Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
75525

داڑھى ركھنے كے متعلق شبہات

كئى ايك مسلمان علماء كرام كا فتوى ہے كہ مكمل داڑھى ركھنا ہر مسلمان پر واجب ہے، اور اس ميں حكمت يہ ہے كہ كفار سے مشابہت نہ ہو جيسا كہ كئى ايك احاديث ميں اس كے متعلق آيا ہے، ليكن سب لوگ ٹى وى سكرين پر مشاہدہ كرتے ہيں كہ اكثر يہودى داڑھى مكمل ركھتے ہيں تو كيا يہ حكمت ساقط ہو كر داڑھى ركھنا صرف سنت نہيں رہ جاتى ؟
اور اسى طرح داڑھى ركھنے ميں مطلقا كفار كى مخالفت كى حكم كا سبب فتوحات اسلاميہ كے دور ميں كفار اور مسلمانوں كا آپس ميں اختلاط تو نہيں، اس ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چاہا كہ ہمارى ان سے تميز ہو سكے، اور الحمد للہ اب ہمارى سرزمين عرب پر اسلام كى حكمرانى ہے تو يہ چيز ساقط نہيں ہو جاتى.... تو كيا اس وجہ سے يہ حكم سنت ميں تبديل نہيں ہو جاتا ؟

الحمد للہ:

اول:

داڑھى منڈوانے كى حرمت كے تفصيلى دلائل سوال نمبر ( 1189 ) كے جواب ميں بيان ہو چكے ہيں، آپ ان كا مطالعہ كريں.

دوم:

اور رہا يہ قول كہ: " پورى داڑھى ركھنے كى علت مشركوں كى مخالفت ہے، اور اب يہ علت ختم ہو چكى ہے " تو اس بنا پر اب مكمل داڑھى ركھنا واجب نہيں رہى، اس كا جواب درج ذيل ہے:

1 - يہ كہنا كہ: " اب علت ختم ہو چكى ہے " يہ واقع كے مخالف ہے كيونكہ كہا جائيگا: مشركين ميں اكثر كيا ہے: آيا داڑھى منڈوانے والے زيادہ ہيں يا كہ پورى داڑھى ركھنے والے ؟

تو بلا شك و شبہ ان كى اكثريت داڑھى منڈوانے والى ہے.

2 - اور يہ بھى ہے كہ: مشركوں كى مخالفت ہى اس كى واحد علت نہيں، حتى كہ علت زائل ہونے كى بنا پر اس كا حكم بھى زائل ہو جائے، بلكہ اس كے علاوہ اور بھى كئى ايك علتيں ہيں، جن ميں سے كچھ يہ ہيں:

داڑھى منڈانے ميں عورتوں سے مشابہت ہوتى ہے.

اور داڑھى منڈانا اللہ تعالى كى خلقت ميں تغير ہے.

اور مكمل داڑھى بڑھانا سنن فطرت ميں شامل ہوتا ہے.

اور داڑھى پورى ركھنا سب رسولوں كى سنت ہے.

تو اگر فرض كر ليا جائے كہ اس كى علت مشركين كى مخالفت ہے اور يہ علت زائل ہو چكى ہے، تو پھر بھى داڑھى ركھنے كا حكم باقى رہتا ہے كيونكہ دوسرى علتيں موجود ہيں.

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

بعض لوگ كہتے ہيں كہ داڑھى ركھنے كى علت مجوسيوں اور يہوديوں كى مخالفت ہے، جيسا كہ حديث ميں آيا ہے، اور اب يہ علت نہيں رہى، كيونكہ وہ بھى اب اپنى داڑھياں بڑھانے لگے ہيں، اس قول كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" اس كے متعلق ہمارا جواب كئى ايك وجوہات پر مشتمل ہے:

پہلى وجہ:

صرف مخالفت كى بنا پر ہى داڑھى بڑھانے كا حكم نہيں ديا گيا، بلكہ يہ فطرت ميں شامل ہوتا ہے، جيسا كہ يہ صحيح مسلم كى حديث سے ثابت ہے، تو پورى داڑھى ركھنى اس فطرت ميں شامل ہوتى ہے جس پر اللہ تعالى نے لوگوں كو پيدا كيا ہے، اور يہ مستحسن ہے، اس كے علاوہ باقى قبيح ہے.

دوسرى وجہ:

اس وقت سارے يہودى اور مجوسى اپنى داڑھياں نہيں ركھتے، اور نہ ہى ان ميں سے ايك چوتھائى حصہ داڑھى ركھنے والے ہيں، بلكہ ان كى اكثريت داڑھى منڈانے والى ہے، جيسا كہ فى الواقع اور مشاہدہ ميں بھى آيا ہے.

تيسرى وجہ:

جب كسى زائل شدہ معنى كى بنا پر كوئى شرعى حكم ثابت ہو، اور يہ حكم فطرت يا اسلامى شعار كے موافق ہو تو يہ حكم باقى رہےگا چاہے اس كا سبب زائل ہو چكا ہو.

كيا آپ ديكھتے نہيں كہ طواف ميں رمل ( پہلوانوں كى طرح چلنا ) كا سبب يہ تھا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ مشركين كے آگے اپنى قوت اور طاقت ظاہر كرنا چاہتے تھے، كيونكہ مشرك يہ كہنے لگے تھے كہ تمہارے پاس ايسى قوم آ رہى ہے جسے يثرب ( مدينہ ) كے بخار نے كمزور كر كے ركھ ديا ہے، ليكن اس علت كے زائل ہو جانے كے باوجود اس كا حكم باقى ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حجۃ الوداع كے موقع پر رمل كيا تھا.

تو حاصل اور نتيجہ يہ ہوا كہ:

مومن شخص پر واجب اور ضرورى ہے كہ جب اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كسى معاملہ كا فيصلہ كر ديں تو اسے اپنى زبان سے سمعنا اور اطعنا كہ ہم نے سنا اور اس كى اطاعت كرتے ہوئے اسے تسليم كر ليا ہى كہنا چاہيے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ نہيں سوائے اس بات كہ مومنوں كو جب اللہ تعالى اور اس كے رسول كى طرف بلايا جائے كہ وہ ان ميں فيصلہ كريں تو انہيں يہى كہنا چاہيے كہ ہم نے سن ليا اور اطاعت كى، اور يہى لوگ كامياب ہيں ﴾النور ( 51 ).

اور وہ ان لوگوں كى طرح نہ ہو جائيں جنہوں نے سمعنا و عصينا يعنى ہم نے سن تو ليا ليكن ہم اطاعت نہيں كرينگے كہا، يا پھر وہ واہى قسم كى علتيں اور عذر تلاش كرتے پھريں جن كى كوئى اصل اور دليل نہيں، يہ تو اس شخص كى حالت ہے جس نے دل سے اسلام كو قبول نہيں كيا، اور نہ ہى اس نے اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے حكم سے سامنے اپنا سرخم تسليم كيا.

اللہ جلا و علا كا فرمان ہے:

﴿ اور جب اللہ تعالى اور اس كا رسول كسى امر كا فيصلہ كر ديں تو كسى مومن مرد اور مومن عورت كے ليے اپنے معاملہ ميں ان كو كوئى اختيار باقى نہيں رہتا، اور جو كوئى بھى اللہ تعالى اور اس كے رسول كى نافرمانى كريگا تو وہ واضح اور كھلى گمراہى ميں جا پڑا ﴾الاحزاب ( 36 ).

اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اورتيرے رب كى قسم وہ اس وقت تك مومن ہى نہيں ہو سكتے جب تك وہ اپنے اختلافات اور جھگڑوں ميں آپ كا حكم تسليم نہ كر ليں اور پھر وہ آپ كے فيصلہ كے متعلق اپنے دلوں ميں كوئى حرج محسوس نہ كريں، اور اسے دل سے تسلم كر ليں ﴾النساء ( 65 ).

اور ميں يہ نہيں جانتا كہ كيا اس طرح كى كلام كرنے والا شخص روز قيامت اپنے رب كا سامنا كر سكےگا، تو ہم پر ضرورى ہے كہ ہم اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى ہر حالت ميں اطاعت و فرمانبردارى كريں، اور ان كے حكم پر عمل كريں " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 11 / 129 - 130 ).

اور شيخ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

" پورى داڑھى ركھنا سب رسولوں كى سنت ہے، اللہ سبحانہ و تعالى نے ہارون عليہ السلام كے متعلق فرمايا ہے كہ انہوں نے اپنے بھائى موسى عليہ السلام كو كہا تھا:

﴿ اے ميرے ماں جائے بھائى ميرى داڑھى نہ پكڑو، اور نہ ہى ميرا سر مجھے خدشہ تھا كہ تم يہ كہو گے كہ تو نے ميرے اور بنى اسرائيل كے مابين تفريق ڈال دى، اور ميرى بات كا انتظار بھى نہ كيا ﴾طہ ( 94 ).

اور ان ميں سب سے افضل اور خاتم الرسل محمد صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى اپنى داڑھى پورى ركھى ہوئى تھى، اور اسى طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے خلفاء راشدين اور آپ كے صحابہ رضى اللہ تعالى عنہم، اور آئمۃ اسلام، اور عام مسلمانوں كے سلف اور خلف علماء رحمہم اللہ نے بھى داڑھى پورى ركھى.

تو يہ انبياء و رسل اور ان كے متبعين كا طريقہ ہے، اور يہ وہ فطرتى چيز ہے جس پر اللہ تعالى نے لوگوں كو پيدا فرمايا ہے، جيسا كہ اس كا ثبوت صحيح مسلم كى حديث ميں ملتا ہے، اور اسى ليے داڑھى منڈانے كى حرمت كا قول ہى راجح ہے، جيسا كہ شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے اختيار كيا ہے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے داڑھى پورى ركھنے، اور بڑھانے كا حكم ديا ہے.

اور رہا يہ مسئلہ كہ داڑھى ركھنے ميں حكمت يہوديوں كى مخالفت ہے، اور اب يہ حكمت ختم ہو چكى ہے، تو يہ غيرمسلمہ بات ہے؛ كيونكہ اس ميں علت صرف يہوديوں كى مخالفت ہى نہيں.

بلكہ صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں فرمان نبوى ہے:

" مشركوں كى مخالفت كرو "

اور صحيح مسلم ميں بھى فرمان نبوى ہے:

" مجوسيوں كى مخالفت كرو "

پھر صرف ان كى مخالفت كرنا ہى اكيلى علت نہيں؛ بلكہ اس ميں كئى ايك اور بھى علتيں ہيں، مثلا: رسولوں اور انبياء كے داڑھى ركھنے عمل كى موافقت كرنا.

اور فطرت كے تقاضا كا التزام كرنا.

اور اللہ تعالى كے حكم كے بغير خلقت ميں تغير و تبدل كرنا.

تو مشركين اور يہود و مجوس كى مخالفت كے ساتھ ساتھ يہ سارى علتيں داڑھى پورى ركھنے اور بڑھانے كے وجوب كا تقاضا كرتى ہيں.

پھر اس علت كے زائل ہونے كا دعوى بھى غير مسلم ہے اسے تسليم نہيں كيا جا سكتا، كيونكہ اللہ تعالى كے دشمن يہوديوں وغيرہ كى اكثريت اپنى داڑھياں منڈواتى ہے، جيسا كہ مختلف قوموں اور امتوں كے حالات اور ا ان كے اعمال سے باخبر لوگوں كو اس كا علم ہے.

پھر اگر فرض بھى كر ليا جائے كہ آج ان لوگوں كى اكثريت اپنى داڑھياں بڑھانے لگى ہے، تو داڑھى ركھنے كى مشروعيت كو زائل نہيں كر سكتى؛ كيونكہ جو چيز اہل اسلام كے ليے شريعت اسلاميہ نے مشروع كى ہے اس ميں اعداء اسلام كى مشابہت سے شريعت اسے سلب نہيں كرتى، بلكہ اس كام كا زيادہ التزام كرنا ضرورى ہے، كيونكہ اس ميں غير مسلموں نے ہمارے ساتھ مشابہت كى ہے، اور وہ ہمارے تابع بن گئے ہيں، اور انہوں نے اس كام كے اچھا ہونے كى تائيد كى ہے، اور وہ فطرتى تقاضے كى طرف واپس پلٹ آئے ہيں " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 16 / 46 - 47 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments