زاد المعاد (4/124-125)

واللہ تعالی اعلم۔ اور اللہ تعالی زیادہ علم رکھتا ہے۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments