66155: مؤذن نے وقت سے سات منٹ قبل اذان كہہ دى تو لوگوں نے روزہ افطار كرليا


محلہ كى مسجد كے مؤذن كى اذان سن كر ہم نے روزہ افطار كرليا، اور سات منٹ گزرنے كے بعد ہم نے ايك دوسرى مسجد كے مؤذن كى اذان سنى؛ جب ہم نے محلے كے مؤذن سے دريافت كيا تو اس نے ہميں بتايا كہ اس سے غلطى ہو گئى كہ اذان كا وقت ہو گيا ہے، اب اس محلہ كے لوگوں پر كيا لازم آتا ہے ؟

الحمد للہ :

جس نے غروب شمس كا گمان كرتے ہوئے روزہ افطار كر ليا، اور پھر اسے علم ہوا كہ ابھى سورج غروب نہيں ہوا تو جمہور علماء كرام كے ہاں اس پر قضاء ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى " المغنى " ميں لكھتے ہيں:

" فقھاء وغيرہ ميں سے اكثر اہل علم كا قول يہى ہے " انتہى

ديكھيں: المغنى لابن قدامہ المقدسى ( 4 / 389 ).

مستقل فتوى كميٹى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے اپنى بچيوں كے كہنے پر روزہ افطار كر ليا اور جب نماز كے ليے نكلا تو مؤذن مغرب كى اذان دے رہا تھا؟

كميٹى كا جواب تھا:

" جب آپ نے افطارى واقعتا غروب آفتاب كے بعد كى ہے تو آپ پر كوئى قضاء نہيں، اور اگر آپ نے يہ تحقيق كى يا آپ كے ظن پر غالب ہو گيا، يا آپ كو شك ہے كہ آپ نے غروب شمس سے قبل افطارى كرلى تو آپ اور جس نے بھى آپ كے ساتھ افطارى كى اس پر قضاء ہے؛ كيونكہ اصل يہ ہے كہ دن باقى تھا، اور اس اصل سے بغير كسى شرعى ناقل يعنى غروب شمس كے تبديل نہيں ہو سكتا" انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 288 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

بعض لوگوں نے افطارى كر لى اور بعد ميں انہيں علم ہوا كہ ابھى تو سورج غروب نہيں ہوا تو اس كا حكم كيا ہے؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" جس سے ايسا ہو جائے اسے غروب آفتاب تك كھانے پينے وغيرہ سے رك جانا چاہيے، اور جمہور اہل علم كے ہاں اس پر قضاء ہے، اور اگر اس نے اجتھاد اور غروب شمس كے متعلق پورى كوشش كے بعد افطارى كى ہو تو اس پر كوئى حرج نہيں، جس طرح كہ اگر وہ تيس شعبان كو صبح اٹھے اور دن ميں اسے علم ہوا كہ آج تو رمضان كى يكم ہے، تو اسے باقى دن كچھ نہيں كھانا پينا چاہيے، اور جمہور كے ہاں وہ اس دن كى قضاء كرے گا، اور اس پر كوئى گناہ نہيں، كيونكہ جب اس نے كھايا پيا تھا تو اسے رمضان كا علم نہيں تھا، لہذا جہالت نے اس سے گناہ كو ساقط كر ديا ہے، ليكن قضاء ساقط نہيں ہو گى، اسے اس دن كى قضاء ميں روزہ ركھنا ہو گا" انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 15 / 288 ).

اور بعض اہل علم كہتے ہيں كہ روزہ صحيح ہے، اور اس پر قضاء لازم نہيں مجاہد اور حسن رحمہم اللہ سے يہى مروى ہے، اور اسحاق اور امام احمد رحمہ اللہ تعالى سے ايك روايت بھى يہى ہے، اور مزنى اور ابن خزيمہ رحمہ اللہ تعالى كا بھى يہى قول ہے اور شيخ الاسلام رحمہ نے بھى اسے ہى اختيار كيا ہے، اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے بھى اسے ہى راجح قرار ديا ہے.

ديكھيں: فتح البارى ( 4 / 200 ) مجموع الفتاوى لشيخ الاسلام ابن تيميہ ( 25 / 231 ) الشرح الممتع ( 6 / 402 - 408 ).

اور انہوں نے بخارى شريف كى مندرجہ ذيل روايت سے استدلال كيا ہے:

ہشام بن عروہ فاطمہ سے اور وہ اسماء بنت ابى بكر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كرتے ہيں كہ اسماء بنت ابى بكر رضى اللہ تعالى عنہما نے كہا: ہم نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں ابرآلود موسم ميں روزہ افطار كر ليا تو بعد ميں سورج نكل آيا.

ہشام رحمہ اللہ تعالى سے كہا گيا: تو كيا انہيں قضاء كرنے كا حكم ديا گيا؟

تو وہ كہنے لگے: قضاء ضرورى ہے، اور معمر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں مين نے ہشام كو يہ كہتے ہوئے سنا: مجھے نہيں علم كہ انہوں نے قضاء كى يا نہيں.

اور ہشام كا يہ كہنا كہ: قضاء ضرورى ہے، انہوں نے اپنى سمجھ كے مطابق يہ كہا ہے، انہوں نے يہ نہيں كہا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں قضاء كرنے كا حكم ديا ہے.

اور اسى ليے حافظ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اور اسماء رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں نہ تو قضاء كا ثبوت ہے اور نہ ہى اس كى نفى پائى جاتى ہے" انتہى

اور شيخ ابن عثمين رحمہ اللہ " الشرح الممتع " ميں كہتے ہيں:

" انہوں نے دن ميں اس بنا پر افطارى كر لى كہ سورج غروب ہو چكا ہے وہ سورج غروب ہونے سے جاہل تھے، نہ كہ شرعى حكم سے، ليكن ان كا يہ گمان نہيں تھا كہ ابھى دن ہے، اور نہ ہى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں قضاء كرنے كا حكم ديا، اور اگر قضاء واجب ہوتى تو يہ اللہ كى شريعت سے ہوتى اور پھر يہ محفوظ بھى ہوتى، لہذا جب يہ محفوظ نہيں اور نہ ہى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے منقول ہے، تو اصل برى الذمہ ہے، اور قضاء نہيں ہے" انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 402 ).

اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" يہ قضاء واجب نہ ہونے كى دليل ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اگر انہيں قضاء كا حكم ديتے تو يہ بھى عام ہوتا جيسا كہ ان كا افطارى كرنا نقل ہوا ہے، اور جب يہ منقول نہيں تو يہ اس كى دليل ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں اس كا حكم نہيں ديا.

اور اگر يہ كہا جائے كہ: بلكہ ہشام بن عرورہ رحمہ اللہ تعالى كو كہا بھى گيا انہيں قضاء كا حكم ديا گيا تھا؟

تو ان كا كہنا ہے: قضاء ضرورى ہے، يہ ہشام نے اپنى رائے سے كہا ہے، اور حديث ميں يہ مروى نہيں.

اور يہ اس كى بھى دليل ہے كہ ان كے پاس اس كا علم نہيں تھا، معمر رحمہ اللہ نے ان سے روايت كيا ہے كہ ميں نے ہشام كو يہ كہتے ہوئے سنا: مجھے علم نہيں كہ انہوں نے قضاء كي يا نہيں ؟

امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے ان سے يہ بيان كيا ہے، اور ہشام رحمہ اللہ نے اپنے والد عروہ سے بيان كيا ہے كہ انہيں قضاء كا حكم نہيں ديا گيا تھا، اور عروہ كو اپنے بيٹے سے زيادہ علم ہے" انتہى اختصار اور كمى و بيشى كے ساتھ

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 25 / 231 ).

اور اگر آپ احتياط كرتے ہوئے اس كے بدلے ايك دن كى قضاء ميں روزہ ركھ ليں تو يہ بہتر ہے، اور الحمد للہ ايك دن كى قضاء كرنا آسان ہے، اور جو كچھ ہوا اس سے آپ پر كوئى گناہ نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments