72315: صرف كمپنى كے منافع سے زكاۃ نكالنے كے متعلق سوال


ميں ڈيكوريشن شيشہ بنانے والى كمپنى كا مالك ہوں، ميرے سوال زكاۃ سے متعلق ہيں، وہ اس طرح كہ ميں صرف منافع كى زكاۃ ادا كرتا ہوں اور اس ميں سے بھى تيس فيصد ( 30 % ) ٹيكس نكال كر، كيا اس طريقہ سے ميرا زكاۃ نكالنا صحيح ہے ؟
كيونكہ جب سے مجھے كچھ دوستوں نے بتايا ہے كہ اس طرح زكاة كى ادائيگى صحيح نہيں مجھے اپنے اس معاملہ ميں اس وقت سے پريشانى لاحق ہے، يہ علم ميں رہے كہ كمپنى كے كام كا طريقہ كاريہ ہے كہ گاہك كے ساتھ ڈیزائین دار اور رنگین شيشے کے گنبد اور كھڑكياں بنانے كا معاہدہ ہوتا ہے، اور ہم باہر سے خام مال،شیشہ ، سیسہ اور کاویہ وغيرہ منگوا كر سٹور كرتے ہيں اور يہ خام مال پروڈکشن میں استعمال ہوتا ہے اور كچھ سٹور ہو جاتا ہے جو كہ مالى سال كے آخر تك موجود ہوتا ہے اور سال كے آخر ميں سالانہ انوینٹری کے بعد كمپنى كے مالى مركز كو اس كى فہرست جارى كر دى جاتى ہے، جو اس سال كے منافع كى تفصيل جارى كرتا ہے اور ميں اسی نفع مین سے زكاۃ دیا کرتا ہوں۔
ميرے درج ذيل سوالات ہيں:
كيا زكاۃ صرف منافع پر نكالى جائے گى، يا كہ رأس المال پر ؟
يا پھركمپنى كے مالى مركز كى فہرست ميں بيان كردہ مالك كے حقوق پر زكاة ادا كى جائيگی؟
كيا نفع كى مد سے حاصل كردہ رقم ميں سے محكمہ زكاۃ و آمدنى كو ادا كيا گيا ٹيكس زكاۃ كى ايك قسم شمار ہو گا ؟
برائے مہربانى مجھے زكاۃ نكالنے كا صحيح طريقہ بتائيں، كيونكہ ميں اپنے اس معاملہ ميں پريشان ہوں، اللہ تعالى سے ميرى دعا ہے كہ وہ میری صحيح اور سيدھے راستے كى راہنمائى فرمائے تا كہ پچھلے برسوں ميں كى گئى اپنى كوتاہى اورغلطى كو دور كروں، يا پھر اگر ميرا فعل صحيح تھا تو ميرا دل مطمئن ہو سكے۔

الحمد للہ:

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو دينى احكام كے متعلق سوال كرنے پر جزائے خير عطا فرمائے، ہر مسلمان شخص پر واجب بھى يہى ہے كہ وہ بغير كسى تاخير اور تردد كے اپنے دينى احكام كے متعلق سوالات كرتا رہے۔

آپ كے سوال كا جواب يہ ہے:

اول:

آپ كى يہ كمپنى صنعتى تجارتى كمپنى ہے، اور صنعتى تجارتى كمپنيوں ميں تجارتى سامان پر زكاۃ واجب ہوتى ہے، اور كمپنى كے آلات، اور مشينوں اور گاڑيوں، اور عمارت اور اس سامان پر جو استعمال كے ليے ہو زكاۃ واجب نہيں ہوتى صرف اس چيز پر ہو گى جو نفع پر فروخت كے ليے ہو۔

اس كى تفصيل جاننے كے ليے آپ سوال نمبر (74987 ) اور (69916) كے جوابات كا مطالعہ كريں۔

اس ليے سال كے آخر ميں زكاۃ كى ادائيگى كا طريقہ درج ذيل ہوگا:

آپ كمپنى كے سٹور ميں خريد كردہ سارا وہ مال شمار كريں جو فروخت كرنے كى غرض سے خريدا گيا ہے، اس ميں ( شيشہ، سیسہ ، ٹانکا۔۔۔وغيرہ الخ ) يہ سب اشياء شامل ہونگى، سال كے آخر ميں ان اشياء كى قيمت لگائى جائے اور قيمت لگاتے وقت قيمت خريد كو مدنظر نہيں ركھا جائے گا بلكہ مارکیٹ کی موجودہ قيمت لگائى جائے گى۔

اور اس ميں وہ رقم بھى شامل كی جائے گی جو كمپنى كے پاس يا بنك ميں ہے۔

اور اس ميں وہ ادھار اور قرض بھى شامل كيا جائے گا جو آپ نے لوگوں سے لينا ہے، اور جس كے حصول كى آپ كو اميد ہے، پھر اس سارى رقم سے اڑھائى فيصد ( 2.5%) كے حساب سے زكاۃ نكالى جائے گى۔

دوم:

اور دوران سال كمپنى كے منافع كو دو قسموں ميں تقسيم كرنا ممكن ہے:

الف: گاہكوں كو شيشہ فروخت كرنے سے حاصل ہونے والا منافع

اس منافع ميں زكاۃ واجب ہے، اور اس كے ليے نيا سال شمار كرنے كى ضرورت نہيں بلكہ اس كا سال وہى ہو گا جو راس المال كا ہے جس سے آپ نے وہ مال خريدا تھا، بشرطيكہ وہ راس المال نصاب تک پہنچتا ہو۔

ديكھيں: المغنى از ابن قدامہ مقدسى ( 4 / 75 )

ب: يعنى خام مال پر محنت کرکے حاصل ہونے والا منافع ( يعنى اسے جوڑنے اور بنانے كى اجرت شمار كرنا ممكن ہے ) تو اگر يہ منافع نصاب كو پہنچے اور اس پر سال گزر جائے تو زكاۃ واجب ہو گى۔

عملى طور پر دونوں قسم كے نفع ميں فرق كرنے ميں مشكل پيش آ سكتى ہے اس ليےافضل يہ ہے كہ سارے منافع پر رأس المال والے سال كے آخر ميں ہى زكاۃ ادا كر دى جائے، تو اس طرح جو تجارتى سامان كا منافع ہو گا اس كى زكاۃ تو آپ نے اس كے وقت ( سال پورا ہونے ) پر ادا كردى، اور جو كام كى مزدورى اور اجرت پر منافع تھا اس كى زكاۃ آپ نے پیشگی ادا كردى، كيونكہ وقت سے قبل پیشگی زكاۃ ادا كرنى جائز ہے۔

سوم:

اور جو منافع سال كے دوران خرچ كيا جا چكا ہے اور سال كے آخر تك باقى نہيں رہا اس پر كوئى زكاۃ نہيں۔

چہارم:

كمپنى كے تجارتى سامان کیلئے سال کی تحدید كمپنى كى بنیاد کے وقت، يا خام مال كى خريدارى كے وقت سے شروع نہيں ہوگا، بلكہ اس نقد رقم سے سال شمار ہو گا جس كے ساتھ آپ نے خام مال كى خريدارى كى ہے۔

مثلا: اگر آپ محرم كے مہينہ ميں نصاب كے مالك بن گئے اور كمپنى كى بنیاد رجب كے مہينہ ميں رکھی گئی اور خال مال آپ نے رمضان ميں خريدا اور كام شروع كر ديا، تو كمپنى كے سامان كا سال محرم كے مہينہ ميں ہو گا نہ كہ رمضان المبارك ميں۔

چنانچہ شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" آپ كو علم ہونا چاہيے كہ تجارتى سامان كا سال اس كى خريدارى كے بعد شروع نہيں ہوتا بلكہ اس كا سال اصل مال كا ہو گا، كيونكہ وہ راس المال سے عبارت ہے جسے آپ نے سامان ميں تبديل كر ديا ہے، تو اس طرح سامان تجارب كا سال آپ كے پہلے مال والاسال ہو گا " انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 18 / 234 )

اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر (32715) كے جواب كا مطالعہ كريں۔

پنجم:

اور رہا مسئلہ ٹيكس نكالنے كے بعد زكاۃ كا حساب كرنا:

اگر تو سال مكمل ہونے سے قبل ٹيكس نكال كر ادائيگى ہوتى ہے تو آپ کا طریقہ صحيح ہے، كيونكہ ٹیکس کی شکل میں ادا کردہ رقم پر سال پورا نہيں ہوا۔

ليكن اگر يہ ٹيكس سال پورا ہونے كے بعد ادا كيا گيا ہو تو احتياط اسى ميں ہے كہ اس كى زكاۃ ادا كى جائے تا كہ آپ برى الذمہ ہو جائیں، اس ظالمانہ ٹيكس كى ادائيگى سے آپ كى زكاۃ ساقط نہيں ہو گى۔

ششم:

اور ٹيكس كو زكاۃ شمار كرنا جائز نہيں ہے، كيونكہ زكاۃ كے ليے محدود اور معين مصارف ہيں، جنہيں اللہ سبحانہ وتعالى نے مندرجہ ذيل فرمان ميں بيان کیا ہے:

( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ )

زكاۃ تو صرف فقراء، مساكين، اور اس پر كام كرنے والے، اور تاليف قلبی کیلئے، اور غلام آزاد كرانے ميں، اور قرض داروں كے ليے، اور اللہ كے راستے ميں، اور مسافروں كے ليے ہے، يہ اللہ تعالى كى طرف سے فرض كردہ ہے، اور اللہ تعالى علم والا اور حكمت والا ہے ۔التوبہ/ 60

اور ٹيكس ان مصارف ميں صرف نہيں كيے جاتے، اور ویسے بھى كہ حكومتيں ٹيكس کو زکاۃ کی مد میں وصول ہی نہیں کرتیں۔

دائمی فتوى كميٹى كے علمائےكرام كہتے ہيں:

" عمارت کا ٹيكس لينا زكاۃ کا بدل نہیں ہوسکتا، اور اس كى آمدن نصاب كو پہنچے اور اس پر سال گزر جائے تو زكاۃ واجب ہوگی ٹیکس کی وجہ سے ساقط نہیں ہوگی" مختصراً

ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ ( 9 / 339 )

مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر (2447) كا جواب ديكھيں۔

دائمی فتوى كميٹى كے علماء كرام سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ميں ٹمبر سٹور كا مالك ہوں اور دكان ميں موجود سامان پر سال گزر چكا ہے اور موجودہ سامان پر قرضہ بھى ہے جو كہ ادھار خريدا گيا ہے كچھ قيمت ادا كى جا چكى ہے اور باقى ادھار ہے اس كے علاوہ دكان كا كرايہ ، سالانہ لائسنس كى فيس ،ٹيكس، انشورنس، اور اسى طرح ملازمين كى تنخواہيں بھى ہيں تو اس كى زكاۃ كى ادائيگى ميں علماء كرام كيا فرماتے ہيں؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" برائے فروخت لکڑی اور دیگر سامان کی قیمت نصابِ زکاۃ تک پہنچ جائے يا آپ كے پاس نقد رقم اور دوسرے تجارتى سامان كو ملا كر نصاب كو پہنچ جائے تو سال گزرنے پر اس میں زكاۃ واجب ہوگی، قرضہ، كرايہ اور فيسیں، ٹیکسز، انشورنس، تنخواہیں وغيرہ سے زکاۃ کی ادائیگی ختم نہیں ہوگی" انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ ( 9 / 348 )

ہفتم:

گزشتہ برسوں كى زكاۃ كے متعلق يہ ہے كہ: آپ ہر برس كى زكاۃ كا اندازہ لگائیں اور جو آپ كے ذمہ باقى ہے وہ ادا کرديں، كيونكہ زكاۃ نكالنے كى كيفيت سے لا علمی وجوبِ زكاۃ کو ختم نہیں کرسکتی، وہ آپ كے ذمہ قرض ہے اسے ادا کرنا ضرورى اور واجب ہے۔

مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر (69798) كا جواب ديكھيں۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments