Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
7835

حكومتى قرض لينے سے تنازل كرنے كى بنا پر خريدار كے ليے زمين كى قيمت زيادہ كرنا

كيا ترقياتى بنك سے حصول قرض كا حق ترك كرنے كے بدلے ميں خريدار كى مصلحت كے ليے زمين كى قيمت زيادہ كرنى جائز ہے؟ ( ترقياتى بنك ذاتى رہائش بنانے كے ليے حكومت كى جانب سے غير سودى قرض مہيا كرتا ہے ).
مسئلہ كى وضاحت كچھ اس طرح ہے كہ:
( اگر ترقياتى بنك ميں رجسٹر كروائے بغير زمين كى قيمت پانچ لاكھ ہے تو مالك جا كر ترقياتى بنك ميں قرضے كى درخواست جمع كرائے اور اپنا نمبر حاصل كرلے اور مثلا حصول قرض ميں اس كى بارى تين برس بعد ہو تو زمين كا مالك خريدار سے كہے كہ مجھے چھ لاكھ ادا كردو اور بنك سے قرض لينے كى بارى ميں تم لے لو ميں اپنى بارى چھوڑتا ہوں ) ؟

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

يہ ( يعنى زمين كى قيمت ميں زيادتى ) اس كے تنازل كے عوض ميں ہے.

سوال:؟

كيا يہ عوض كسى مجھول چيز سے تنازل ميں تو نہيں؟

جواب:

نہيں، يہ ايسى چيز كے عوض ميں جو اس كا حق ہے ( اور يہ كہ قرض ) ملے گا يا نہيں يہ سب خطرہ ميں ہے، وہ اور جس كے ليے تنازل كيا جارہا ہے يعنى اسے چھوڑا جا رہا ہے.

سوال: ؟

تو اس كا جواب كيا ہے؟

جواب:

مجھے تو جواب يہى ظاہر ہوتا ہے كہ:

اس ميں كوئي حرج نہيں، كہ جب حكومت ( ترقياتى بنك ) اس كى اجازت ديتى ہو. اھـ .

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments