Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
69840

كتا پالنا اور كتے كو چھونا اور بوسہ لينا

كتا ركھنا نجاست شمار ہوتا ہے، ليكن اگر انسان گھر كى چوكيدارى كے ليے كتا ركھے اور اسے گھر سے باہر ہى باندھے، يا پھر كسى اور جگہ وركشاپ وغيرہ ميں باندھے تو وہ اپنے آپ كو كس طرح پاك ركھ سكتا ہے ؟
اور اگر اسے اپنا آپ پاك كرنے كے ليے مٹى وغيرہ نہ ملے تو پھر كيا حكم ہو گا ؟
اور كيا مسلمان كو اپنا آپ پاك صاف ركھنے كے ليے اس كے علاوہ كوئى اور طريقہ پايا جاتا ہے، بعض اوقات مذكورہ شخص دوڑ كے وقت كتا اپنے ساتھ لے جاتا اور اسے تھپكياں ديتا اور اس كو چومتا ہے ... الخ ؟

الحمد للہ:

اول:

شريعت مطہرہ نے مسلمان شخص كے ليے كتا ركھنا حرام قرار ديا ہے اور اس كى مخالفت كرنے والے كو بطور نقصان روزانہ ايك يا دو قيراط نيكيوں كى كمى اٹھانا پڑتى ہے، ليكن شكار، يا جانوروں اور كھيت كى چوكيدارى كے ليے كتا ركھنا جائز ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى جانوروں كى ركھوالى، يا شكار كرنے، يا كھيت كى ركھوالى كے علاوہ كتا ركھا اس كا روزانہ ايك قيراط اجر كم ہوتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1575 ).

اور عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى جانوروں كى ركھوالى يا شكار كے علاوہ كتا ركھا اس كے اعمال سے روزانہ ايك قيراط كمى ہوتى ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5163 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1574)

كيا گھروں كى چوكيدارى كے ليے كتا ركھنا جائز ہے ؟

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" ان تين امور كے علاوہ كسى اور كام مثلا گھروں اور راستوں وغيرہ كى حفاظت اور چوكيدارى كے ليے كتا ركھنے ميں اختلاف ہے، راجح يہى ہے كہ ان تينوں پر قياس اور حديث سے سمجھ آنے والى علت " ضرورت " كى بنا پر كتا ركھنا جائز ہے " انتہى.

ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 10 / 236 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اس بنا پر جو گھر شھر كے وسط ( آبادى ) ميں ہو اس كى چوكيدارى كے ليے كتا ركھنا جائز نہيں، چنانچہ اس حالت ميں اس طرح كى غرض كے ليے كتا ركھنا حرام اور ناجائز ہو گا، اس كى بنا پر كتا ركھنے والے كا روزانہ ايك يا دو قيراط عمل اجر كم ہوتا رہے گا.

اس ليے انہيں كتے كو بھگا دينا چاہيے اور وہ كتا نہ پاليں، ليكن اگر وہ گھر خالى اور بيابان جگہ ميں ہو اور اس كے ارد گرد كوئى اور مكان نہ ہو تو پھر اس گھر اور اس ميں رہنے والوں كى حفاظت كے ليے كتا ركھنا جائز ہے، اور پھر گھر والوں كى حفاظت تو جانوروں مواشى اور كھيت كى حفاظت سے زيادہ اہم ہے " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 4 / 246 ).

ايك قيراط اور دو قيراط كى دونوں روايتوں ميں موافقت كے متعلق كئى ايك اقوال بيان كيے جاتے ہيں:

حافظ عينى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ا - ہو سكتا ہے يہ كتوں كى دو قسموں ميں ہو، ان ميں ايك زيادہ اذيت كا باعث ہو.

ب - بستيوں اور شہروں ميں دو قيراط اور ديہاتوں ميں ايك قيراط.

ج ـ يہ دو وعليحدہ وقتوں ميں بيان ہوا، پہلے تو ايك قيراط بيان كيا گيا، پھر سختى كرتے ہوئے دو قيراط كر ديے گئے.

ديكھيں: عمدۃ القارى ( 12 / 158 ).

دوم:

سائل كا يہ كہنا كہ:

" كتا ركھنا نجاست شمار ہوتا ہے "

اس كى يہ كلام مطلقا صحيح نہيں، كيونكہ نجاست فى نفسہ كتے ميں نہيں بلكہ جب وہ برتن ميں سے پيے تو اس كے لعاب اورتھوك ميں نجاست ہے اس ليے جو شخص كتے كو چھوئے يا كتا اس كے ساتھ لگ جائے تو اسے اپنے آپ كو نہ تو مٹى سے پاك كرنا ہو گا اور نہ ہى پانى كے ساتھ.

ليكن اگر كتا برتن ميں سے پيتا ہے تو اس پر برتن ميں موجود پانى وغيرہ انڈيلنا اور اسے سات بار پانى اور آٹھويں بار مٹى سے دھونا ضرورى ہے، اگر وہ اس برتن كو خود استعمال ميں لانا چاہے، ليكن اگر وہ برتن كتے كے ليے خاص ہے تو پھر اسے پاك صاف كرنا لازم نہيں.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب كتا تمہارے كسى برتن ميں مونہہ ڈال دے تو اس كى پاكى اور صفائى يہ ہے كہ اسے سات بار دھويا جائے، پہلى يا آخرى بار مٹى سے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 279 ).

اور مسلم كى ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:

" جب كتا برتن ميں مونہہ ڈال جائے تو اسے سات بار دھوؤ، اور آٹھويں بار مٹى سے مانجھو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 280 ).

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" كتے كے متعلق علماء كرام كے تين اقوال ہيں:

پہلا قول:

اس كى تھوك طاہر ہے. امام مالك رحمہ اللہ كا مسلك يہى ہے.

دوسرا قول:

نجس ہے، حتى كہ اس كے بال بھى نجس ہيں.

يہ امام شافعى رحمہ اللہ كا مسلك اور امام احمد كى ايك روايت ہے.

تيسرا قول:

اس كے بال طاہر ہيں، اور اس كى تھوك نجس ہے.

يہ مسلك امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كا ہے، اور امام احمد كى دوسرى روايت ہے.

ان اقوال ميں صحيح ترين قول بھى يہى ہے، چنانچہ جب بدن يا كپڑے كو اس كے بالوں كى رطوبت لگ جائے تو وہ نجس نہيں ہو گا " انتہى.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 21 / 530 ).

اور ايك دوسرے مقام پر رقمطراز ہيں:

" يہ اس ليے كہ بعينہ اشياء ميں اصل تو طہارت ہے، اس ليے كسى بھى چيز كو اس وقت حرام يا نجس نہيں كہا جا سكتا جب تك اس كى كوئى دليل نہ ملے جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اللہ تعالى نے تمہارے ليے جو حرام كيا ہے اسے تفصيل سے بيان كر ديا ہے، مگر يہ كہ جس كى طرف تم مضطر ہو جاؤ ﴾الانعام ( 119 ).

اور ايك مقام پرارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ اور اللہ تعالى كسى قوم كو ہدايت دينے كے بعد گمراہ نہيں كرتا، حتى كہ ان كے ليے وہ كچھ بيان كردے جس سے وہ بچيں ﴾التوبۃ ( 115 ).

اور جب معاملہ ايسے ہى ہے تو پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب كتا تمہارے برتن ميں مونہہ ڈال دے تو اس كى صفائى يہ ہے كہ وہ اسے سات بار دھوئے پہلى بار مٹى سے "

اور ايك دوسرى حديث ميں ہے:

" جب كتا برتن ميں مونہہ ڈال دے .... الخ "

چنانچہ ان سب احاديث ميں صرف كتے كے مونہہ ڈالنے كا ذكر ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كے سارے اجزاء كا ذكر نہيں كيا، اس ليے اسے نجس كہا بطور قياس ہے ....

اور يہ بھى كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شكار، اور مواشى اور كيھتوں كى ركھوالى كے ليے كتا ركھنا جائز قرار ديا ہے، اس ليے جو بھى اس غرض كے ليے كتا ركھے گا اس كے بالوں كى رطوبت اور پيسينہ لگنا لازمى ہے، جس طرح خچر اور گدھے كا پسينہ لگ جاتا ہے، چنانچہ اس كے بالوں كو نجس كہنا امت مسلمہ كو حرج اور تنگى ميں ڈالنا ہے، حالانكہ امت مسلمہ سے اسے ختم كيا گيا ہے " انتہى.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 21 / 617 - 619 ).

احتياط يہى ہے كہ جو شخص كتے كو چھوئے اور اس كے ہاتھ پر رطوبت اور پسينہ لگے، يا پھر كتے كو پسينہ آيا ہو تو وہ ہاتھ كو سات بار دھوئے، ان ميں ايك بار مٹى سے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اور رہا اس كتے كو چھونے كا مسئلہ اگر وہ بغير پسينہ اور رطوبت كے اسے چھوتا ہے تو اس كا ہاتھ نجس نہيں ہو گا، اور اگر رطوبت اور پسنہ كى حالت ميں چھوئے تو اكثراہل علم كى رائے ميں اس كا ہاتھ نجس ہو جائيگا، اس كے بعد اسے اپنا ہاتھ سات بار دھونا لازمى ہے،ان ميں ايك بار مٹى سے " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 11 / 246 ).

سوم:

كتے كى نجاست كى طہارت اور پاكيزگى كى كيفيت سوال نمبر ( 41090 ) اور ( 46314 ) كے جوابات ميں بيان ہو چكى ہے، اس كا مطالعہ كريں.

كتے كى نجاست كو سات بار دھونا لازمى ہے، اس ميں ايك بار مٹى كے ساتھ، مٹى موجود ہونے كى صورت ميں اس كا استعمال واجب ہے، اس كے علاوہ كوئى چيز كفائت نہيں كرےگى، ليكن اگر مٹى نہ ملے تو صفائى كے ليےاستعمال كى جانے والى باقى اشياء مثلا صابن وغيرہ كے استعمال ميں كوئى حرج نہيں.

چہارم:

اور سائل نے كتے كو چومنے اور اس كا بوسہ لينے كا ذكر كيا ہے، اس كے متعلق گزارش ہے كہ يہ كئى ايك امراض كا باعث بنتا ہے، شريعت مطہرہ كى مخالفت كرتے ہوئے كتے كو چومنے، يا پھر بغير دھوئے كتے كے برتنوں كواستعمال كرنے سے انسان كو جو امراض اور بيمارياں لاحق ہوتى ہيں وہ بہت زيادہ ہيں جن ميں (pasturella ) مرض پايا جاتا ہے، يہ ايك بيكٹري مرض ہے، انسان اور حيوان كے سانس والے نظام ميں اس مرض كا سبب طبعى پايا جاتا ہے، اور خاص ظروف كے تحت يہ جرثومہ جسم ميں بيمارى پيدا كرنے كا باعث بنتا ہے.

اور ان بيماريوں ميں (parasitic disease ) كى بيمارى بھى شامل ہے يہ ايك طفيلى بيمارى ہے جو انسان اور حيوان كے اندرونى اعضاء كو لگتى ہے، اور سب سے بڑى پھپھڑوں اور جگر ميں خرابى پيدا كرتى ہے، اور اس كے ساتھ پيٹ اور جسم كے باقى اعضاء ميں كھوكھلا پن پيدا كر ديتا ہے.

اس بيمارى كى بنا پر ايك كيڑا پيدا ہوتا ہے جسے ( ايكائنكس كرانيلسس) كا نام ديا جاتا ہے، يہ ايك چھوٹا سا كيڑا ہے جس كى لمبائى دو سے نو ملى ميٹر ہوتى ہے، جو تين اجزاء اور سر اور گردن پر مشتمل ہوتا ہے، اور سر چار مونہوں پر مشتمل ہوتا ہے.

يہ كيڑے جو كتوں بليوں اور لومڑيوں اور بھيڑيوں جيسے ہوتے ہيں بالآخر انتڑيوں ميں نشو و نما پاتے ہيں.

ديكھيں: كتاب امراض الحيوانات الاليفۃ التى تصيب الانسان تاليف ڈاكٹر اسماعيل عبيد السنانى.

خلاصہ:

شكار يا مواشى اور كھيت كى ركھوالى كے علاوہ كسى بھى غرض سے كتے ركھنے جائز نہيں، اور گھروں كى ركھوالى كے ليے كتے اس شرط پر ركھنے جائز ہيں كہ گھر شہر سے باہر خالى جگہ ميں ہو،اور كتے كے علاوہ ركھوالى كا كوئى اور وسيلہ نہ ہو.

مسلمان شخص كو كفار كى تقليد كرتے ہوئے كتوں كے ساتھ نہيں دوڑنا چاہيے، اور نہ ہى انہيں چھوئے اور انہيں چومے كيونكہ ايسا كرنے سے بہت سى بيمارياں لاحق ہوتى ہيں.

اللہ كا شكر ہے جس نے ہميں ايسى شريعت مطہرہ سے نوازا جو كامل ہے، اور جس نے لوگوں كے دين و دنيا كى اصلاح كے اصول و قواعد لاگو كيے، ليكن اكثر لوگ انہيں جانتے ہى نہيں.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments