Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
8015

مسلمان شخص ایک ھندو لڑکی سے محبت کی بنا پر شادی کرنا چاہتا ہے

میرا ایک دوست ایک ھندو لڑکی سے محبت کرتا ہے ، اس لیے کہ اس کے خاندان والے آرتھوڈکس عیسائی ہیں اوروہ اس کے مخالف ہيں ، توکیا اگر میں نے اس لڑکی سے شادی کرانے میں اس نوجوان کا تعاون کیا تو گنہگار ہوں گا ؟

الحمد للہ
کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہيں کہ وہ غیر مسلم عورت سے شادی کرے صرف وہ اہل کتاب یھودی اورعیسائي عورت سے شادی کرسکتا ہے ، اگر اس نے ان کے علاوہ کسی اورغیر مسلم سے شادی کی توان کا نکاح باطل ہے ، بلکہ وہ نکاح نہیں بے حیائي ہوگي اورایسا کرنے وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا ۔

اس کی دلیل مندرجہ ذيل اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ سب پاکیزہ چيزیں آج تمہارے لیے حلال کردی گئيں اوراہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لیے حلال ہے ، اورتمہارا ذبیحہ ان کے حلال ہے ، اورپاک دامن مسلمان عورتیں اورجولوگ تم سے پہلے کتاب دیۓ گئے ہيں ان کی پاک دامن عورتيں بھی حلال ہيں ، جب کہ تم ان کے مہر ادا کردو ، اس طرح کہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کرو یہ نہیں کہ علانیہ زنا کرو یاپوشیدہ بدکاری کرو } المائدۃ ( 5 )۔

اللہ تعالی نے اس آیت میں مومن پاکدامن عورتیں اوراہل کتاب میں سے پاکدامن عورتیں حلال کیں ہیں ۔

امام طبری رحمہ اللہ تعالی اس آيت کی تفسیر میں کہتے ہیں :

{ اورتم سے پہلے جو لوگ کتاب دیۓ گئے ہيں ان کی پاکدامن عورتیں } یعنی جنہیں کتاب دی گئي ہے اور وہ یھود نصاری جنہوں نے تورات اورانجیل میں بیان کیے گئے دین کواپنا دین بنایا { تم سے قبل } اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے عرب اورباقی سب لوگو اگرتم بھی ان سے نکاح کرلو { جب تم انہيں ان کے مہر ادا کردو } یعنی جب تم اپنے اوران میں سے پاکدامن عورتوں سے نکاح کرو اوران کے مہر ادا کردو ۔ تفسیر طبری ( 6 / 104 ) ۔

تواس طرح کسی بھی مسلمان کے لیے نہ تومجوسی اورنہ ہی ھندو ، اورنہ ہی کیمونیسٹ ، اوربت پرست ، وغیرہ کسی بھی عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں ، اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورتم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو حتی کہ وہ ایمان لے آئيں ، اورمومن لونڈي مشرک آزاد عورت سے بہتر ہے اگرچہ مشرکہ تمہیں پسند ہی کیوں نہ ہو } البقرۃ ( 221 ) ۔

لھذا اس بنا پر آپ کے لیے جائز نہیں کہ آپ اپنے دوست کی ھندو لڑکی سے شادی کرانے میں مدد وتعاون کریں جوکہ ایک معصیت ہے ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ نیکی اور پرہيزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہو اورگناہ اورظلم وزيادتی میں مدد نہ کرو } المائدۃ ( 2 ) ۔

بلکہ آپ پر ضروری ہے کہ آپ اسے نصیحت کریں کہ وہ اس ھندو لڑکی کواسلام کی دعوت دے اوراسے یہ بیان کرے کہ اللہ تعالی نے اس کے ساتھ نکاح حرام کیا ہے لیکن اسلام لانے کی صورت میں نکاح ہوسکتا ہے ، اگر تووہ اسلام قبول کرتی ہے تو وہ اس سے شادی کرلے ، اوراگروہ اپنے دین ھندو مت پر ہی قائم رہنے پر مصر ہو تو وہ اللہ تعالی کا خوف رکھتے ہوئے اس سے شادی نہ کرے بلکہ اسے صبر سے کام لینا چاہیے اللہ تعالی اس کے عوض میں اسے کوئي بہتر عطا فرمادے گا اس لیے کہ :

( جوکوئي بھی اللہ تعالی کے لیے کسی چيز کوترک کرتا ہے اللہ تعالی اسے اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے ) ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اوراس کی ھدایت نصیب فرمائے ، اور ہمیں ہر قسم کی گمراہی سے بچائے ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments