65515: كيا تجارتى سامان كى قيمت خريد لگائى جائيگى يا قيمت فروخت ؟


كيا تجارتى سامان كى زكاۃ قيمت خريد كے حساب سے ادا كى جائيگى يا قيمت فروخت كے مطابق ؟

الحمد للہ :

سال كے آخر ميں تجارتى سامان كى وہ قيمت لگائى جائيگى جس ميں اس نے اسے فروخت كرنا ہے.

اور عدل كا تقاضا بھى يہى ہے كہ اس كى قيمت فروخت لگائى جائے گى جو كہ قيمت خريد سے كم بھى ہو سكتى ہے اور زيادہ بھى، كيونكہ انسان نے سال كے آخر ميں اپنے پاس موجودہ مال كى زكاۃ ادا كرنى ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى " المغنى " ميں كہتے ہيں:

" جس كے كى ملكيت ميں تجارتى زمين ہو اور اس پر سال مكمل ہو جائے اور وہ نصاب تك پہنچتى ہو تو سال كے آخر ميں اس زمين كى قيمت لگا كر اس كى زكاۃ نكالنا ہوگى، جو اس كى قيمت ميں سے دس كا چوتھائى حصہ ہو گا" انتہى.

ديكھيں: المغنى لابن قدامۃ ( 4 / 249 ).

الموسوعۃ القہيۃ ميں ہے كہ:

تجارتى سامان ميں تاجر كو اپنے سامان كى وہ قيمت نہيں لگانا ہو گى جو ايك مجبور شخص كے سامان كى فروخت كے وقت قيمت ہوتى ہے، بلكہ وہ قيمت لگائے گا جو ايك غير مجبور شخص فروخت كرتے وقت اپنے سامان كى قيمت پاتا ہے" انتہى.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقہيۃ ( 13 / 171 ).

تو اس ميں ہے كہ سال كے آخر ميں وہ قيمت فروخت لگائے گا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" تجارتى لوگ جو زمين اور پراپرٹى خريدتے ہيں وہ غالبا اس تجارتى سامان ميں قيمت كى زيادتى كا انتظار كرتے ہيں، اور سال كے آخر ميں اس تجارتى سامان كى جو قيمت ہو وہ لگا كر اس ميں سے دس كا چوتھائى حصہ زكاۃ ادا كى جائيگى... اور اس ميں كوئى فرق نہيں كہ وہ ريٹ قيمت خريد كے برابر ہو يا نہ، اگر فرض كريں كہ ايك شخص نے ايك لاكھ ميں زمين خريدى اور سال كے آخر ميں اس كى قيمت دو لاكھ ہو گئى تو سال كے آخر ميں دو لاكھ كى زكاۃ دينا واجب ہو گى.

اور اگر معاملہ اس كے برعكس ہو كہ اس نے ايك لاكھ كى خريدى تو سال كے آخر ميں اس كى قيمت پچاس ہزار كے برابر ہو وہ صرف پچاس ہزار كى زكاۃ ہى ادا كرے گا؛ كيونكہ زكاۃ كے واجب ہونے كے وقت كى قيمت كا اعتبار ہے" انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 18 / 205 ) ( 18 / 240 ) بھى ديكھيں.

مستقل فتوى كميٹى سے سوال كيا گيا:

تجارتى بنياد پر خريدى گئى اراضى كى زكاۃ كا حساب كس طرح ہو گا؛ آيا اس كى قيمت خريد كے مطابق يا كہ زكاۃ كى ادائيگى كے وقت جو قيمت ہو اس كے مطابق ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" تجارتى غرض سے خريدى گئى اراضى تجارتى سامان ميں شامل ہوتى ہے، اور شريعت اسلاميہ ميں عام قاعدہ ہے كہ سال كے آخر ميں تجارتى سامان كى قيمت لگائى جائيگى اور قيمت خريد كو مد نظر نہيں ركھا جائيگا، چاہے وہ قيمت خريد سے زيادہ ہو يا زكاۃ واجب ہونے كے وقت اس كى قيمت كم ہو چكى ہو، اور اس ميں زكاۃ كى مقدار دس كا چوتھائى حصہ ہو گا، لہذا مثلا ايك ہزار ريال ميں سے پچيس ريال زكاۃ ہو گى، اور اسى حساب سے باقى بھى " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 324 ).

اور مستقل كميٹى كے فتاوى جات ميں يہ بھى ہے كہ:

شرعى طريقہ يہ ہے كہ: اس كے پاس جو تجارتى سامان ہے سال كے آخر ميں زكاۃ واجب ہونے كے وقت اس كى قيمت لگائى جائے، اور اس وقت قيمت خريد كو مد نظر نہيں ركھا جائيگا" انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 319 ).

اور اس بنا پر جب تاجر ہول سيل يا پرچون فروخت كرتا ہو تو اپنے پاس موجود سامان كى وہ قيمت لگائے گا جس ميں اس نے اسے فروخت كرنا ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے دريافت كيا گيا:

يہ معلوم ہونا چاہيے كہ زكاۃ وجوب ہونے كے وقت سامان كى قيمت كا اعتبار ہو گا، ليكن زكاۃ واجب ہونے كے وقت بھى سامان ہول سيل يا قسطوں ميں فروخت كرنے كى بنا پر اس كى قيمت مختلف ہو گى، تو كيا ہم اس كى قيمت ہول سيل لگائيں يا پرچون ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" اگر تاجر ہول سيل اشياء فروخت كرتا ہے تو اسے وہ ہول سيل ريٹ شمار كرنا ہو گا، اور اگر وہ پرچون اشياء فروخت كرتا ہے تو اس كى قيمت بھى پرچون ريٹ كے مطابق شمار كرے گا" انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 18 / 233 ).

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 26236 ) كا جواب ضرورى ديكھيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments