Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
69973

حكومتى ادارے سے قرض لينا

ہمارى حكومت تعليم سے فارغ ہونے والے نوجوانوں كو ملازمت كے عوض ميں قرض مہيا كرتى ہے، كيا يہ قرض حلال ہے يا حرام ؟

الحمد للہ:

علماء كرام كا اتفاق ہے كہ جب قرض ميں واپسى كے وقت زيادہ رقم ادا كرنے كى شرط ہو تو يہ سود اور حرام ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور ہر وہ قرض جس ميں زيادہ واپسى كى شرط ركھى گئى ہو تو وہ بغير كسى اختلاف كے حرام ہے، ابن منذر كہتے ہيں: سب كا اتفاق ہے كہ جب قرض دينے والا قرض لينے پر واپسى كے وقت زيادہ رقم دينے يا كوئى ہديہ دينے كى شرط ركھے اور اس شرط پر ادھار لے ليا تو اس رقم سے زيادہ لينا سود ہے.

روايت كيا جاتا ہے كہ ابى بن كعب اور ابن عباس، اور ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہم ايسے قرض سے منع كيا كرتے تھے جو نفع لائے " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامۃ ( 4 / 211 ).

اور ابن عبد البر كہتے ہيں:

ادھار اور قرض ميں ہر زيادہ يا كوئى ايسى منفعت جس سے ادھار دينے والا نفع اٹھائے وہ سود ہے، چاہے وہ چارے كى ايك مٹھى ہى ہو، اور اگر يہ شرط كے ساتھ ہو تو حرام ہے " انتہى.

ديكھيں: الكافى ( 2 / 359 ).

اور اس بنا پر اگر قرض سودى ہو وہ اس طرح كہ اگر اس ميں شرط ركھى گئى ہو كہ قرض واپس كرتے وقت حاصل كردہ رقم سے زيادہ رقم ادا كرن ہوگى، تو آپ كے ليے يہ مبلغ لينا جائز نہيں، كيونكہ يہ سودى معاہدہ ہے، اور آپ پر يہ بات مخفى نہيں ہونى چاہيے كہ سود كبيرہ گناہ ہيں، اور اللہ تعالى آپ كو اس قرض اور اس طرح كى دوسرى اشياء سے غنى كر دے، اور آپ كو اس كى ضرورت ہى نہ رہے.

ليكن اگر يہ قرض قرضہ حسنہ ہو نہ كہ سودى قرض تو مقروض شخص اتنى ہى رقم واپس كرنے كا پابند ہو جس قدر اس نے قرض ليا تھا اور اس ميں كسى بھى قسم كى كوئى زيادتى نہ ہو تو اس قرض كے حصول اور اس سے فائدہ اٹھانے ميں كوئى حرج نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments