Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
7535

كيلوفورنيا يونيورسٹى كے طلباء كے ليے ہم قبلہ رخ كى تحديد كيسے كريں ؟

ميں كيلوفورنيا يونيورسٹى كى متحدہ مسلمان طلباء كميٹى كا سربراہ ہوں، اللہ كے فضل سے ہم نماز ادا كرنے كے ليے جگہ كے حصول ميں كامياب ہو گئے ہيں، ليكن قبلہ كا رخ متعين كرنے ميں مشكل پيش آ رہى ہے، يہاں دو رائے ہيں ايك يہ كہ جنوب مشرقى سائڈ ( اس ميں موافق بھى ہوں ) اور دوسرى رائے شمال مشرقى سائڈ ہے، مشكل يہ ہے كہ ميں قبلہ رخ كى تحديد كرنا نہيں جانتا، اور نہ مجھے علم ہے كہ ميں كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

اول:

سب سے پہلے تو ہم آپ كو نماز كى ادائيگى كے ليے جگہ كے حصول پر مباركباد ديتے ہيں، اور دعاء كرتے ہيں كہ اللہ تعالى آپ سے يہ جگہ آباد كرے، اور اور آپ وہاں ركوع و سجود كرتے رہيں.

دوم:

قبلہ رخ ہونا نماز كا ركن ہے، اس كے بغير كوئى چارہ نہيں، جس شخص كو قبلہ كا رخ معلوم ہو، اور وہ قبلہ رخ ہونے پر قادر بھى ہو اور اپنا رخ اس جانب نہ كرے تو اس كى نماز باطل ہو گى، اور وہ گنہگار بھى ہو گا:

كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ آپ اپنا رخ مسجد حرام كى طرف پھير ليں، اور آپ لوگ جہاں بھى ہوں اپنا رخ اس كى طرف پھير ليں ﴾البقرۃ ( 144 - 150 ).

الا يہ كہ كوئى شخص معذور ہو، يہ تو فرضى نماز كے متعلق ہے، ليكن اگر وہ سوار ہے اور نفلى نماز ہو چاہے وہ سوارى سے اتر بھى سكتا ہو تو اس كے ليے جس طرف بھى رخ ہو نماز ادا كرنا مباح ہے، ليكن نفلى نماز ادا كرنے والے كے ليے سفر اور سوارى كے عذر كے علاوہ قبلہ رخ ہو كر نماز ادا نہ كرنا جائز نہيں.

سوم:

جو كعبہ كے قريب ہو اس كے ليے بعنيہ كعبہ كى طرف رخ كرنا ضرورى ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ آپ مسجد حرام كى طرف اپنا رخ پھير ليں ﴾البقرۃ ( 144 ).

اسى ليے كعبہ كے ارد گرد مسلمانوں كى صفيں دائرہ كى شكل ميں ہوتى ہيں، اور كعبہ سے جتنا بھى دور ہوں اسى حساب سے دائرہ بھى وسيع ہو جائيگا، اور جتنا كعبہ كے قريب ہونگے اتنا ہى دائرہ بھى تنگ ہوگا.

جو شخص مسجد حرام ميں ہو وہ بعنيہ كعبہ كى طرف رخ كرےگا، اور جو شخص مكہ مكرمہ ميں ہو وہ مسجد حرام كى طرف رخ كرے، اور جو شخص مكہ سے باہر ہو وہ مكہ كى طرف رخ كرےگا، صرف جہت كى طرف رخ كرنا ہى كافى ہوگا كيونكہ حديث ميں ہے:

" مشرق و مغرب كے مابين جو كچھ ہے وہ قبلہ ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 342 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1011 ).

اس حديث ميں مذكور مشرق و مغرب اہل مدينہ اور جہت كے اعتبار سے ان كے حكم ميں آنے والوں كے ساتھ خاص ہے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ حديث اہل مدينہ كے ليے ذكر كى ہے.

چہارم:

نقشہ كو ديكھنے كے بعد ـ اور آپ كو يہى كرنا چاہيے تھا ـ قبلہ كے رخ كا تعين كريں، وہ اس طرح كہ آپ نقشہ كو ديكھ كر كيلوفورنيا اور مكہ كے مابين نقشہ پر نشان لگائيں اور پھر اس لائن كى جہت ديكھتے ہوئے قبلہ كا رخ متعين كر ليں.

( شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے يہى فتوى ديا ہے، اور يہ كہ نمازى قبلہ كى تحديد كرتے وقت زمين كى سطح اور اس كى گول شكل كا خيال نہيں ركھےگا، بلكہ وہ مكہ كى جہت كو ايك سيدھى لائن اور خط كے ذريعہ متعين كرےگا ).

اور جب ہم نقشہ ديكھتے ہيں تو ہميں يہ معلوم ہوتا ہے كہ مشرق كى جانب قبلہ كا رخ جنوب كى طرف تھوڑا سے انحراف كے ساتھ ہے جس كا ذكر بھى نہيں كيا جا سكتا.

اور آپ كے ليے قبلہ كا رخ جنوب اور شمال كے مابين ہے، چنانچہ اگر آپ جنوب اور شمال كے مابين رخ كريں، اور مشرقى سائڈ اپنے سامنے ركھيں تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

اور پھر اس مسئلہ ميں جس ميں شارع نے يہ كہتے ہوئے آسانى پيدا كى ہے كہ " مشرق و مغرب كے مابين قبلہ ہے " مسلمانوں كے مابين مشكلات اور فتنہ پيدا كرنے كى كوئى ضرورت نہيں.

علماء كرام كا فيصلہ ہے كہ مكہ كى جہت سے تھوڑا سا انحراف كوئى نقصان دہ نہيں، چنانچہ آپ كے ليے جو ميسر ہے اس پر عمل كريں، اور قبلہ كا رخ متعين كرنے كے ليے جو وسائل ميسر ہيں ان كو حاصل كركے جہت متعين كرتے ہوئے اس پر بنا كريں.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

قبلہ كا رخ معلوم كرنے كے ليے فلكى آلات اور علوم استعمال كرنے كا حكم كيا ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" اہل علم اور جہت كا رخ معلوم كرنے والے تجربہ كار مسلمان كعبہ كا رخ رات كو قطب شمالى اور دوسرے ستاروں معلوم كيا كرتے تھے، اور چاند كے طلوع اور غروب ہونے سے بھى معلوم كيا جاتا تھا، اور دن كے وقت سورج كے طلوع اور غروب ہونے معلوم كرتے تھے، اور اس كے علاوہ دوسرى كونى دلالات سے بھى معلوم كرتے.

يہ سب كچھ جہت معلوم كرنے والے جاپانى اور يورپى آلات وجود ميں آنے سے پہلے تھا، چنانچہ قبلہ كا تعين كرنے كے ليے كوئى بھى آلہ متعين نہيں اور نہ قبلہ كا رخ معلوم كرنا انہى آلات پر موقوف ہو سكتا ہے، ليكن اگر ثقہ اور معتبر تجربہ كار مسلمان كے ہاں يہ ثابت ہو جائے كہ فلاں آلہ اور مشين قبلہ رخ صحيح متعين كرتى ہے يا جہت متعين كرتى ہے تو اس سے تعاون لينے ميں شرع منع نہيں كرتى.

بلكہ جب نمازى كو اس آلہ كے علاوہ قبلہ كا رخ بتانے كے ليے كوئى اور دليل نہ ملے تو پھر اس وقت اس پر عمل كرنا واجب ہو جاتا ہے. انتہى

اللہ تعالى ہميں اور آپ كو ہر قسم كى بھلائى نصيب فرمائے، اور ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments