Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
7750

جھگڑے کے وقت مصالحت کرنے کے لیے خاوند زد کوب کرتا ہے

بیوی اپنے خاوند کوبہت چاہتی ہے ، لیکن بعض اوقات وہ یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کا خاوند کبھی بھی اس کا اہتمام نہیں کرتا ، اورجب ان کا آپس میں کوئي اختلاف ہوتا ہے تووہ محرومی محسوس کرتی ہوئی یہ تمنا کرتی ہے کہ کاش اس کا خاوند کچھ تھوڑی بہت محبت کا اظہار کردے تواختلافات ختم ہوجائيں لیکن وہ اس پر چیختا چلاتا ہے گویا کہ وہ اسے کچھ سمجھتا ہی نہیں جس کی وجہ سے وہ خاوند سے کراہت کرنے لگتی ہے ۔
اوربعض اوقات تووہ اسے زدکوب بھی کرنے لگتا ہے ، باوجود اس کے بیوی توحقیقت میں یہ چاہتی ہے کہ وہ اسے اپنی بانہوں میں لے کر ہر چيز کوبھول جائے ، لیکن افسوس کہ
خاوند اسے سمجھتا ہی نہیں بلکہ الٹا زدکوب کرنا شروع ہوجاتا ہے ۔
اورجب بیوی خاوند کے سامنے عورتوں سے حسن معاشرت والی حدیث کا ذکر کرتی ہے تو خاوند جواب میں یہ کہتا ہے " آنکھ کے بدلے آنکھ " گویا کہ وہ کوئي عام شخص ہے نہ کہ اس کی بیوی جس کے بارہ میں اس پر واجب ہے کہ وہ صبر کرے اوراس کا خیال کرے اوراس سے محبت بھی کرے ، میری گزارش ہے کہ آپ اس موضوع پر کچھ روشنی ڈالیں ۔۔۔

الحمدللہ

خاوند کواپنی بیوی کوزدکوب کرنا ایک غیر شرعی عمل اورفعل ہے ، اوراس کے واجبات کی ادائيگي میں خلل ہے ۔

آپ اس کی طرف سے کسی پیش کش کا انتظار کیوں کرتی ہیں ، بلکہ آپ پر واجب ہے کہ آپ اختلافات میں کمی کی کوشش کریں ، وہ اس طرح کہ :

کہ آپ اس سے حسن معاشرت کا مطالبہ کرنے کی بجائے اولی اوربہتر تویہ ہے کہ آپ اس سے معذرت کرلیا کریں اورماحول کوخوشگوار بنا دیا کریں ، ازدواجی زندگی کے استقرار کے لیے توخاوند اوربیوی دونوں کی مسؤلیت ہے نہ کہ دونوں میں ایک تواسے نبھائے اوردوسرا اس کا خیال ہی نہ کرے ۔ .

الشیخ محمد الدویش
Create Comments