7638: سود پر استعمال شدہ گاڑيوں كى خريدارى ميں معاونت كرنا


ميں مسلمان شخص ہوں اور امريكہ ميں استعمال شدہ گاڑيوں كا كاروبار كرتا ہوں، ميرى گزارش ہے كہ مجھے بتايا جائے كہ ميرا كام حلال ہے يا حرام؟
ميں ان اشخاص كو گاڑياں فروخت كرتا ہوں جو نقد پورى قيمت ادا نہيں كرسكتے، اس ليے ميں كم قيمت پر اور ہفتہ وار قسط اور بغير كسى فائدہ كے انہيں گاڑياں فروخت كرتا ہوں، ليكن اس ميں عيب يہ ہے كہ بعض لوگ كچھ قسطيں ادا كرتے ہيں اور پھر ادائيگى منقطع كر ديتے ہيں، يا پھر گاڑى حادثہ كا شكار ہو جاتى ہے تو ادائيگى رك جاتى ہے، اور ايك دوسرا عيب يہ ہے كہ ميں اپنے حقوق كے حصول كے ليے ايك لمبى مدت تك انتظار كرتا ہوں، يہاں امريكہ ميں اكثر لوگ مالى كمپنيوں كے ساتھ لين دين كرتے ہيں تا كہ وہ انہيں گاڑيوں كى خريدارى كے ليے قرضہ فراہم كريں، اس كا طريقہ كار مندرجہ ذيل ہے:
1 - گاہك اپنى پسند كى گاڑى خريدتا ہے.
2 - ميں مالى كمپنى كى نيابت كرتے ہوئے فارم بھرنے ميں اس كى مدد كرتا ہوں.
3 - كمپنى اور گاہك كى جانب سے وكيل بن كر فارم مالى كمپنى كو ارسال كرتا ہوں.
4 - جب كمپنى درخواست كو قبول كر ليتى ہے تو 75 - 90 % ميرے حقوق مجھے ارسال كرتى ہے، اور قرض جارى كرنے كى نظير ميں گاہك سے قسطوں كى شكل ميں وصول كرتى ہے.
سوال يہ ہے كہ: كيا مالى كمپنى كے لين دين كرنے ميں لوگوں كا تعاون اور مدد كرنا حلال ہے يا حرام؟ اور كيا اللہ تعالى كے ہاں ميں گنہگار ہوں، كہ ميں نے گاڑى خريدنے كے ليے سودى قرض كے حصول ميں ان كى مدد كى ہے، باوجود اس كے ميں كمپنى يا گاہك سے گاڑى كى قيمت ميں سے 75 - 90 % فيصد كے حصول كے علاوہ كچھ بھى حاصل نہيں كرتا ؟
ميں اللہ تعالى كى رضا كے ليے اس معاملہ كا شرعى حكم معلوم كرنا چاہتا ہوں.

الحمد للہ :

شرعى طور پر يہ طريقہ حرام ہے كيونكہ يہ تو خالص سود ہے. فرمان بارى تعالى ہے:

{اور اللہ تعالى نے خريد وفروخت حلال كى ہے، اور سود كو حرام كيا ہے} البقرۃ ( 275 ).

يہ طريقہ كئى ايك اسباب كى بنا پر حرام ہے:

اول:

جيسا كہ سوال ميں ہے كہ مالى كمپنى ايك سودى كمپنى ہے جو سودى لين دين كرتى ہے.

دوم:

آپ نے جو طريقہ ذكر كيا ہے - كہ مالى كمپنى فروخت كنندہ كو قيمت ادا كرتى ہے، اور اس كى بنا پر گاہك سے قسطوں كى شكل ميں زيادہ رقم وصول كرتى ہے - وہ فائدہ كے ساتھ قرض كے علاوہ كچھ نہيں، گويا كہ مالى كمپنى گاہك كو كچھ رقم قرض ديتى ہے ( مثلا 10000 دس ہزار ڈالر ) اور اس پر زيادہ كى شرط لگاتى ہے ( 10 % مثلا دس فيصد ) تو گاہك مالى كمپنى كو قسطوں زيادہ ادا كرتا ہے ( تو اس طرح دس ہزار گيارہ ہزار ڈال بن جائے گا ) اور يہ واضح طور پر ربا الفضل يعنى زيادہ سود ہے، جو كہ جائز نہيں اور بعينہ سود ہے، اور يہى جاہليت كا سود ہے جس سے اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں منع فرمايا ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اے ايمان والو! اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو اور جو سود باقى بچا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو، اور اگر تم ايسا نہيں كرو گے تو پھر اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے جنگ كرنے كے ليے تيار ہو جاؤ، اور اگر تم توبہ كر لو تو تمہارے ليے تمہارے اصل مال ہيں، نہ تو تم خود ظلم كرو اور نہ ہى تم پر ظلم كيا جائے گا} البقرۃ ( 278 - 279 ).

اور ايك دوسرے مقام پر اس طرح فرمايا:

{اور تم اس دن سے ڈر جاؤ جس ميں تم اللہ تعالى كى طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان كو اس كا پورا پورا بدلہ ديا جائے گا جو اس نے عمل كيا اور ان پر كوئى ظلم نہيں كيا جائے گا} البقرۃ ( 281 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" خبردار جاہليت كے سود ميں سے ہر قسم كا سود ختم كر ديا گيا ہے، تمہارے ليے تمہارے اصل مال ہيں، نہ تو تم خود ظلم كرو اور نہ ہى تم پر ظلم كيا جائے گا "

ابو داود حديث نمبر ( 2896 ) سنن ابن ماجۃ حديث نمبر ( 3064 ).

امام قرطبى رحمہ اللہ تعالى اپنى تفسير ميں كہتےہيں:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے نقل كرتے ہوئے مسلمانوں كا اس پر اجماع ہے كہ ادھار ( قرض ) ميں زيادہ سود ہے، اگرچہ يہ چارہ كى ايك مٹھى پر ہى كيوں نہ ہو، جيسا كہ ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كا كہنا ہے: يا ايك دانے پر ہى ہو.

اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

علماء كرام اس پر متفق ہيں كہ قرض دينے والے نے جب بھى قرض پر زيادہ كى شرط لگائى تو وہ حرام ہو گا.

سوم:

اور يہ بھى ہے كہ: مالى كمپنى اپنے گاہكوں پر ادائيگى كى تاخير ميں بھى ايك اور زيادہ كى شرط لگاتى ہے، اور يہ بھى سود ميں شامل ہے.

اسلامى فقہ اكيڈمى كى مجلس كے دوسرے اجلاس كے فيصلوں ميں مندرجہ ذيل فيصلہ ہے:

قرض كى ادائيگى كا وقت آنے پر اگر مقروض ادائيگى سے عاجز ہو تو اس صورت ميں تاخير كے بدلے ميں مقروض پر ہر قسم كا زيادہ يا فائدہ عائد كرنا، اور اسى طرح معاہدے كى ابتداء ميں ہى قرض پر زيادہ يا فائدہ عائد كرنا يہ دونوں صورتيں سود ہيں اور شرعا حرام ہيں.

چہارم:

فائدہ كے ساتھ قرض كا حكم اور اس سے اللہ تعالى اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى شديد قسم كى نہى معلوم ہو جانے كے بعد ہمارے ليے يہ جاننا باقى ہے كہ: سود پر تعاون كرنا - اگر چہ معاون مستفيد نہ بھى ہو - اور كسى بھى صورت ميں لوگوں كے ليے سودى لين دين ميں آسانى پيدا كرنا شرعى طور پر حرام ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{اور تم نيكى اور بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہا كرو، اور برائى و گناہ اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو اور اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو، بلا شبہ اللہ تعالى بہت سخت سزا والا ہے} المائدۃ ( 2 )

على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دس قسم كے لوگوں پر لعنت فرمائى، سود كھانےوالے، اور سود كھلانے والے، اور اسے لكھنے والے، اور اس كے دونوں گواہوں پر، اور حلالہ كرنے اور حلالہ كروانے والے پر، اور صدقہ روكنے والے پر، اور گودنے اور گدوانے والى پر "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 50 ) جامع ترمذى حديث نمبر ( 1038 ) ان كے علاوہ بھى كئى ايك نے روايت كيا ہے.

اور اسلامى فقہ اكيڈمى نے اپنے نويں ( 9 ) اجلاس ميں مندرجہ ذيل قرار پاس كى:

سب مسلمانوں پر سود لينے اور دينے اور سودى كاروبار اور اس ميں كسى بھى صورت كے اندر تعاون و مدد كرنے سے ركنا اور منع ہونا ضرورى اور واجب ہے جس سے اللہ تعالى نے منع فرمايا ہے، تا كہ ان پر اللہ تعالى كا عذاب نازل نہ ہو اور وہ اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے جنگ نہ كريں.

اور يہ قرار بالاجماع پاس كى گئى.

لہذا اس بنا پر آپ كے ليے نہ تو ابتدا سے ہى شركت كرنى جائز ہے اور نہ ہى مالى كمپنى اور گاہك كے مابين اس سودى لين دين كو مكمل كرنے ميں، بلكہ آپ كو چاہيے كہ كوئى اور مباح اور حلال طريقہ تلاش كريں جو آپ كے حق كا ضامن ہو، اور جو كوئى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتا ہے اللہ تعالى اس كے ليے نكلنے كى راہ بنا ديتا ہے، اور اسے روزى بھى وہاں سے عطا كرتا ہے جہاں سے اسے وہم و گمان بھى نہيں ہوتا, اور جو كوئى اللہ تعالى كے ليے كسى چيز كو ترك كرتا ہے، اللہ تعالى اس كے بدلے ميں اس بھى بہتر عطا فرماتا ہے.

اللہ تعالى ہميں اور آپ كو ہر قسم كى بھلائى اور خير كى توفيق سے نوازے.

واللہ اعلم .

شيخ محمد صالح المنجد
Create Comments