Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
72404

ادھار سونا فروخت كرنے والى كمپنى ميں ملازمت كرنا

ميں سونے كى ڈھلائى اور تجارت كرنے والى كمپنى ميں ملازمت كرتا ہوں، ميرا كام كمپنى كى نمائندگى كرنا ہے، ليكن يہ كمپنى سونا ادھا فروخت كرتى ہے، ليكن اس كا ريٹ ادائيگى كے وقت كا ہوتا ہے ( ادائيگى كے وقت ماركيٹ ريٹ ) يعنى جو گاہك ايك كلو سونا لے وہ ايك كلو سونا اور اس كى اجرت كا مقروض ہوتا ہے، اور جب وہ اس كى ادائيگى كريگا يا تو ايك كلو سونے كى سلاخيں اور ان كى اجرت، يا پھر ايك كلو سونے كى قيمت اور اجرت ادا كريگا.
اور اسى طرح ہم تيار شدہ سونا بھى فروخت كرتے ہيں جو زركون كے نگينوں پر مشتمل ہوتا ہے ليكن يہ بھى سونے كے ريٹ پر ہى، يہ علم ميں رہے كہ يہ ظاہر اور واضح ہوتا ہے، اور گاہك كو بھى اس كا علم ہوتا ہے، اس تجارت اور اس كمپنى ميں ميرى ملازمت كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كے مال ميں بركت كرے، اور آپ كو يہ سوال اور رزق حلال تلاش كرنے كى كوشش كرنے پر جزائے خير عطا فرمائے.

دوم:

آپ كا سوال چار مسائل پر مشتمل ہے:

پہلا مسئلہ:

سونا ادھار يا قرض كے ساتھ فروخت كرنا، اور اس كى صورت يہى ہے جو آپ نے بيان كى ہے كہ: گاہك سونا لے اور پھر بعد ميں اتنا ہى سونا يا نقدى، يا نقدى اور سونا دونوں كى ادائيگى كرے، اور يہ سب كچھ جائز نہيں؛ كيونكہ سونے كى سونے كے ساتھ، يا سونے كى نقدى كے ساتھ خريد و فروخت ميں شرط يہ ہے كہ وہ نقد ہو، يعنى ہاتھوں ہاتھ اسى وقت، اور سودا طے ہونے والى مجلس سے كوئى ايك چيز بھى ليٹ نہ ہو، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

عبادہ بن صامت رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سونا سونے كے بدلے، اور چاندى چاندى كے بدلے، اورگندم گندم كے بدلے، اور جو جو كے بدلے، اور كھجور كھجور كے بدلے، اور نمك نمك كے بدلے، ايك جيسا اور برابر برابر، اور ہاتھوں ہاتھ ہو، تو اگر يہ چيزيں مختلف ہو جائيں تو پھر اگر نقد ہوں تو تم جس طرح چاہو فروخت كرو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2970 ).

تو سونے كى سونے كے ساتھ فروخت ميں دو شرطيں ہونا ضرورى ہيں: كہ وہ مقدار ميں برابر ہو، اور سود طے ہونے والى مجلس ميں ہى قبضہ ميں ليا جائے.

اور سونا چاندى يا اس كے قائم مقام مثلا نقد رقم وغيرہ كے ساتھ فروخت كرنے ميں ايك شرط ضرورى ہے وہ يہ كہ سودا طے ہونے والى مجلس ميں ہى سونا ليا جائے، ليكن اس مجلس سے ادائيگى ميں تاخير كرنى يہ ادھار سود ہوگا، اور بعض اوقات تو زيادہ سود بھى ہو گا جبكہ سونا زيادہ ديا جائے، يا سونا تو برابر ہو ليكن اس كے ساتھ زيادہ نقدى بھى دى جائے.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

جب انسان تيار شدہ سونا كسى دوسرے كو فروخت كرے، اورگاہك كے پاس قيمت كا كچھ حصہ يا سارى قيمت ہى نہ ہو، اور نہ ہى كچھ ايام كے بعد يا مہينہ يا دو ماہ كے بعد تو كيا يہ جائز ہے يا نہيں ؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" اگر تو وہ قيمت جس سے تيار شدہ سونا خريدا گيا ہے سونا يا چاندى يا ان كے قائم مقام كاغذى نقدى، يا دستاويز ہو تو يہ جائز نہيں، بلكہ يہ حرام ہے؛ كيونكہ اس ميں ربا النسيئۃ يعنى ادھار سود ہے، اور اگر خريدارى سامان مثلا كپڑے، يا غلہ، يا كسى اور چيز كے ساتھ ہو تو پھر قيمت ميں تاخير كرنى جائز ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 466 ).

آپ مزيد تفصيل معلوم كرنے كےليے سوال نمبر ( 22869 ) اور ( 65919 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

دوسرا مسئلہ:

اور سونا سونے اور اس كى تيارى كى اجرت كے ساتھ فروخت كرنا يہ بھى حرام ہے، سونا سونے كے ساتھ فروخت كرنے ميں واجب اور ضرورى يہ ہے كہ مجلس عقد ميں ہى سونا اپنے قبضہ ميں كيا جائے، اور ہر قسم كى صناعت كے قطع نظر اس كا وزن ايك جيسا، اور مجلس عقد ميں ہى اپنے قبضہ ميں كرنا ضرورى ہے.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 74994 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

تيسرا مسئلہ:

زركون كے نگينہ جڑا ہوا سونا سونے كے ريٹ پر ہى فروخت كرنا: اس ميں تفصيل دركار ہے:

اگر تو يہ سونا چاندى يا كاغذ كے نوٹوں كے ساتھ فروخت كيا جائے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، جب كہ يہ ظاہر اور آنكھوں كے سامنے ہو اور گاہك كو اس كا علم ہو، جيسا كہ آپ نے ذكر كيا ہے.

اور اگر يہ سونا سونے كے ساتھ فروخت كيا جائے تو پھر ان نگينوں كو عليحدہ كرنا ضرورى ہے، تا كہ سونے كى مقدار كا علم ہو جائے، اور سونا سونے كے برابر ہو سكے.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 36762 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

چوتھا مسئلہ:

اس كمپنى ميں ملازمت كرنے كا حكم:

اور يہ مندرجہ بالا اشياء پر مبنى ہے، تو اگر كمپنى سودى كاروبار كرتى ہے، اور شرعى احكام پر عمل پيرا نہيں ہوتى تو اس كمپنى ميں ملازمت كرنا جائز نہيں، كيونكہ اس ميں حرام كا ارتكاب، يا حرام كام ميں اعانت ہوتى ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

سونے كى ان دوكانوں پر جو غير شرعى لين دين كرتے ہيں چاہے وہ سودى لين دين ہو يا حرام كردہ حيلہ بازى، يا دھوكہ دہى، يا دوسرے غير مشروع معاملات يہاں ملازمت كرنے كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" سودى معاملات كرنے والوں، يا دھوكہ دہى سے كام لينے والوں، يا اس طرح كے دوسرے حرام كام كرنے والوں كے پاس ملازمت كرنى حرام ہے كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم گناہ اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون نہ كرو ﴾ المآئدۃ ( 2 ).

اور اس ليے بھى كہ اللہ سبحانہ وتعالى نے يہ فرمايا ہے:

﴿ اور اللہ تعالى تمہارے پاس اپنى كتاب ميں يہ حكم نازل كر چكا ہے كہ جب تم كسى مجلس والوں كو اللہ تعالى كى آيتوں كے ساتھ كفر كرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع ميں ان كے ساتھ نہ بيٹھو! جب تك كہ وہ اس كے علاوہ اور باتيں نہ كرنے لگيں، ورنہ تم بھى اس وقت انہى جيسے ہو، يقينا اللہ تعالى تمام كافروں اور سب منافقوں كو جہنم ميں جمع كرنے والا ہے ﴾النساء ( 140 ).

اور اس ليے بھى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے جو كوئى بھى كسى برائى كو ديكھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے تبديل كرے، تو اگر اس ميں اس كى استطاعت نہ ہو تو اسے اپنى زبان سے روكے، اور اگر اس كى بھى طاقت نہ ركھے تو پھر اپنے دل سے "

اور ان كے پاس ملازمت كرنے والا شخص نہ تو اسے اپنے ہاتھ سے روكتا ہے، اور نہ ہى اپنى زبان سے، اور نہ ہى اپنے دل سے، تو اس طرح وہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا نافرمان ہو كر گنہگار ٹھرےگا " انتہى.

ديكھيں: فقہ و فتاوى البيوع صفحہ نمبر ( 392 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments