Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
67589

شادى كے بعد مالى حالت اچھى نہ ہونے تك عدم مباشرت پر اتفاق

اگر كسى حالت ميں كسى مسلمان لڑكے كو كوئى مسلمان لڑكى پسند آ جائے اور دونوں عقد نكاح كرنے كا فيصلہ كريں اور دونوں كو علم ہو كہ لڑكا ابھى زير تعليم ہے اور ابھى تك گھريلو اخراجات كا مالك نہيں اور دونوں اس پر متفق ہيں كہ جب تك مالى حالات ٹھيك نہ ہوں وہ ازدواجى تعلقات قائم نہيں كرينگے كيا دين اسلام ميں ايسا كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

شادى و نكاح تو رزق كے اسباب ميں سے ايك سبب ہے جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{اور تم اپنے غير شادى شدہ مرد اور عورتوں كا نكاح كر دو اور اپنے نيك و صالح غلاموں اور لونڈيوں كا، اگر وہ فقراء اور تنگ دست ہيں تو اللہ عزوجل انہيں اپنے فضل سے غنى كر ديگا، اللہ بڑا وسعت والا اور جاننے والا ہے }النور ( 32 ).

امام قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" الايامى منكم: يعنى وہ مرد اور عورت جن كى شادى نہيں ہوئى.

اور قولہ تعالى:

" ان يكونوا فقراء يغنھم اللہ من فضلہ " يعنى تم مرد اور عورت كے فقر كى بنا پر ان كى شادى كرنے سے رك مت جاؤ، اگر وہ فقير و تنگ دست ہيں تو اللہ تعالى اپنے فضل سے انہيں غنى و مالدار كر ديگا، شادى شدہ افراد كو غنى و مالدار كرنے كا وعدہ ہے جو اللہ كى رضا اور گناہ سے اجتناب كرنے كى بنا پر ہے.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ كہتے ہيں:

" نكاح كر كے مالدارى تلاش كرو " اور پھر انہوں نے يہ آيت تلاوت كى.

اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كا فرمان ہے:

" مجھے ايسے شخص سے تعجب ہوتا ہے جو نكاح ميں مالدارى طلب نہيں كرتا "

اور پھر اللہ عزوجل كا فر مان ہے:

اگر وہ فقراء اور تنگ دست ہيں تو اللہ تعالى اپنے فضل سے انہيں غنى كر ديگا "

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بھى ايسے ہى مروى ہے"

اور قرطبى رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

" يہ آيت اس بات كى دليل ہے كہ فقير و تنگ دست كى شادى كى جائيگى، اور وہ يہ نہيں كہہ سكتا كہ ميں شادى كيسے كروں ميرے پال تو مال ہى نہيں ہے ؟

كيونكہ اس كا رزق تو اللہ كے ذمہ ہے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اپنا نفس ہبہ كرنے والى عورت كا نكاح رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسے شخص كے ساتھ كيا جس كے پاس صرف ايك ہى چادر تھى " انتہى

ديكھيں: تفسير القرطبى ( 12 / 218 ).

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تين قسم كے افراد كى مدد كرنا اللہ كے ذمہ ہے: اللہ كى راہ ميں جھاد كرنے والا شخص، اور وہ مكاتب غلام جو ادائيگى چاہتا ہو، اور جو عفت و عصمت كى بنا پر نكاح كرنا چاہتا ہو "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1579 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 3166 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2509 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اس حديث كو حسن قرار ديا ہے.

اس ليے اگر يہ نوجوان نكاح كر لے اور بيوى اپنے ميكے ہى رہے، حتى كہ ان دونوں كے ليے اپنا گھر ميسر آ جائے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، نوجوان كو كوشش اور جدوجھد كرنى چاہيے كہ وہ كوئى ملازت حاصل كر لے جس سے وہ اپنا اور بيوى بچوں كا خرچ چلا سكے، تا كہ بيوى اور بيوى كے ميكے والے بھى طويل مدت سے نقصان اور ضرر نہ اٹھائيں.

اور اگر مراد يہ ہے كہ بيوى خاوند كے گھر منتقل ہو جائيگى اور انہوں نے مباشرت نہ كرنے كا اتفاق كر ركھا ہے تا كہ اس مرحلہ ميں اولاد پيدا نہ ہو تو ايسا نہيں كرنا چاہيے اس كے كئى ايك اسباب ہيں:

1 ـ مباشر اور ازدواجى تعلقات قائم نہ كرنے ميں نكاح كى سب سے اہم مصلحت اولاد كا حصول فوت ہو جاتا ہے.

2 ـ فقر و فاقہ كے ڈر سے اولاد پيدا نہ كرنا اللہ پر توكل كے منافى ہے، اور پھر اس ميں اہل جاہليت سے بھى مشابہت ہوتى ہے جو اپنى اولاد كو فقر و فاقہ كے خدشہ سے قتل كر ڈالتے تھے اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے تو ہر نفس كا رزق اپنے ذمہ لے ركھا ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور زمين ميں جو كوئى بھى جاندار ہے اس كى روزى اللہ كے ذمہ ہے، وہى اس كے رہنے سہنے كى جگہ كو جانتا ہے اور ان كے سونپے جانے كى جگہ كو بھى سب كچھ واضح كتاب ميں موجود ہے }ھود ( 6 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{ اور آسمان ميں تمہارا رزق ہے اور وہ جس كا تم وعدہ كيے جاتے ہو }الذاريات ( 22 ).

يہاں دو چيزوں پر تنبيہ كرنا ضرورى ہے:

اول:

نكاح ميں نكاح كے اركان اور اس كى شروط كا پايا جانا ضرورى ہے، مرد اور عورت كى رضامندى كا ہونا، اور نكاح كے شرعى موانع نہ ہوں مثلا محرم ہونا يا رضاعت، اور عورت كے ولى كا موجود ہونا، اور دو گواہ بھى ہوں، وگرنہ نكاح صحيح نہيں ہوگا.

دوم:

شادى سے قبل مرد و عورت كے مابين تعلقات قائم كرنا جائز نہيں، كيونكہ ايسا كرنے ميں بہت سارى خرابياں پيدا ہوتى ہيں، مثلا اس كے ساتھ دل معلق ہونا، بيمار ہونا، ايك دوسرے كو ديكھنا، خلوت كرنا، بات چيت ميں نرم رويہ اختيار كرنا، اس كے علاوہ دوسرى حرام اشياء.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments