Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
69781

كيا سوموار اور جمعرات كا روزہ ركھنا افضل ہے يا ہرماہ ميں تين ايام كے روزے ركھنا؟

ہر ماہ تين روزے ركھنا افضل ہيں يا كہ سواموار اور جمعرات كا روزہ ركھنا افضل ہيں، اور ان روزوں كے متعلق آنے والى احاديث كونسى ہيں ؟
اور ہر ماہ كے تين يوم كونسے ہيں، كيا يہ ہر ماہ كى 13, 14، اور 15 تاريخ ہے، اور حديث كيا ہے ؟

الحمد للہ :

جب ہم سوموار اور جمعرات اور ہر ماہ كے تين روزوں ميں فضيلت كا موازنہ كرنا چاہيں، تو ہميں سوموار اور جمعرات كا روزہ ہر ماہ كے تين روزوں سے افضل ملے گا؛ كيونكہ سوموار اور جمعرات كا روزہ ہر ہفتہ ميں ہے، اس كا معنى يہ ہوا كہ ہر ماہ اس نے آٹھ روزے ركھے، تو اس طرح اس نے دونوں فضيلتوں كو جمع كر ليا، يعنى سوموار اور جمعرات اور مہينہ كے تين روزوں كى فضيلت بھى.

اور ہر ماہ ميں تين روزے ركھنے صحيح ہيں چاہے وہ مہينہ كى ابتدا ميں ركھ ليے جائيں يا پھر درميان يا مہينہ كے آخر ميں ركھے جائيں، چاہے وہ ايك ايك كر كے ركھے يا اكٹھے تين ركھ لے، ليكن افضل يہ ہے كہ وہ ايام بيض جو كہ چاند كى تيرہ چودہ اور پندرہ تاريخ ہوتى ہے، كے روزے ركھے.

ذيل ميں ہم سوموار اور جمعرات كا روزہ ركھنا كى ترغيب والى احاديث ذكر كرتے ہيں:

ا - ابو قتادہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے سوموار كے روزے كے متعلق دريافت كيا گيا تو انہوں نے فرمايا:

" اس دن ميں ميرى پيدائش ہوئى، اور اسى دن مجھ پر وحى نازل ہوئى "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1162 ).

ب ـ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سوموار اور جمعرات كا روزہ ركھنا تلاش كرتے تھے"

سنن ترمذى حديث نمبر ( 745 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 2361 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1739 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الترغيب ( 1044 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ج ـ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سوموار اور جمعرات كو اعمال پيش كيے جاتے ہيں، لہذا ميں چاہتا ہوں كہ ميرے اعمال ہوں تو ميں روزے كى حالت ميں ہوں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 747 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الترغيب حديث نمبر ( 1041 ) ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.

اب ذيل ميں ہر ماہ تين روزے ركھنے كى ترغيب والى احاديث پيش كى جاتى ہيں:

ا - ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے تين چيزوں كى وصيت فرمائى، كہ موت تك ان پر عمل كرتا رہوں، ہر ماہ تين روزے ركھنا، چاشت كى نماز ادا كرنا، اور وتر ادا كركے سونا"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1124 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 721 ).

ب ـ معاذۃ عدويہ بيان كرتى ہيں كہ انہوں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زوجہ محترمہ عائشہ رضى اللہ تعالى سے دريافت كيا: كہ كيا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہر ماہ تين روزے ركھا كرتے تھے؟

تو انہوں نے جواب ديا جى ہاں، تو ميں نے انہيں كہا: وہ مہينہ كے كونسے دنوں ميں يہ روزے ركھا كرتے تھے ؟

تو انہوں نے جواب ديا: انہيں كوئى پرواہ نہيں مہينہ كے كسى بھى دنوں ميں ركھ ليا كرتے تھے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1160 ).

ج ـ جرير بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہر ماہ تين روزے ركھنا سارے زمانے كے روزے ہيں، اور ايام بيض تيرہ چودہ اور پندرہ كا دن ہے "

سنن نسائى حديث نمبر ( 2420 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الترغيب ( 1040 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

د ـ ابو ذر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے فرمايا:

" جب مہينہ ميں كوئى روزہ ركھنا چاہو تو تيرہ چودہ اور پندرہ كا روزہ ركھو"

سنن ترمذى حديث نمبر ( 761 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 2424 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترغيب ( 1038 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

لہذا تين روزے ركھنے كے حكم ميں وسعت ہے، جيسا كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں بيان ہوا ہے، اور مہينہ ميں روزہ ركھنے كے افضل ترين دين تيرہ چودہ اور پندرہ تاريخ جسے ايام بيض كہا جاتا ہے كہ روزے ركھنا ہيں، جيسا كہ دوسرى صحيح احاديث ميں آيا ہے.

شيخ محمد نب صالح العثيمين رحمہ اللہ تعالى سے دريافت كيا گيا:

كيا ہر ماہ كے تين روزے صرف ايام بيض ميں ركھنا ضرورى ہيں ؟ يا كہ مہينہ كے كسى بھى دنوں ميں ركھے جا سكتے ہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" انسان كے ليے مہينہ كى ابتدا يا وسط يا آخر ميں ايك ايك يا اكٹھے تين روزے ركھنے جائز ہيں، ليكن افضل يہ ہے كہ ايام بيض تيرہ چودہ اور پندرہ تاريخ كو ركھے جائيں.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہر ماہ تين روزے ركھتے تھے اور انہيں يہ پرواہ نہيں تھى كہ مہينہ كى ابتدا ميں روزے ركھيں يا آخر ميں " انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 20 ) سوال نمبر ( 376 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments