Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
75027

طلاق كے بعد رجوع ميں بيوى كى رضامندى شرط نہيں

جب كوئى شخص عصبيت كى حالت ميں بيوى كو طلاق دے دے اور طلاق كے دو ہفتہ بعد بيوى سے رجوع كرنے جائے ليكن بيوى رجوع كو قبول نہ كرے كيونكہ خاوند بيويوں ميں عدل نہيں كرتا، اور اس نے بيوى كو ايك برس تك چھوڑے ركھا تو كيا وہ اس پر حرام ہے اور وہ مطلقہ شمار ہو گى يا نہيں ؟

جواب:

الحمد للہ:

اول:

شديد غصہ كى حالت ميں يعنى غصہ اتنا شديد ہو كہ وہ اپنے اوپر كنٹرول نہ كر سكے اور اسے پتہ ہى نہ چلے كہ وہ كيا كہہ رہا ہے تو يہ طلاق واقع نہيں ہوگى، ليكن اگر اس كا غصہ اس كى عقل پر اثرانداز نہ ہو بلكہ وہ ہوش و حواس ميں ہو اور جو كچھ كہہ رہا ہے اس كو جانتا ہو تو پھر يہ طلاق واقع ہو جائيگى.

غصہ كى حالت ميں دى گئى طلاق كى تفصيل سوال نمبر ( 45174 ) اور ( 22034 ) كے جوابات ميں بيان ہو چكى ہے آپ اس كا مطالعہ كريں.

دوم:

خاوند كو اپنى بيوى سے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے اور اس ميں بيوى كى رضامندى كا ہونا شامل نہيں اور نہ ہى رجوع كے ليے بيوى كى رضامندى شرط ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ عدت كے دوران رجوع كيا جائے، يعنى پہلى يا دوسرى طلاق كى عدت كے دوران؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور طلاق يافتہ عورتيں تين حيض تك انتظار كريں، اور ان كے ليے حلال نہيں كہ اللہ نے ان كے رحم ميں جو پيدا كيا ہے اسے چھپا كر ركھيں، اگر وہ اللہ تعالى اور آخرت كے دن پر ايمان ركھتى ہيں، اور ان كے خاوند انہيں واپس لانے كے زيادہ حقدار ہيں اگر وہ اصلاح كا ارادہ ركھتے ہوں، اور ان عورتوں كے بھى اسى طرح حقوق ہيں جس طرح ان پر ( خاوندوں كے ) ہيں، اور اللہ تعالى غالب و حكمت والا ہے }البقرۃ ( 228 ).

اس آيت ميں خاوند كے ليے ليے رجوع كى شروط كى تنبيہ كى گئى ہے وہ يہ ہيں:

1 ـ رجوع طلاق ميں ہو، اگر نكاح فسخ كيا جائے تو اس ميں رجوع نہيں ہو سكتا، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اور طلاق يافتہ عورتيں "

2 ـ يہ طلاق رجعى ہو يعنى پہلى يا دوسرى طلاق ہو، اللہ تعالى كا فرمان ہے:

طلاق دو بار ہے " يعنى جس طلاق ميں رجوع ہو سكتا ہے وہ دو بار ہے، اور اگر تيسرى طلاق ہو جائے تو پھر رجوع نہيں ہو سكتا، الا يہ كہ وہ عورت كہيں اور نكاح رغبت كرے نكاح حلال نہيں، اور وہ دوسرا خاوند دخول كے بعد اسے اپنى مرضى سے طلاق دے دے يا پھر فوت ہو جائے تو يہ عورت اپنے پہلے خاوند كے ليے حلال ہو جائيگى.

3 ـ يہ رجوع عدت ميں كيا جائے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

ان عورتوں كے خاوند انہيں اس ميں واپس لانے كے زيادہ حقدار ہيں .

يعنى اس عدت ميں، اور اگر عدت گزر جائے اور خاوند اپنى بيوى سے رجوع كرنا چاہے تو وہ رجوع نہيں كر سكتا بلكہ اسے اس كے ساتھ نيا نكاح نئے مہر كے ساتھ پورى شروط ميں كرنا ہوگا.

4 ـ بيوى سے رجوع كرنے ميں خاوند كا مقصد بيوى كو ضرر و تكليف اور اذيت دينا نہ ہو بلكہ يہ رجوع اصلاح كى نيت سے كيا جائے.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اگر وہ اصلاح كا ارادہ كريں }البقرۃ ( 228 ).

اگر وہ بيوى كو نقصان اور ضرر دينا چاہتا ہو تو بيوى كو چاہيے كہ وہ شرعى قاضى كے سامنے اسے ثابت كرے تا كہ وہ اس كے مطابق فيصلہ كر سكے.

يہ آيت اس كى واضح دليل ہے كہ اگر خاوند رجوع كرنا چاہتا ہے تو بيوى كو اس ميں كوئى اختيار حاصل نہيں، اور بيوى رجوع كو روك نہيں سكتى، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور ان كے خاوند انہيں واپس لانے كے زيادہ حقدار ہيں }.

چاہے بيوى اپنے خاوند كے گھر واپس نہيں بھى آتى اور خاوند بيوى سے رجوع كر كے اس پر دو گواہ بنا ليتا ہے تو رجوع ہو جائيگا.

سوم:

جمہور اہل علم كے ہاں جس عدت ميں خاوند رجوع كر سكتا ہے وہ تين حيض ہے، يعنى تيض حيض كے اندر اندر وہ بيوى سے رجوع كر سكتا ہے، يا پھر اگر عورت حاملہ ہو تو وضع حمل سے قبل رجوع كر سكتا ہے.

اس بنا پر سوال ميں جو بيان ہوا ہے كہ خاوند نے طلاق كے دو ہفتہ بعد ہى رجوع كرنا چاہا يہ عدت ميں رجوع كرنے كے موافق ہے، ليكن اگر بيوى حاملہ تھى اور رجوع كرنے سے قبل وضع حمل ہو گيا تو پھر نہيں.

چہارم:

خاوند كا اپنى بيوى سے دور رہنا اور اسے چھوڑے ركھنے سے ہى طلاق واقع نہيں ہو جاتى، سوال نمبر ( 11681 ) كے جواب ميں بيوى سے خاوند كا لمبے عرصہ تك غائب رہنا طلاق شمار نہيں ہوتا بلكہ قاضى يا خاوند كے طلاق دينے پر ہى طلاق ہو گى تفصيل كے ساتھ بيان ہو چكا ہے اس كا مطالعہ كريں.

پنجم:

ايك سے زائد بيوياں ركھنے والے شخص پر واجب ہے كہ وہ اپنى بيويوں كے بارہ ميں اللہ كا تقوى اختيار كرے، اور اللہ كى جانب سے واجب كردہ عدل و انصاف كرے، بيويوں كے مابين عدل و انصاف كے بارہ علم حاصل كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 10091 ) اور ( 13740 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

ششم:

مرد كا بغير كسى شرعى سبب كے اپنى بيوى سے بائيكاٹ كرنا اور اسے چھوڑنا حرام ہے، اگر يہ بائيكاٹ بيوى كى اصلاح كے ليے ہو تا كہ وہ ترك كردہ واجب پر عمل كرے، يا پھر كردہ گناہ سے باز آ جائے تو اس سے بائيكاٹ كرنا جائز ہے.

بلاشك و شبہ آدمى كا اپنى بيوى كو اس عرصہ ( ايك برس ) تك چھوڑے ركھنا مشكل كو زيادہ كرنے كى دليل ہے، اور وہ اس مشكل كو حل نہيں كر سكتے، اس حالت ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے ايك عورت كے خاندان سے اور ايك مرد كے خاندان سے منصف بھيجنے كا حكم ديا ہے، تا كہ وہ ان دونوں كے معاملہ كو ديكھ كر جس ميں مصلحت ديكھيں اس كے مطابق فيصلہ كريں اور خاوند اور بيوى سے ضرر و نقصان كو ختم كريں.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور اگر تم ان دونوں كے مابين جھگڑا ہونے كا خدشہ ركھو تو ايك شخص مرد كے خاندان سے اور ايك شخص عورت كے خاندان سے بطور منصف بھيجو اگر وہ اصلاح چاہيں گے تو اللہ ان دونوں ميں موافقت پيدا كر ديگا، يقينا اللہ تعالى عليم و خبير ہے }النساء ( 35 ).

خاوند كو علم ہونا چاہيے كہ اسے دو ميں ايك كا حكم ہے:

يا تو وہ اپنى بيوى كو اچھے طريقہ سے اپنى عفت و عصمت ميں ركھے، اور اس سے بہتر طريقہ سے معاشرت كرے، يا پھر وہ اسے اچھے طريقہ اور احسان كے ساتھ طلاق دے كر اس كے پورے حقوق دے كر اسے فارغ كرے، اور اس پر ظلم مت كرے، اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ يا تو اچھے طريقہ سے روك لينا ہے، يا پھر اچھے طريقہ سے چھوڑ دينا ہے }البقرۃ ( 229 ).

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 45600 ) اور ( 11971 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم

الاسلام سوال وجواب
Create Comments