66176: كيا اگر كوئى شخص اكيلا ہى رمضان كا چاند ديكھے تو اس كے ليے روزہ ركھنا لازم ہے ؟


اگر ايك شخص اكيلا ہى رمضان المبارك كا چاند ديكھے تو كيا اس پر روزہ ركھنا ضرورى ہے، اگر ايسا ہى ہے تو اس كى دليل كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اگر كوئى شخص اكيلا رمضان المبارك يا شوال كا چاند ديكھے اور قاضى يا علاقے كے لوگوں كو چاند نظر آنے كى خبر دے اور لوگ اس كى گواہى قبول نہ كريں، تو كيا وہ اكيلا روزہ ركھے، يا جب لوگ روزہ ركھيں تو وہ بھى ان كے ساتھ ہى روزہ ركھے ؟

اس ميں اہل علم كے تين اقوال ہيں:

پہلا قول:

دو مقام پر وہ اپنى رؤيت پر عمل كرےگا، چنانچہ مہينہ كى ابتدا ميں روزہ ركھے، اور آخر ميں اكيلا ہى روزہ ترك كرے، امام شافعى رحمہ اللہ كا مسلك يہى ہے.

ليكن وہ ايسا سرى اورخفيہ طور پر كرے، تا كہ لوگوں كى مخالفت كا اظہار نہ ہو، اور لوگ اس كے بارہ ميں غلط گمان نہ كرنے لگيں، كہ لوگوں نے روزہ ركھا ہو اور يہ بغير روزے سے ہو.

دوسرا قول:

مہنيہ كى ابتدا ميں تو وہ اپنى رؤيت پر اكيلا ہى عمل كرتا ہوا روزہ ركھے، ليكن مہينہ كے آخر ميں اپنى رؤيت پر اكيلا عمل نہ كرے، بلكہ لوگوں كے ساتھ ہى روزہ چھوڑے اورعيد منائے.

جمہور علماء كرام جن ميں امام ابو حنيفہ، امام مالك، امام احمد رحمہم اللہ جميعا شامل ہيں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے بھى يہى قول اختيار كرتے ہوئے كہا ہے:

يہ احتياط كے اعتبار سے ہے، چنانچہ اس طرح ہم روزہ ركھنےاور عيد الفطر منانے ميں احتياط كرينگے، اس ليے ہم روزہ ركھنے ميں اسے روزہ ركھنے كا كہينگے، اور عيد كے بارہ ميں ہم كہينگے كہ روزہ ترك نہ كرو بلكہ روزہ ركھو "

ماخوذ از: شرح الممتع ( 6 / 330 ).

تيسرا قول:

دونوں مقام پر وہ اپنى رؤيت پر عمل نہيں كريگا، چنانچہ وہ روزہ لوگوں كے ساتھ ہى ركھے، اور لوگوں كے ساتھ ہى عيد الفطر منائے.

امام احمد رحمہ اللہ ايك روايت ميں اس قول كى طرف مائل ہيں، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ نے بھى اسے اختيار كيا ہے، اور اس كے ليے بہت سے دلائل سے استدلال كرتے ہوئے كہا ہے:

سوم: وہ لوگوں كے ساتھ ہى روزہ ركھے، اور لوگوں كے ساتھ عيد منائے يہ سب اقوال سے بہتر اور ظاہر قول ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تمہارا روزہ اس روز ہے جب تم روزہ ركھو، اور تمہارى عيد الفطر اس دن ہے جس دن تم عيد الفطر مناؤ، اور تمہارى عيد الاضحى اس روز ہے جس دن تم قربانى كرو "

اسے ترمذى نے روايت كيا اور اسے حسن غريب كہا ہے، اور ابن ماجہ اور ابو داود نے بھى روايت كيا ہے ليكن صرف عيد الفطر اور عيد الاضحى كا ذكر كيا ہے.

اور امام ترمذى نے عبد اللہ بن جعفر عن عثمان بن محمد عن المقبرى عن ابى ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كے طريق سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" روزہ اس دن ہے جس دن تم روزہ ركھو، اور عيد الفطر اس روز ہے جس روز تم عيد الفطر مناؤ، اور عيد الاضحى اس روز ہے جس روز تم قربانى كرو "

امام ترمذى رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ حديث حسن غريب ہے، امام ترمذى كا كہنا ہے: اور بعض اہل علم نے اس حديث كى شرح يہ كى ہے كہ:

اس كا معنى يہ ہے كہ: روزہ اور عيد سب لوگوں كے ساتھ اور باجماعت ہو " انتہى.

ماخوذ از: مجموع الفتاوى ( 25 / 114 ).

انہوں نے اس سے بھى استدلال كيا ہے كہ: اگر وہ اكيلا ہى ذوالحجہ كا چاند ديكھے تو علماء ميں سے كسى نے بھى يہ نہيں كہا كہ وہ اكيلا ہى وقوف عرفات كر لے.

انہوں بيان كيا ہے كہ اصل مسئلہ يہ ہے كہ:

اللہ سبحانہ وتعالى نے حكم كو چاند اور مہينہ كے ساتھ معلق كيا اور فرمايا ہے:

﴿ آپ سے چاندوں كے متعلق دريافت كرتے ہيں، كہہ ديجئے يہ لوگوں كے ليے اوقات اور حج معلوم كرنے كا ذريعہ ہے ﴾.

ہلال اسے كہتے ہيں جس كا اعلان اور اونچى آواز لگائى جائے، چنانچہ جب آسمان ميں چاند نكلے اور لوگوں كا اس كا علم ہى نہ ہو اور لوگ اعلان نہ كريں تو وہ ہلال نہيں.

اور اسى طرح شہر ( مہينہ ) الشہرۃ يعنى شہرت سے ماخوذ ہے، چنانچہ اگر لوگوں كے مابين مشتہر نہ ہو تو مہينہ شروع نہيں ہوا، اكثر لوگ اس مسئلہ ميں غلطى كر جاتے ہيں ان كا خيال ہوتا ہے كہ جب چاند آسمان ميں طلوع ہو جائے تو يہ مہينہ كى پہلى رات ہے چاہے لوگوں كو اس كا علم ہو يا نہ اور وہ اس كا اعلان كريں يا نہ، حالانكہ ايسا نہيں.

بلكہ اس كا لوگوں كے ليے ظاہر ہونا اور لوگوں كا اعلان كرنا ضرورى ہے اسى ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے:

" تمہارا روزہ اس دن ہے جس دن تم روزہ ركھو، اور تمہارى عيد الفطر اس دن ہے جس دن تم روزہ نہ ركھو اور عيد الفطر مناؤ، اور عيد الاضحى اس دن ہے جس روز تم قربانى كرو "

يعنى وہ دن جس كے متعلق تمہيں علم ہے كہ يہ دن روزے اور عيد الفطر اور عيد الاضحى كا دن ہے، چنانچہ اگر تمہيں اس كا علم ہى نہيں تو پھر اس پر حكم مرتب نہيں ہو گا. انتہى.

ماخوذ از: مجموع الفتاوى ( 25 / 202 ).

اور شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى نے بھى اسى قول كا فتوى ديا ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 15 / 72 ).

اور حديث:

" روزہ اس دن ہے جس دن تم روزہ ركھو ...... "

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن ترمذى حديث نمبر ( 561 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

فقھاء كے مذاہب كى تفصيل كے ليے آپ المغنى ابن قدامہ ( 3 / 47 - 49 ) اور المجموع للنووى ( 6 / 290 ) اور الموسوعۃ الفقھيۃ ( 28 / 18 ) كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments