Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
7417

نفاس سے پاك ہونے كے بعد دوبارہ خون آنے كا حكم

اگر نفاس والى عورت چاليس يوم سے قبل پاك ہو جائے تو كيا وہ نماز روزہ كى ادائيگى كرے گى يا نہيں ؟
اور اگر اسے نفاس كے بعد حيض آ جائے تو كيا وہ روزہ نہ ركھے، اور اگر پھر دوبارہ پاك ہو جائے تو كيا نماز روزہ كى ادائيگى كرے گى يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اگر نفاس والى عورت چاليس يوم سے قبل پاك ہو جائے تو اس پر غسل كر كے نماز كى ادائيگى اور رمضان كے روزے ركھنا فرض ہيں، اور خاوند كے ليے بھى حلال ہوگى.

ليكن اگر چاليس كے اندر ہى دوبارہ خون آ جائے تو علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق وہ نفاس كے حكم ہو گى اور نماز روزہ كى ادائيگى ترك كر دے گى اور خاوند كے ليے بھى حرام ہوگى، حتى كہ پاك ہو جائے يا پھر چاليس يوم مكمل كر لے.

اس ليے جب وہ چاليس يوم سے قبل پاك ہو جائے، يا پھر چاليس يوم كے اندر تو غسل كر كے نماز روزہ كى ادائيگى كرےگى اور خاوند كے ليے حلال ہو گى.

اور اگر چاليس يوم كے بعد بھى خون جارى رہے تو يہ فاسد خون ہو گا اس كى بنا پر استحاضہ والى عورت كى طرح نماز روزہ ترك نہيں كرےگى، بلكہ وہ نماز اور روزہ كى ادائيگى كرے گى، اور خاوند كے ليے حلال ہے، بلكہ وہ ہر نماز كے ليے نماز كے وقت ميں استنجا كر كے خون كو روكنے كے ليے كپڑا وغيرہ باندھ كر وضوء كر كے نماز ادا كرے گى، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے استحاضہ والى عورت كو يہى حكم ديا ہے.

ليكن جب اسے ماہوارى آئے تو وہ نماز اور روزہ ترك كرے گى اور خاوند كے ليے بھى حرام ہو گى حتى كہ وہ اپنى عادت كے مطابق حيض سے پاك ہو جائے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments