Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
7855

ایک شخص کو کفار کے ساتھ مختلف جگہوں پر جانے کیلئے دعوت دی جاتی ہے

میں غیر مسلم معاشرے میں رہتا ہوں، اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری عمری کے جتنے بھی مسلمان ہیں وہ اسلامی تعلیمات پر پورے طریقے سے عمل نہیں کرتے، اور بسا اوقات مجھے مختلف جگہوں پر جانے کی دعوت دی جاتی ہے، اور کبھی غیر مسلموں کے ساتھ کچھ کرنے کا بھی کہا جاتا ہے، اور مجھے پتہ نہیں ہوتا کہ یہ عمل میرے لئے درست ہے یا نہیں؟

الحمد للہ:

غیر مسلموں کے ساتھ جانااور انکے ساتھ ایسے کام کرنا جن کےحکم کا آپکو نہیں پتہ ،اس بارے میں ہم یہ کہیں گے کہ:

آپ کفار کے ساتھ انکے خاص کام نہیں کرسکتے، اور نہ ہی ان کی خاص محفلوں میں شریک ہوسکتے ہیں، مثلاً، انکے تہواروں میں شریک ہونا، اور انکے ساتھ روزے رکھنا وغیرہ، اس لئے کہ کبھی آپ کا ان کاموں کا ارتکاب کر نا کفر کا موجِب بھی ہوسکتا ہے، اور کبھی کبیرہ گناہ کا ، ابن تیمیہ نے " اقتضاء الصراط المستقيم " میں اور ابن قیم نے " أحكام أهل الذمة "اور دیگر اہل علم نے یہی فیصلہ دیا ہے۔

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"جو بھی یہ کام کرے یا انکی محفلوں میں شرکت کرے تو وہ شخص گناہ گارہے، چاہے منہ رکھنے کیلئے ، یا انکے کام کو پسند کرتے ہوئےیا پھر کسی سے شرم کھاتے ہوئے شرکت کرے، یا کسی اور سبب کی بنا پر شریک ہو، اس لئے کہ جو انکی محفلوں میں شرکت کرے وہ اللہ کے دین میں سستی کا شکار ہے، اور کسی مسلمان کے شرکت کرنے کی وجہ سے کفار کیلئے اپنے دین پر فخر کرنے کا باعث ہے، جس سے انکے دل کفر پر اور مضبوط ہو جاتے ہیں"انتہی۔

" مجموع فتاوى ابن عثيمين " ( 3/110)

اور اگر آپ انکے ساتھ غیر مذہبی محفلوں میں شرکت کرتے ہیں جن میں ناچ گانا، موسیقی ، عریانی اور مرد وزن سب یکجا جمع ہوتے ہیں تو ان محفلوں جانا بھی حرام ہے۔

اور اگر آپ ان کے ساتھ اس کے علاوہ کسی لیکچر کو سننے کیلئے جاتے ہیں جس میں کوئی حرام کام نہیں ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس میں بھی آپ محتاط رہیں کہ کفار کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے آپ کہیں اور بھی نکل سکتے ہیں، اس لئے اچھے مسلمانوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالی آپکو ہر اچھے کام کیلئے توفیق دے .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments