72860: طلاق كى نيت كے بغير وثيقہ طلاق بنوانا


ميرے والد نے ميرے والد ميرى والدہ ـ كى موجودگى اور علم ميں ـ وثيقہ طلاق بنوايا تا كہ فوج سے چھٹكارا حاصل ہو سكے، انہوں نے طلاق كے پيپر پر دستخط بھى كيے ليكن طلاق كے الفاظ خود نہيں لكھے، كيونكہ تحرير سے قبل دونوں نے نكاح رجسٹرار كو سمجھايا تھا كہ يہ طلاق كسى مصلحت كى خاطر صرف كاغذ پر ہى ہے اور شرعى طور پر طلاق نہيں.
1 ـ ميرے والد صاحب كے اس فعل كا حكم كيا ہے ؟
2 ـ كيا يہ طلاق شمار ہو گى يا نہيں، يہ علم ميں رہے كہ والد صاحب نے ميرى والدہ كو پہلے بھى دو طلاقيں دے ركھى تھيں، اور اب ـ سوال والى ـ تيسرى بار ہے، اور يہ واقعہ طہر ميں ہوا جس ميں والد نے جماع نہيں كيا تھا، بلكہ طلاق كا وثيقہ بنوانے كے كچھ عرصہ بعد جماع كيا تھا.
يہ بتائيں كہ والد صاحب پر كيا لازم آتا ہے تا كہ وہ حقوق سے برى الذمہ ہو سكيں ؟
اور اگر طلاق واقع نہيں ہوئى تو والدہ كے وراثت ميں حقوق كى ضمانت كيسے ہو گى، كيونكہ قانونى طور پر تو والدہ طلاق يافتہ ہيں، يہ علم ميں رہے كہ والدہ ہمارے ساتھ گھر ميں ہى رہتى ہيں، اور والد صاحب اسے خرچ اور دوسرے لوازمات ادا كرتے ہيں.
والد صاحب نے دوسرى شادى بھى كر ركھى ہے اور وہ اس دوسرى بيوى كے ساتھ دوسرے گھر ميں رہتے ہيں، اكثر ہمارى ديكھ بھال كے ليے ہمارے گھر آتے رہتے ہيں، وہ برى الذمہ ہونے كے ليے اس سلسلہ ميں شرعى حكم معلوم كرنا چاہتے ہيں، كيا اسى مجلس طلاق ميں بغير رجوع كے وثيقہ كے رجوع كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

جب كوئى شخص اپنے ہاتھ سے طلاق كے صريح الفاظ لكھے تو جمہور علماء كرام كے ہاں طلاق اسى صورت ميں ہو گى جب وہ طلاق كى نيت كريگا، كيونكہ كتابت ميں احتمال ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" طلاق كے الفاظ كے بغير صرف دو جگہوں پر طلاق واقع ہو گى ايك تو يہ كہ: جو شخص كلام كى استطاعت نہ ركھتا ہو، مثلا گونگا جب اشارہ سے طلاق دے دے تو اس كى بيوى كو طلاق ہو جائيگى، امام مالك، امام شافعى اور اصحاب الرائے كا يہى قول ہے، ان كے علاوہ ہم كسى كا اختلاف نہيں جانتے...

دوسرى جگہ: جب طلاق كے الفاظ لكھے اگر تو اس نے طلاق كى نيت كى تو اس كى بيوى كو طلاق ہو جائيگى، امام شعبى اور نخعى، زہرى، حكم، اور امام ابو حنيفہ، امام مالك كا يہى قول ہے، اور امام شافعى رحمہ اللہ سے بيان كردہ ہے...

ليكن اگر وہ طلاق كى نيت كيے بغير طلاق لكھتا تو بعض علماء كرام جن ميں شعبى، نخعى اور زہرى، حكم شامل ہيں كہتے ہيں كہ طلاق واقع ہو جائيگى.

اور دوسرا قول يہ ہے كہ نيت كے بغير طلاق واقع نہيں ہو گى، امام ابو حنيفہ، امام مالك كا يہى قول ہے، اور امام شافعى سے منصوص ہے؛ كيونكہ كتاب ميں احتمال پايا جاتا ہے، كيونكہ اس سے قلم كا تجربہ بھى ہو سكتا ہے، اور يہ خوشخطى كے ليے بھى ہو سكتا ہے، اور بغير نيت كے گھر والوں كے غم كے ليے بھى " انتہى

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 7 / 373 ).

اس ليے كہ آپ كے والد نے طلاق كے الفاظ نہيں بولے، اور نہ ہى لكھے ہيں، بلكہ كسى دوسرے نے طلاق كے الفاظ لكھے اور آپ كے والد نے طلاق كى نيت كے بغير اس پر دستخط كيے تو اس سے طلاق نہيں واقع ہوئى.

دوم:

آپ كے والد نے جو كام كيا ہے اس ميں بہت سارى خرابياں ظاہر ہيں جن ميں وراثت كا مسئلہ بھى شامل ہے، كيونكہ اگر وراثت حكومت كى جانب سے تقسيم كى جاتى ہے تو اس حالت ميں آپ كى والدہ اور والد ميں وراثت تقسيم نہيں ہو سكتى، ليكن اگر حكومت كے ذريعہ تقسيم نہيں ہوتى تو اس خرابى كو اس طرح دور كيا جا سكتا ہے كہ آپ كے والد صاحب دو عادل گواہ بنائيں كہ ان كى ازدواجى زندگى مستقل طور پر صحيح چل رہى ہے، اور لوگوں ميں اس كى شہرت بھى ہو كہ وہ دونوں مياں بيوى ہيں، چنانچہ اگر ان ميں سے كوئى ايك فوت ہو جائے تو دوسرا اس كا وارث ہوگا.

اور خرابيوں ميں يہ بھى شامل ہے كہ اگر آپ كے والد كو اللہ آپ كى والدہ سے كوئى بچہ دے تو اس كا اندارج كرانا مشكل ہو گا، اور اس كے ساتھ ساتھ اس نے جو كيا ہے اس ميں جھوٹ اور جعل سازى بھى پائى جاتى ہے.

سوم:

جس طلاق كے متعلق دريافت كيا گيا ہے وہ واقع نہيں ہوئى ـ جيسا كہ اوپر بيان ہوا ہے ـ اس ليے رجوع كى ضرورت ہى نہيں ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments