78578: امام افطارى گھر كرنے كے ليے نماز مغرب مسجد ميں ادا نہيں كرتا !


ہم ايسے علاقہ ميں ہيں جہاں امام مغرب كى نماز نہيں پڑھاتا، كيونكہ وہ افطارى كے ليے گھر چلا جاتا ہے، چنانچہ اس كا حكم كيا ہے، كہيں ہم گنہگار تو نہيں ہو رہے ؟
يا پھر ہم گھر ميں نماز كريں تو ہمارى جماعت شمار ہو گى ؟

الحمد للہ:

اول:

مسلمان شخص پر واجب ہے كہ وہ اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتے ہوئے نماز پنجگانہ باجماعت مسجد ميں ادا كرے، ليكن اگر سويا ہوا يا پھر مرض وغيرہ كى بنا پر معذور ہو.

آپ مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 8918 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور خاص كر رمضان المبارك ميں عام مسلمانوں ميں مغرب كى نماز ميں كوتاہى بڑھ جاتى ہے، امام كو چاہيے كہ وہ نماز كے وقت نمازيوں سے پہلے حاضر ہو، يہ جماعت كے وجوب كے علاوہ اور سبب كى بنا پر ہے، وہ ہے كہ اسے اس امانت كى ادائيگى كرنى چاہيے جو اس كے ذمہ لگائى گئى ہے، يا پھر وہ ڈيوٹى جو اس كے ذمہ لگائى گئى ہے اسے پورا كرے.

اگر يہ امام مغرب كى نماز مسجد ميں ادا كرنے ميں كوتاہى برتتا ہے تو اس كا يہ معنى نہيں كہ آپ لوگ گنہگار ہو رہے ہيں، يا پھر آپ كے ليے مسجد چھوڑ كر گھروں ميں نماز ادا كرنا جائز ہو جاتا ہے، بلكہ آپ پر نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنا واجب ہے، چاہے امام نہ بھى آئے.

كيونكہ ہر انسان كا حساب اس كے اعمال كے مطابق ہوگا، اگر وہ غلطى كرتا ہے تو آپ اچھا عمل كريں، اور برائى سے اجتناب كريں، تا كہ اسلام كے اس شعار كى حفاظت ہو جو دين اسلام كا ايك ركن ہے.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى كہتے ہيں:

( جسے يہ بات اچھى لگتى ہے كہ وہ كل اللہ تعالى كو مسلمان ہو كر ملے تو اسے يہ نمازيں وہاں ادا كرنے كا التزام كرنا چاہيے جہاں اذان ہوتى ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے تمہارى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے سنن الھدى مشروع كيں، اور يہ سنن الھدى ميں سے ہيں، اگر اپنے گھر ميں پيچھے رہنے والے شخص كى طرح تم بھى اپنے گھروں ميں نماز ادا كرو تو تم نے اپنے نبى كى سنت كو ترك كر ديا، اور اگر تم اپنے نبى كى سنت ترك كرو گے تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص بھى اچھى طرح وضوء كر كے ان مساجد ميں سے كسى ايك مسجد جائے تو ہر قدم كے بدلے اللہ تعالى ايك نيكى لكھتا اور ايك درجہ بلند كرتا، اور اس كى بنا پر ايك برائى كو مٹاتا ہے، ہم نے ديكھا كہ منافق جس كا نفاق معلوم ہوتا وہى اس سے پيچھے رہتا، ايك شخص كو لايا جاتا اور وہ دو آدميوں كے درميان سہارا لے كر آتا اور اسے صف ميں كھڑا كر ديا جاتا )

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

ميں نماز باجماعت كے ليے آنے والے كى قدرت ركھنے والے كو رخصت نہيں ديتا، الا يہ كہ كوئى عذر ہو.

ديكھيں: الام ( 1 / 277 ).

اور ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

سنت نبويہ پر غور كرنے والا جب حقيقى غور كرے تو اسے يہ ظاہر ہو گا كہ مساجد ميں نماز باجماعت كى ادائيگى فرض عين ہے، مگر كسى عذر كى بنا پر جمعہ اور نماز باجماعت ترك كرنا جائز ہے، چنانچہ بغير كسى عذر كے مسجد ميں نہ جانا بغير كسى عذر كے اصل جماعت كو ترك كرنے جيسا ہى ہے، تو اس طرح سب احاديث اور آثار جمع ہو جاتے ہيں.

پھر ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

ہم يہ عقيدہ ركھتے ہيں كہ بغير كسى عذر كے كسى كے ليے بھى مسجد ميں نماز باجماعت سے پيچھے رہنا جائز نہيں.

ديكھيں: كتاب الصلاۃ ( 166 ).

دوم:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ اور راہنمائى بہترين اور كامل تھا؛ كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تازہ كھجور كے ساتھ روزہ افطار كرتے، اور اگر تازہ كھجور نہ ملتى تو پھر كھجور كے ساتھ، اور اگر وہ بھى نہ ملتى تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم پانى سے روزہ افطار فرما ليتے، اور پھر نماز مغرب كے ليے كھڑے ہو جاتے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز سے قبل چند رطب ( تازہ اور آدھى كچى كھجوروں ) سے روزہ افطار كرتے، اور اگر رطب نہ ہوتيں تو پھر مكمل پكى ہوئى كھجور كے ساتھ، اور اگر پكى ہوئى كھجوريں بھى نہ ہوتيں تو پانى كے چند گھونٹ پى ليتے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 632 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يہ امام جو كچھ كر رہا ہے وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ كے خلاف ہے، چنانچہ آپ اسے نصيحت كريں ہو سكتا ہے وہ سيدھى راہ پر واپس پلٹ آئے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments