72443: فوت شدہ دادا جان كے گھر آكر لوگ وہاں كے پانى سے تبرك حاصل كرتے ہيں


ميرے ايك دوست كا دادا جن نكالنے ميں معروف تھا، ميرا اعتقاد ہے كہ وہ ان كے ساتھ شريعت اسلاميہ كے مطابق عمل نہيں كرتا تھا واللہ اعلم كيونكہ ميرے دوست نے جو كچھ مجھے بتايا ہے كہ اس كا دادا نماز ادا نہيں كرتا تھا، اور اب اس كے دادا كے فوت ہو جانے كے بعد اس كى رہائش گاہ پر آكر بركت حاصل كرتے ہيں، اور اس گھر كے ايك كونے ميں لگى ہوئى ٹونٹى سے پانى لے كر جاتے ہيں كہ يہ پانى بابركت ہے، اور اس ٹونٹى كے پاس كچھ مال بھى چھوڑ جاتے ہيں.
سوال يہ ہے كہ: ميرے دوست كو آپ كى كيا نصيحت ہے، كيا اسے يہ ٹونٹى ختم كر دينى چاہيے يا وہ كيا كرے، اور كيا اس ٹونٹى كے پاس پڑا ہوا مال اس كے ليے حرام ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

انبياء كے علاوہ كسى اور كے آثار سے تبرك حاصل كرنا جائز نہيں چاہے صالحين كا تبرك ہو يا طالحين كا، اللہ تعالى سے عافيت كے طلبگار ہيں، ليكن پھر لوگوں كا ايسے شخص سے تبرك حاصل كرنا جو بے نماز ہو شديد جھالت اور غظيم غفلت كى نشانى ہے، اور اس بات كى دليل ہے كہ لوگوں كو گمراہى سے نجات دلانے كے ليے صحيح عقيدہ كى تعليم دينے كى ضرورت ہے.

انبياء كے علاوہ كسى اور شخص كے آثار سے تبرك حاصل نہ كرنے كى دليل يہ ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے كسى بھى صحابى سے منقول نہيں كہ كسى نے ابو بكر صديق، يا عمر فاروق، يا كسى اور صحابى سے تبرك حاصل كيا ہو، اور اگر اس ميں كوئى بھلائى اور خير ہوتى تو وہ لوگ اس ميں سبقت لے جاتے.

شاطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت كے بعد صحابہ كرام ميں سے كسى ايك كے سے بھى يہ چيز ثابت نہيں، حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت ميں اپنے بعد ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ جو كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ كے خليفہ بھى تھے سے افضل كسى اور كو نہيں چھوڑا، اور ان كے ساتھ اس طرح كى كوئى چيز نہيں كى گئى، اور نہ ہى عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ، جو كہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كے بعد افضل شخص تھے، اور پھر اسى طرح ان كے بعد عثمان غنى رضى اللہ تعالى عنہ اور پھر ان كے بعد على رضى اللہ تعالى عنہ كى افضليت ہے، اور ان كے بعد باقى سب صحابہ كرام جن سے افضل امت ميں اور كوئى شخص نہيں.

پھر كسى صحيح اور معروف طريق سے يہ ثابت نہيں ہوتا كہ ان ميں سے كسى ايك نے بھى كسى بھى طريقہ سے ان سے تبرك حاصل كيا ہو، بلكہ انہوں نے تو افعال اور اقوال اور سيرت جس پر انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى كى اس پر ہى اقتصار كيا تو اس طرح يہ ان سب اشياء كو ترك كرنے پر ان كا اجماع ہوا " انتہى.

ماخوذ از: الاعتصام ( 1 / 482 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے آثار كے علاوہ كسى بھى شخص كے آثار سے تبرك حاصل نہيں كيا جا سكتا، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى ميں بھى ان كے آثار سے تبرك حاصل كيا جاسكتا ہے، اسى طرح اگر ان كے كوئى آثار باقى ہوں تو ان كى وفات كے بعد بھى ان سے تبرك حاصل كيا جا سكتا ہے، جيسا كہ ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا كے پاس چاندى كا ايك برتن تھا جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے چند ايك بال مبارك تھے جس سے مريض كا علاج كيا جاتا تھا، جب كوئى مريض آتا تو ان بالوں پر پانى ڈال كر اسے حركت ديے كر مريض كو پانى ديتى تھيں.

ليكن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے علاوہ كسى اور كى تھوك، يا پسينہ، يا كپڑے، يا كسى اور چيز سے تبرك حاصل كرنا جائز نہيں، بلكہ يہ حرام اور شرك كى ايك قسم ہے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع الفتاوى ( 2 / 107 ).

دوم:

آپ كے دوست پر دو چيزوں پر عمل كرنا ضرورى اور واجب ہے:

پہلى:

وہ لوگوں كو اس ممنوع تبرك سے بچنے كا كہے، اگر وہ اس كى استطاعت اور بہتر طريقہ اختيار كر سكتا ہو، وگرنہ وہ اس سلسلے ميں اہل علم سے معاونت لے سكتا ہے تا كہ وہ لوگوں كو حق كى راہنمائى كريں، اور انہيں صحيح چيز بتائے اور غلط اور فاسد قسم كے اعتقادات سے بچائے جو انہيں شرك و بدعت كى طرف لے جانے كا باعث ہوں.

دوسرى:

وہ يا تو اس ٹونٹى كو ختم كر كے يا پھر اس كا پانى بند كر كے اس سے چھٹكارا حاصل كرے، اور اس سلسلے ميں اس كے ليے عمر رضى اللہ تعالى عنہ قدوہ اور نمونہ ہيں جب انہيں علم ہوا كہ حديبيہ كے مقام پر موجود درخت كے قريب لوگ نماز ادا كرنے لگے ہيں تو انہوں نے اس درخت كو ہى كٹوا ديا.

شاطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور ابن وضاح كہتے ہيں كہ ميں نے اہل طرطوس كے مفتى عيسى بن يونس سے سنا وہ بيان كہہ رہے تھے كہ:

" عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے اس درخت كو كاٹنے كا حكم جارى كيا جس كے نيچے بيٹھ كر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيعت رضوان كى تھى؛ كيونكہ لوگ وہاں جاكر اس درخت كے نيچے نماز ادا كرنے لگے تو انہيں فتنہ كا خدشہ لاحق ہوا " انتہى.

ماخوذ از: الاعتصام بالكتاب والسنۃ ( 1 / 448 ).

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ابن سعد كے ہاں صحيح سند كے ساتھ نافع رحمہ اللہ سے روايت ہے كہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كو علم ہوا كہ كچھ لوگ جا كر درخت كے نيچے نماز ادا كرتے ہيں تو انہوں نے انہيں وعيد پلائى اور پھر اس درخت كو كاٹنے كا حكم جارى كر ديا " انتہى.

فتح البارى ( 7 / 513 ).

سوم:

جو مال وہ يہاں سے حاصل كر چكا ہے اس ميں تو كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ وہ ايسا مال ہے جو لوگوں نے اپنى رضامندى سے خرچ كيا ہے، اور اس كا كوئى مالك نہيں تو اسطرح اس كے ليے وہ مال لينا جائز ہوا، ليكن اس كے ليے يہ مال حاصل كرنے كے ليے اس برائى كا انكار نہ كرنا اور اسے برقرار ركھنا جائز نہيں، بلكہ جيسا كہ بيان ہو چكا ہے اسے وہى كرنا لازم ہے كہ وہ لوگوں كے سامنے اس برائى كى وضاحت اور بيان كرے اور اسے ختم كر دے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں اولياء اور صالحين كے ليے نذر مانى گئى اشياء سے استفادہ كرنے كے متعلق درج ہے:

.... اور اگر اولياء اور صالحين كے ليے نذر مانى ہوئى اشياء ذبح كردہ جانور كے علاوہ كچھ اور ہوں مثلا روٹى، كھجور، چنے، حلوہ اور مٹھائى وغيرہ جسے كھانے كى حلت ذبح پر موقوف نہيں ہوتى، اس ليے لوگوں ميں اس كى تقسيم نہيں كرنى چاہيے كيونكہ ايسا كرنے ميں اس بدعت كى ترويج اور نشر واشاعت، اور اس شرك ميں مشاركت اور اس كے اقرار ميں شامل ہوتى ہے.

ليكن يہ اس كے حكم ميں آتى ہے جس سے مالك نے اعراض كر كے اسے چھوڑ ديا ہے كہ جو چاہے اسے لے جائے، تو اس ليے جو بھى اسے جائے اس پر كوئى حرج نہيں " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 23 / 227 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments