7810: اسلام سے تين بار مرتد ہو چكا ہے


ميں نے تين بار اسلام چھوڑا اور تين بار واپس پلٹا ہوں، ميں محسوس كرتا ہوں كہ يہ سب كچھ ميرے اعتقادات كى بنا پر ہوا ہے، لہذا ميں اپنے دل ميں ايمان اور تقوى كيسے پختہ كر سكتا ہوں ؟

الحمد للہ :

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ يقينا اللہ تعالى كے ہاں دين دين اسلام ہے ﴾.

اور ايك مقام پر رب ذوالجلال كا ارشاد ہے:

﴿ اور جو كوئى بھى دين اسلام كے علاوہ كوئى اور دين تلاش كرے گا، تو اس كا وہ دين قبول نہيں كيا جائےگا، اور وہ آخرت ميں خسارہ پانے والوں ميں سے ہو گا ﴾.

اور حقيقتا اسلام تو يہ ہے كہ اللہ وحدہ لا شريك كى عبادت كرتے ہوئے اس كے سامنے سر خم تسليم كرے، اور اسى كى اطاعت و فرمانبردارى كرے اور اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى بات تسليم كرے، اور دين اسلام كى اصل اور جڑ كلمہ طيبہ: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے، يعنى اس بات كى گواہى دينا كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى عبادت كے لائق نہيں اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں.

لہذا ہر مسلمان شخص پر واجب ہے كہ وہ اسلام كو دين بنائے اور اس كے ماتحت رہتے ہوئے خالصتا اللہ تعالى كى عبادت كرے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى كرے، جو شخص بھى اس پر موت تك قائم رہا اور اسى حالت ميں اس كى موت آئى تو وہ جنيتوں ميں سے ہے، اور جو شخص اسلام ميں داخل نہ ہوا اور اسى حالت ميں اسے موت آئى تو وہ جہنمى ہے، اور جو شخص اسلام ميں داخل ہوا اور پھر دين اسلام كو چھوڑ ديا تو وہ مرتد اور كافر ہے، اگر وہ اپنے كفر پر ہى مرگيا تو وہ جہنمى ہے، اور اگر وہ توبہ كر كے اسلام كى طرف واپس پلٹ آئے اور موت تك اس پر قائم رہے تو اس كا مرتد ہونا اسے كوئى نقصان نہيں دے گا، اور وہ جنتيوں ميں سے ہے، چاہے وہ كئى بار مرتد ہوا ہو، ليكن اس كے بارہ ميں خدشہ ہے كہ بار بار مرتد ہونے سے ہو سكتا ہے اسے توبہ كا موقع نہ ملے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ جن لوگوں نے ايمان لانے كے بعد كفر كيا، پھر ايمان لا كر پھر كفركيا، پھر اپنے كفر ميں بڑھ گئے يقينا اللہ تعالى انہيں نہيں بخشے گا اور نہ ہى انہيں راہ ہدايت دے گا ﴾النساء ( 137 ).

اس ليے سوال كرنے والے بھائى آپ پكى اور خالص توبہ كرنے ميں جلدى كريں، اور اسلام پر قائم رہيں، اور اسلام كے فرائض جو اللہ تعالى نے اپنے بندوں پر فرض كيے ہيں ان كى حفاظت كريں، ان ميں سب سے اہم اور بڑا فرض نمازوں كى ادائيگى ہے، اور آپ معاصى و گناہ سے اجتناب كريں، اور اپنے رب سے دين اسلام پر ثابت قدمى كا سوال كرتے رہيں، اور جب آپ كو كوئى فتور لاحق ہو تو اللہ تعالى سے مدد طلب كريں، اور شيطان لعين سے اللہ كى پناہ طلب كريں، اور جب دل ميں وسوسے پيدا ہوں جو اسلام كے بارہ ميں شكوك و شبہات پيدا كرنے كا باعث بنيں يا اس كے كچھ احكام ميں شك پيدا كريں تو ان وسوسوں سے اعراض كرتے ہوئے شيطان لعين سے اللہ تعالى كى پناہ طلب كريں اور يہ دعا پڑھيں:

آمنت باللہ و رسولہ: ميں اللہ تعالى اور اس كے رسول پر ايمان لايا.

اور آپ تلاوت قرآن كا خيال ركھيں، اور زيادہ سے زيادہ قرآن مجيد كى تلاوت كريں، اور اسى طرح ان كتب كا مطالعہ كريں جو آپ كے دل ميں اسلام سے محبت پيدا كريں، اور اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى كى ترغيب دلائيں، مثلا: امام نووى رحمہ اللہ تعالى كى كتاب: ( رياض الصالحين ) اور علامہ عبد الرحمن سعدى رحمہ اللہ تعالى كى تفسير ( تيسير كلام الرحمن فى تفسير كلام المنان ).

اور آپ ايسى كتابوں سے اجتناب اور احتراز كريں جو آپ كے ذہن ميں دين اسلام كے بارہ ميں شكوك و شبہات پيدا كريں، اور معاصى كو مزين كر كے پيش كرنے والى كتب سے بھى اجتناب كريں، اور اسى طرح آپ برے دوستوں سے بچيں كيونكہ وہ انسانوں ميں سے شيطان ہيں.

اور آپ اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى كركے اپنے نفس كے ساتھ جھاد كريں، كيونكہ اللہ تعالى جھاد كرنے والوں كو سيدھى راہ دكھاتا ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور وہ لوگ جنہوں نے ہمارے ليے جھاد كيا ہم انہيں سيدھى راہ دكھاتے ہيں، اور يقينا اللہ تعالى احسان كرنے والوں كے ساتھ ہے ﴾.

فضيلۃ الشيخ عبد الرحمن البراك
Create Comments