Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
665

خاوند كے ليے ويزا كارڈ جارى كروانے ميں مدد

ميرے پاس كريڈٹ كارڈ تھا جو ميں نے گاڑى كرايہ ليتے وقت حاصل كيا تھا، ميں اس پر بہت حريص تھى كہ جتنى ادائيگى كى استطاعت ہے اس سے تجاوز نہ كروں تا كہ مجھے فائدہ ادا كرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے، ليكن ايك بار ميں پورا بل ادا نہ كر سكى اور فائدہ ادا كرنا پڑا، اور كچھ ماہ بعد ميں نے خاوند كى مدد سے رقم كى ادائيگى كردى جو كبھى كبھار كارڈ استعمال كرتا رہتا تھا.
ميں نے بل كى ادائيگى كے بعد خاوند كو بتايا كہ ميں اس كارڈ سے چھٹكارا حاصل كرلونگى تا كہ دوبارہ سود ميں نہ پڑوں ، ليكن ميرے خاوند نے مجھ سے مطالبہ كيا كہ جب ميں اپنے كارڈ سے چھٹكارا پانا ہى چاہتى ہوں تو كارڈ اس كے نام جارى كرنے كى درخواست دوں، حالانكہ اس كے پاس پہلے بھى دو كارڈ تھے ليكن اس ميں ادائيگى كى استطاعت نہيں تھى، وہ شديد غضبناك اور تكليف دہ بن گيا، حتى كہ ميں سلام پر مداومت كرنے لگى، ميں نے اس كے ليے كارڈ جارى كروا ليا، اور اس نے يہ كہا كہ اگر ادائيگى نہ كرسكا تو كارڈ كا مسئول وہ ہو گا، ميں نے يہ كارڈ بالكل استعمال نہيں كيا، اور پچھلے چھ ماہ كے دوران ميرا خاوند ادائيگى نہيں كرسكا جس كى بنا پر فائدہ بہت زيادہ ہو گيا ہے.
ميرا سوال يہ ہے كہ: اس كارڈ كا اللہ تعالى كے ہاں كون جواب دہ ہے؟ ميں، اس ليے كہ ميں نے اس كو وجہ سے كارڈ جارى كروايا تھا، يا كہ وہ خود كيونكہ اس نے طلب كيا تھا؟ اگر تو ميں اس كى مسئول اور جواب دہ ہوں تو اس رقم كى ادائيگى كے ليے مجھ پر كيا واجب ہے؟ حالانكہ ميرے خاوند نے مجھے ملازمت كرنےسے بھى روك ديا ہے، اور وہ خود تھوڑى سى رقم كى ادائيگى كرنے كى استطاعت بھى نہيں ركھتا ؟

الحمد للہ:

آپ كو چاہيے كہ آپ نے يہ سودى كارڈ جارى كروا كے اپنے خاوند كى گناہ اورمعصيت ميں جو مدد اور تعاون كيا ہے اس پر اللہ تعالى كے ہاں توبہ كريں، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{اور تم نيكى اور بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كيا كرو، اور گناہ اور دشمنى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو}

اور آپ پر واجب تو يہ تھا كہ كارڈ جارى كروانے سے باز رہتيں اورآپ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے مندرجہ ذيل فرمان پر عمل كرتے ہوئے اس كے اس مطالبہ كو قبول نہ كرتيں، اگرچہ وہ اس پر اصرار بھى كرتا:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ عزوجل كى معصيت ميں كسى بھى مخلوق كى اطاعت و فرمانبردارى نہيں ہے"

اسے امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے مسند على رضي اللہ تعالى ميں روايت كيا ہے، اور يہ حديث صحيح الجامع ميں بھى ہے ديكھيں: صحيح الجامع حديث نمبر ( 7520 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments