Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
7103

اونٹ كا گوشت كھانے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے

كيا اونٹ كا گوشت كھانے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟

الحمد للہ:

صحيح يہى ہے كہ چھوٹے يا بڑے يا نر يا مادہ كچا يا پكا ہوا گوشت كھانے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے، اس كے كئى ايك دلائل ہيں:

1 - جابر رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا گيا:

" كيا ہم اونٹ كے گوشت سے وضوء كيا كريں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جواب ديا: جى ہاں.

راوى نے كہا: كيا ہم بكرى كے گوشت سے وضوء كريں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اگر چاہو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 360 ).

2 - براء رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا گيا:

كيا ہم اونٹ كے گوشت سے وضوء كريں ؟

تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم اس سے وضوء كرو.

اور بكرى كے گوشت كے متعلق دريافت كيا گيا تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: وضوء نہ كرے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 184 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 81 ) امام احمد اور اسحاق بن راہويہ نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

جو علماء اونٹ كے گوشت سے وضوء كرنا واجب نہيں كہتے انہوں نے كئى ايك رد پيش كيے ہيں:

ا ـ يہ حكم منسوخ ہے، اور ان كى دليل يہ ہے كہ جابر رضى اللہ عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے آخرى دو امروں ميں سے آگ پر پكى ہوئى چيز سے وضوء نہ كرنا تھا "

سنن ابو داود حديث نمبر( 192 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 185 ).

اور يہ رد مسلم شريف كى خاص نص كا مقابلہ نہيں كر سكتا.

پھر يہ بھى ہے كہ اس ميں منسوخ ہونے كى كوئى دليل نہيں؛ كيونكہ انہوں نے تو يہ دريافت كيا كہ آيا ہم بكرى كے گوشت سے وضوء كريں تو آپ صلى اللہ وسلم نے فرمايا اگر چاہو.

اور اگر يہ حديث منسوخ ہوتى تو پھر بكرى كا حكم بھى منسوخ ہوتا، اور جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ فرمايا كہ: " اگر چاہو" تو يہ اس كى دليل ہے كہ يہ احاديث جابر رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث كے بعد والى ہيں.

اور نسخ ميں يہ ضرورى ہے كہ كوئى ايسى دليل ہو جو يہ ثابت كرے كہ ناسخ تاريخى طور پر مقدم ہو اور ايسى كوئى دليل نہيں ہے.

پھر نسخ والى حديث عام ہے، اور يہ خاص جو كہ حديث كے عموم كو خاص كرتى ہے.

پھر يہ بھى كہ ان كا بكرى كے گوشت كے متعلق سوال كرنا اس بات كو بيان كرتا ہے كہ علت آگ پر پكنے والى چيز ميں نہيں، كيونكہ اگر ايسا ہوتا تو بكرى اور اونٹ كا گوشت اس ميں برابر ہوتا.

ب ـ انہوں نے اس حديث سے بھى استدلال كيا ہے:

" وضوء خارج ہونے والى چيز سے ہوتا ہے نہ كہ داخل ہونے والى چيز سے "

اس كا رد يہ ہے كہ:

اس حديث كو امام بيھقى ( 1 / 116 ) نے روايت كيا اور اسے ضعيف قرار ديا ہے، اور دار قطنى صفحہ ( 55 ) نے بھى اور تين علتوں كى بنا پر يہ حديث ضعيف ہے.

اس كى تحقيق آپ السلسلۃ الاحاديث الضعيفۃ والموضوعۃ حديث نمبر ( 959 ) ميں ديكھ سكتے ہيں.

اور بالفرض اگر مان بھى ليا جائے كہ يہ حديث صحيح ہو تو يہ عام ہے اور وضوء واجب كرنے والى حديث خاص.

ج ـ اور بعض كا كہنا ہے كہ:

قولہ " اس سے وضوء كرو " اس قول سے مراد يہ ہے كہ ہاتھ اور منہ دھوئے جائيں، كيونكہ اونٹ كے گوشت ميں كريہہ قسم كى بو اور غليظ قسم كى چكناہٹ پائى جاتى ہے، ليكن بكرى كے گوشت ميں نہيں!

اس كا رد يہ ہے كہ:

يہ بعيد ہے، كيونكہ اس سے ظاہر يہى ہے كہ شرعى وضوء كيا جائے نہ كہ لغوى، اور شرعى الفاظ كو شرعى واجب معانى پر ہى محمول كرنا چاہيے.

د ـ بعض نے ايك ايسے قصہ سے استدلال كيا ہے جس كى كوئى اصل ہى نہيں اس كا خلاصہ يہ ہے كہ:

ايك روز نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو كسى شخص كى ہوا خارج ہوئى تو اس شخص نے لوگوں كے درميان سے نكلنے ميں شرم كى اور اس نے اونٹ كا گوشت كھايا تھا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كا پردہ ركھتے ہوئے فرمايا:!

جس نے اونٹ كا گوشت كھايا وہ وضوء كرے، تو لوگوں كى ايك جماعت جنہوں نے اونٹ كا گوشت كھايا تھا اٹھ كر وضوء كيا ! "

اس كا رد يہ ہے كہ:

شيخ البانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ميرے علم كے مطابق كتب سنت ميں اس كى كوئى اصل نہيں ہے، اور نہ ہى كسى فقہ اور تفسير كى كتاب ميں موجود ہے.

ديكھيں: السلسلۃ الاحاديث الضعيفۃ والموضوعۃ ( 3 / 268 ).

اس مسئلہ ميں راجح يہ ہے كہ آگ كى پكى ہوئى چيز كے بعد وضوء كرنا منسوخ ہے.

اور اونٹ كا گوشت كھانے سے وضوء كرنا واجب ہے.

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راھويہ، يحي بن يحي، ابو بكر ابن منذر، ابن خزيمہ رحمہم اللہ كا مسلك ہے كہ اس سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے، اور حافظ ابوبكر البيھقى نے يہى اختيار كيا ہے، اور اہل حديث سے مطلقا بيان كيا جاتا ہے، اور صحابہ كرام كى ايك جماعت سے بھى بيان كيا گيا ہے.

انہوں نے جابر بن سمرہ رضى اللہ تعالى عنہ كى اس حديث سے استدلال كيا ہے جو امام مسلم نے روايت كى ہے، امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راھويہ كہتے ہيں كہ: اس كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے جابر اور براء رضى اللہ عنہم كى دو حديثيں صحيح ثابت ہيں، جو كہ اس مذہب ميں سب سے قوى دليل ہے، اگرچہ جمہور اس كے خلاف ہيں.

جمہور علماء كرام نے اس حديث كا جواب جابر رضى اللہ عنہ كى حديث سے ديا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے آخرى دو امر ميں آگ پر پكى ہوئى چيز سے وضوء نہ كرنا شامل ہے، ليكن يہ حيث عام ہے اور اونٹ كے گوشت سے وضوء كرنے والى حديث خاص ہے، اور خاص عام پر مقدم ہے.

ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 4 / 49 ).

اور معاصر علماء كرام ميں سے الشيخ ابن باز اور الشيخ ابن عثيمين اور علامہ البانى رحمہم اللہ نے بھى يہى كہا ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments