Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
681

شراب پيش كرنے والے ہوٹلوں ميں ملازمت كرنا

حرام مشروبات فروخت كرنے والے ہوٹلوں ميں ملازمت كرنے والے شخص كا حكم كيا ہے؟ اس طرح كہ وہ شخص يہ مشروبات گاہكوں كو پيش كرنے يا اٹھانے سے گريز كرتا ہے، ليكن جب گاہك حرام كردہ مشروبات اور كھانوں كے علاوہ اشياء طلب كريں تو يہ شخص ان كى خدمت بجا لانے ميں كوئى كمى و كوتاہى نہيں كرتا؟
يہ علم ميں ركھيں كہ ايك ہى جگہ ہونے كى بنا پر ميں شراب نوشى كرنے والوں كے پاس سے گزرتا بھى ہوں اور ان كى خدمت كرنے والوں كو ديكھ بھى رہا ہوتا ہوں، اور گاہكوں كو كھنچنے كے ليے ان مشروبات كى تجارت كرنے والے مسلمان شخص كا حكم كيا ہے؟
اور اس ہوٹل ميں كام كرنے كى حالت ميں گاہكوں كو خنزير كا گوشت پيش كرنے والے شخص كا حكم كيا ہے، يہ سب كچھ روزى اور ملازمت كے ليے كر رہا ہے؟
اور خنزير كا گوشت پيش كرنے والے ہوٹل كے مالك اور اس كى كمائى كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ :

اول:

شراب اور خنزير كا گوشت وغيرہ حرام اشياء پيش كرنے ميں معاونت اور اس ميں تعاون كر كے روزى كمانا حرام ہے، اور اس پر اجرت لينا بھى حرام ہے، كيونكہ ايسا كرنا ظلم و زيادتى اور گناہ و معصيت ميں معاونت ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالى نے اس سے منع كرتے ہوئے فرمايا ہے:

{اور تم گناہ ومعصيت اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كيا كرو} المائدۃ ( 2 )

ہم آپ كو اس ہوٹل ميں ملازمت كرنے سے منع كرتے ہيں اور يہ نصيحت كرتے ہيں كہ آپ اس سے دور ہى رہيں، كيونكہ اس كام سے دور رہنے ميں اللہ تعالى كى حرام كردہ اشياء ميں معاونت سے چھٹكارا حاصل كيا جا سكتا ہے.

دوم:

مسلمان كے ليے حرام كردہ اشياء مثلا خنزير اور شراب وغيرہ كى خريد و فروخت حرام ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح حديث ميں ثابت ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بلا شبہ جب اللہ تعالى نے كسى چيز كو حرام كيا تو اس كى قيمت بھى حرام كر دي"

اور پھر روزى اور گاہك لانا تو اللہ تعالى كے ہاتھ ميں ہے، نہ كہ حرام اشياء ميں، لھذا مسلمان شخص كو اللہ تعالى كے احكام پر عمل اور اس كى منع كردہ اشياء سے ركتے ہوئے تقوى و پرہيز گارى اختيار كرنى چاہيے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اور جو كوئى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتا ہے اللہ تعالى اس كے ليے نكلنے كى راہ بنا ديتا ہے، اور اسے روزى بھى وہاں سے ديتا ہے جہاں سے اسے گمان بھى نہيں ہوتا} الطلاق ( 2 - 3 )

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments