7835: حكومتى قرض لينے سے تنازل كرنے كى بنا پر خريدار كے ليے زمين كى قيمت زيادہ كرنا


كيا ترقياتى بنك سے حصول قرض كا حق ترك كرنے كے بدلے ميں خريدار كى مصلحت كے ليے زمين كى قيمت زيادہ كرنى جائز ہے؟ ( ترقياتى بنك ذاتى رہائش بنانے كے ليے حكومت كى جانب سے غير سودى قرض مہيا كرتا ہے ).
مسئلہ كى وضاحت كچھ اس طرح ہے كہ:
( اگر ترقياتى بنك ميں رجسٹر كروائے بغير زمين كى قيمت پانچ لاكھ ہے تو مالك جا كر ترقياتى بنك ميں قرضے كى درخواست جمع كرائے اور اپنا نمبر حاصل كرلے اور مثلا حصول قرض ميں اس كى بارى تين برس بعد ہو تو زمين كا مالك خريدار سے كہے كہ مجھے چھ لاكھ ادا كردو اور بنك سے قرض لينے كى بارى ميں تم لے لو ميں اپنى بارى چھوڑتا ہوں ) ؟

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

يہ ( يعنى زمين كى قيمت ميں زيادتى ) اس كے تنازل كے عوض ميں ہے.

سوال:؟

كيا يہ عوض كسى مجھول چيز سے تنازل ميں تو نہيں؟

جواب:

نہيں، يہ ايسى چيز كے عوض ميں جو اس كا حق ہے ( اور يہ كہ قرض ) ملے گا يا نہيں يہ سب خطرہ ميں ہے، وہ اور جس كے ليے تنازل كيا جارہا ہے يعنى اسے چھوڑا جا رہا ہے.

سوال: ؟

تو اس كا جواب كيا ہے؟

جواب:

مجھے تو جواب يہى ظاہر ہوتا ہے كہ:

اس ميں كوئي حرج نہيں، كہ جب حكومت ( ترقياتى بنك ) اس كى اجازت ديتى ہو. اھـ .

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments