67926: كيا اپنے ملازمين اور خادموں كو زكاۃ دے سکتا ہے؟


كيا ملازمين مثلا ڈرائيور، اور خادمہ پر زكاۃ كا مال صرف كرنا جائز ہے؟ اور رشتہ داروں ميں سے زكاۃ كے مستحق افراد كى تحديد كيسے كى جا سكتى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

اگر ڈرائيور اور گھریلو خادمہ زكاۃ كے مستحقين ميں شامل ہوتے ہوں تو ان پر زكاۃ صرف كرنے ميں كوئى حرج نہيں، مثلا وہ اتنے غریب اور مسکین ہیں کہ انہیں ملنے والی تنخواہ سے اہل خانہ کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا ، تو فرمانِ الہی کے مطابق زكاۃ كے مصارف یہ ہیں:

( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ )

ترجمہ: زكاۃ تو صرف فقراء، مساكين، اور اس پر كام كرنے والے، اور تاليف قلب ميں، اور گردنیں آزاد كرانے ميں، اور قرض داروں كے ليے، اور اللہ كے راستے ميں، اور مسافروں كے ليے ہے، يہ اللہ تعالى كى طرف سے فرض كردہ ہے، اور اللہ تعالى علم والا اور حكمت والا ہے ۔التوبۃ / 60

چنانچہ اگر وہ مذکورہ مصارف ميں شامل ہوتے ہيں تو انہيں زكاۃ دينے ميں كوئى حرج نہيں۔

ليكن قابل توجہ بات یہ ہے كہ اس ميں مالك [صاحب عمل] كى كوئى مصلحت نہيں ہونى چاہيے، مثلا بعد میں ان سے ايگريمنٹ اور معاہدے سے زيادہ كام کروائے، يا پھر ان كے کچھ حقوق ادا نہ کرے، اور مالک انہيں زكاۃ كا مال ادا كردے تا كہ وہ اپنے ان حقوق سے دستبردار ہو جائيں, وغيرہ

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

اگر كسى تاجر كے پاس دوكان يا كمپنى ميں چھ سو ريال تنخواہ پر ملازم ہوں تو كيا تاجر انہيں زكاۃ كا مال دے سكتا ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"جى ہاں اگر وہ زكاۃ كے مصارف اور مستحقين ميں شامل ہوتے ہوں تو انہيں زكاۃ دی جاسکتی ہے، مثلا ان كے اہل و عيال كے ليے يہ تنخواہ كافى نہ ہوتى ہو، يا پھر وہ مقروض ہوں اور ان كى تنخواہ سے قرض كى ادائيگى نہ ہو سكتى ہو، يا اس طرح كا كوئى اور سبب، الغرض كہ وہ زكاۃ كے مستحق افراد ميں شامل ہوتے ہوں تو انہيں زكاۃ دينے ميں كوئى حرج نہيں چاہے وہ آپ كے پاس ملازم يا خادم ہی كيوں نہ ہوں" انتہى

"فتاوى الزكاۃ "( 350 )

اور فضيلۃ الشيخ ڈاكٹر عبد الكريم بن عبد اللہ الخضير سے پوچھا گيا:

ميرے پاس مسلمان خادم ہيں تو كيا ميں اپنے مال كى زكاۃ انہيں ادا كر سكتا ہوں؟

شيخ كا جواب تھا:

" جب ملازم كو اس كى اجرت اور تنخواہ پورى دى جائے پھر بھی اس كى ضروريات پورى نہ ہوتى ہوں یعنی اس كى تنخواہ ضروريات كے ليے كافى نہ ہوتى ہو تو اسکی ضروریات پوری کرنے کیلئے زكاۃ دينے ميں كوئى شرعى مانع نہيں ہے؛ليكن شرط يہ ہے كہ كام كى مصلحت كو پيش نظر ركھتے ہوئے انہيں زكاۃ نہ دى جائے۔انتہى

دوم:

اور جن اقربا اور رشتہ داروں كو زكاۃ دينا صحيح ہے اس كے بارہ ميں سوال نمبر (21801) اور (21810) كے جواب ميں بيان كيا جا چكا ہے، آپ اس كا مطالعہ كريں۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments